دنیا

ایرانی جنگی بحری جہاز باب المندب پہنچ گئے، کیا غزہ جنگ اب بحیرہ احمر میں بھی لڑی جائے گی؟

حوثیوں کی جانب سے غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے حملے کے جواب میں بحیرہ احمر سے گذرنے والے بین الاقوامی بحری جہازوں پر گذشتہ ماہ شروع کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد بحیرہ احمر میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس حوالے سے ایک تازہ پیش رفت ایرانی جنگی بیڑے کا اس علاقے سے گذرنے کا واقعہ ہے۔

ایران کی ’تسنیم‘ نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی ڈسٹرائر "ایران البرز” آبنائے باب المندب کو عبورکرکے بحیرہ احمر میں داخل ہوگیا۔ اس موقعے پر اس کے ساتھ طویل فاصلے تک مار کرنے والے بحری کروز میزائلوں سے لیس فوجی جہاز "بوشہر” بھی تھا‘‘۔

نیم سرکاری ایجنسی نے پیر کے روز مزید کہا کہ ایرانی جنگی جہاز "2009 سے شپنگ لین کو محفوظ بنانے کے لیے” خطے میں کام کر رہے ہیں۔

اسی تناظر میں ایرانی امور کے ماہر مسعود الفک نے العربیہ/الحدث کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایران حوثیوں کے خلاف کسی بھی امریکی کارروائی کو اس وقت تک نہیں روک سکتا جب تک وہ جنگ کے لیے وسیع محاذ نہ کھول لے۔

انہوں نے بحیرہ احمر میں ایک ڈسٹرائر بھیجنے کے حوالے سے اس بات پر بھی زوردیا کہ تہران یہ فوجی توازن پیدا کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ایرانی حکام تنازع کو بڑھانا نہیں چاہتے اور انہوں نے بارہا اس بات کی تصدیق بھی کی ہے۔ حالانکہ ایران غزہ میں جاری جنگ میں حماس کا پرزور حامی تصور کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ”تمام اشارے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایران اب بھی جنگ کے ساتھ عملی طریقے سے نمٹ رہا ہے، تاہم وہ کھلم کھلا جنگ سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہے‘‘۔

بحیرہ احمر میں ہونے والے حملوں نے بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو جہازوں کا راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا جو عام طور پر باب المندب سے گزرتے ہوئے نہر سویز تک سفرکرتے ہیں۔ اس طرح انہیں ایک طویل سفر کرکے اپنی منزل تک پہنچنا پڑتا ہے جس سے ان کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔

امریکا اور حوثی باغیوں کے درمیان کل اتوار کو براہ راست فوجی تصادم کی کیفیت پیدا ہوئی جب امریکی بحریہ نے حوثیوں کی 3 کشتیوں کو غرقاب کر دیا اور ان کے عملے کو ہلاک کر دیا تھا۔

یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی حکام نے انکشاف کیا کہ حوثی مراکز کے خلاف مخصوص حملے شروع کرنے کا منصوبہ ہے جس میں بحری جہازوں پر حملوں میں استعمال ہونے والی کشتیوں کے لیے لانچ سائٹس شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button