سپیشل رپورٹ

صلاح الدین ایوبی کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے والے حشاشین کون تھے ؟

حشاشین کو انگریزی زبان میں Assassins اور عربی زبان میں باطنیان کہتے ہیں ۔ یہ ایک دہشت پسند اور خفیہ جماعت تھی جس کی بنیاد اسماعیلی فرقے کے حسن بن صباح نے رکھی۔ اور ان کا مرکز الموت میں قلعہ الموت تھا۔ اس جماعت کا خاتمہ ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔ جس نے قلعہ الموت کو فتح کرکے حسن بن صباح کے آخری جانشین رکن الدین کو گرفتار کر لیا اور ہزاروں فدائیوں کو بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا۔

کہا جاتا ہے کہ اس جماعت کے فدائین کو اگر انہیں خودکُش حملہ آور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا یہ لوگ ہمیشہ زہر آلود خنجر سے مسلح رہتےتھے ۔ چنانچہ ان کا شکار معمولی سا زخمی ہونے کی صورت میں بھی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا اور حملہ آور گرفتاری سے بچنے کے لیے اسی زہریلے خنجر سے خودکشی کر لیتا۔ کئی جلیل القدر علمائے اعلام، حکومتی عمال، حتیٰ کہ امرا و وزرا ان کا شکار بنے۔ وزیر نظام الملک طوسی کو بھی انہی کے ایک ساتھی نے قتل کیا۔ ان کا نیٹ ورک تمام عمال، امرا، وزرا سمیت خلیفہ کے محلات تک پھیلا ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ خوف و دہشت کی علامت بن گئے۔

حشاشین کی ابتدا کے 1080ء کے لگ بھگ شواہد ملتے ہیں۔ حشاشین کے ماخذ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ایک دشوار کام ہے کیونکہ زیادہ تر معلومات ان کے مخالفین کے حوالے سے ہیں۔ اور 1256ء میں ہلاکو خان کے ہاتھوں قلعہ الموت کی فتح کے وقت اس تنظیم کے بارے میں معلومات بھی ضائع ہو گئیں۔ البتہ حسن بن صباح کے اس تنظیم کے بانی ہونے کے بارے میں شواہد ہیں۔

حسن بن صباح کی تنظیم میں درجہ بندیاں تھیں۔ اور اس کے ادبی کارکنان جن کو مہلک قاتلوں کی حیثیت سے تربیت دی جاتی تھی انہیں فدائی کہا جاتا تھا جو حشاشین کے نام سے مشہور تھے۔ یہی لفظ حشاشین انگریزی لفظ (Assassins) کی بنیاد ہے۔

تنظیم کے حشاشین نام کی وجہ یہ تھی کہ حسن بن صباح اپنے فدائیوں کو حشیش پلا کر انھیں فردوس کی سیر کراتا تھا۔ جو اس نے قلعہ الموت میں بنائی تھی۔ اور اس کے بعد ان فدائیوں سے مخالفیں کو قتل کرایا جاتا تھا۔

1174 میں اس وقت کے حشاشین حکمران سینان نے صلاح الدین ایوبی پر حملہ کروایا پر یہ حملہ ناکام ہوا۔ بعد ازاں 1176 میں دوبارہ حملہ کیا مگر اس بار یہ حملہ علامتی تھا اس کا مقصد صلاح الدین ایوبی کو حشاشین قلعے پر حملے سے روکنا تھا۔

ایک فدائی صلاح الدین کے خیمے میں داخل ہوا اور بستر کے قریب پھلوں کے ساتھ ایک خنجر رکھ گیا اور ایک خط جس میں دھمکی تھی کہ اگر اس نے قلعہ پر حملے کا ارادہ ترک نہ کیا تو اگلی بار وہ اسے قتل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button