Column

وقت وقت کی بات ہے

آصف علی درانی
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ سوشل میڈیا نہیں تھا، تو زندگی کتنی خوب صورت اور پر سکون تھی لوگ ملکی صورتحال سے اپنے آپ کو باخبر رکھنے کے لیے اخبار پڑھتے تھے، ریڈیو سنتے تھے۔ لوگ خاص کر نوجوان نسل لائبریری میں جاتے، وہاں پر کتابیں پڑھتے تھے۔ اُس وقت کے لوگوں کا لٹریچر کے ساتھ محبت تھا، مصنفین شوق سے لکھتے تھے کیونکہ پڑھنے والے تھے اور مصنف کے ذہن میں بھی یہ خیال تھا کہ میں جو کچھ لکھ رہا ہوں اس کو پڑھنے والے بھی موجود ہیں ۔ امریکی ناول نگار ’’ جان چیور ‘‘ نے کہا تھا I can not write without a reader. It’s precisely like a kiss you can’t do it alone. ’’ میں قاری کے بغیر نہیں لکھ سکتا۔ یہ بالکل ایک بوسے کی طرح ہے جسے آپ اکیلے نہیں کر سکتے‘‘۔
اگر لکھنے کی بات کریں تو مصنف اور قاری کا ایک گہرا رشتہ ہوتا ہے، کیونکہ جس وقت قاری تحریر، افسانہ، ناول، کالم جو کچھ بھی پڑھتا ہے تو زیادہ پڑھنے کے بعد دونوں قاری اور لکھاری کا سوچ ایک پوائنٹ پر برابر ہوجاتا ہے۔ قاری آسانی سے مصنف کی سوچ اور خیالات کو سمجھ سکتا ہیں، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ قاری اتنی گہرائی میں جاتا جہاں پر دونوں کے خیالات کچھ حد تک ایک ہوجاتے ہیں۔ جس نے کتابیں پڑھیں ہوں ان کو بہتر پتا ہوگا ۔ کوئی بھی کتاب پڑھنے کے لیے انسان کو تنہائی اور خاموشی درکار ہوتی ہے۔ تب ہی وہ آسانی سے مصنف کی لکھی ہوئی باتوں کو سمجھ سکتا ہے۔ کتاب پڑھنا اور اس کو سمجھنا آسان کام نہیں ہے، پرانے زمانے میں جب لکھاری لکھتا تھا تو اس کو پڑھنے والے بھی موجود تھے۔ اور باقاعدہ تحریر پڑھ کے ان کو ای میل یا خط کے ذریعے اپنا رائے بھیجتے تھے ۔ لیکن اچانک ایک تیز ہوا آئی ، اور اس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا آج ہر کسی کے ہاتھ میں موبائل فون ہے۔ اسی پانچ انچ کی الیکٹرانک آلے نے انسان کی زندگی تبدیل کر دی ۔ پرانے زمانے میں لوگ حجروں میں بیٹھتے تھے۔ اپنے بزرگوں سے کچھ سیکھتے تھے اُس زمانے کے لوگوں میں عزت ، ادب اور احترام تھا ، لیکن وہ لوگ آج کے دور میں بہت کم ہے ۔ اسی طرح اگر ڈرامے کی بارے میں بات کریں۔
تو ایک وقت تھا کہ شام کی وقت گھر میں سب مل کر ٹیلی وژن پر ڈرامہ دیکھتے تھے، نوجوان نسل کے ہاتھوں میں موبائل کی جگہ کتاب یا میگزین ہوتا تھا، ایک پیار کا رشتہ نوجوانوں اور کتاب کے درمیان تھا۔ کچھ وقت پہلے ایک بڑے عمر کی شخص سے گفتگو کر رہا تھا انہوں نے اپنی جوانی کے بارے میں بتایا کہ میرے دور میں ریڈیو سنی کا مزہ ہی الگ تھا، لوگ بہت شوق سے ریڈیو پروگرام سنتے تھے۔ بازار میں ہر دکاندار کی پاس ریڈیو تھا اور وہ پروگرامز کے وقت یاد رکھتے تھے۔ کہ اس وقت یہ یہ پروگرام نشر ہوگا۔ اس میں تفریح اور حالات حاضرہ کے پروگرام ہوتے تھے، کرنٹ افیئر پر سینئر اور قابل تجزیہ نگار گفتگو کیا کرتے تھے۔ مزید کہا کہ سنے والوں کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ کس طرح ان لوگوں سے ملے جو پروگرام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب میں ریڈیو سنتا تھا تو میرے دل و دماغ میں یہ خیال پیدا ہوتا کہ یہ بات کرنے والا کس طرح کا ہوگا میں ان سے کیسے ملوں گا۔ انہوں نے کہا کہ جب فون پر بات کرنے کا موقع ملتا تھا تو میں بہت خوش ہوتا کہ چلو کال پر تو بات ہوئی، ایک دن ملے گے بھی۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم شادی بیاہ یا بازار میں جاتے تھے اور وہاں پر باتوں سے ہم ریڈیو پروگرام کے میزبان کو پہچانتے اور پھر ان کے قریب جاتے اور خوشی خوشی ان سے پوچھتے کہ آپ ریڈیو پر پروگرام کرتے ہو، اس طرح ان کے ساتھ ہماری بات چیت ہوتی تھی۔ ایک پیار و محبت کا رشتہ ہمارے اور ان کے بیچ میں تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ ہوا نے حالات کا رخ بدلا اور سوشل میڈیا میدان میں آیا، اس نے بہت کم وقت میں بہت ترقی کر لی اور لوگ اس سوشل میڈیا جیسے لاعلاج مرض میں مبتلا ہوئے، اس سوشل میڈیا کی وجہ سے نوجوانوں نے کتاب کو زمین پر رکھ دیا اور موبائل کو جیب میں رکھا، اسی طرح لائبریری و کتابوں کو چھوڑ کر سوشل میڈیا پر ناچنا شروع کیا۔ آج کا نوجوان غم و خوشی ہر وقت موبائل میں مصروف رہتا ہے، دکھ کی بات یہ کہ ہمارے بچے اور بچیاں بولتی ہیں کہ وہ پرانا زمانہ ختم ہوگیا، یہ نیا دور ہے، یعنی ماڈرن دور، اب یہاں پر ایک بنیادی سوال میرے ذہن میں بھی ہے اور شاید یہ کالم پڑھنے والوں کی ذہن میں بھی پیدا ہوگا، یہ تو سب کو معلوم ہے کہ پرانے زمانے کے شادی بیاہ میں طوائفیں رات کو حجروں میں مردوں کے سامنے ناچتی تھیں اور شادی والے ان کو پیسے دیتے تھے، آج کے دور میں نوجوان لڑکیاں جب سوشل میڈیا پر ناچتی ہیں تو ہر ذی شعور شخص کے دل و دماغ میں سوال پیدا ہوگا کہ جس کو یہ لڑکیاں ماڈرن ازم کہتی ہیں، کیا یہ ماڈرن ازم ہے ؟۔ پرانے وقتوں میں لڑکیاں کالج اور یونیورسٹی میں پڑھنے کے لیے جاتی تھیں۔ اور ان میں یہ احساس ہوتا کہ میری زندگی اور تعلیم کے ساتھ میری فیملی کی بہت ساری امیدیں جڑی ہوئی ہیں، وہ شوق سے پڑھتی تھیں اور اپنی فیملی کا نام روشن کرتی تھیں، وہ کسی کی بڑی گاڑی، گائوں ، پیسوں اور کاروبار سے متاثر نہیں ہوتی تھیں بلکہ ان کی نظریں ہمیشہ اپنی منزل کی طرف ہوتی تھیں، لیکن آج ایسا نہیں ہے، میرے خیال میں آج یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اکثر لڑکیاں اور لڑکے صرف عشق و محبت اور عیش و عشرت کے لیے جاتے ہیں، آج کل کی لڑکیاں یونیورسٹیوں میں ڈانس کرتی ہیں اور پھر اس کو اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ پر اپ لوڈ کرتی ہیں ، کہتی ہیں کہ ہمارے فالورز بڑھیں اور زیادہ سے زیادہ لوگ سوشل میڈیا پر مجھے دیکھیں۔ صرف دو سیکنڈ کے لیے میں مان لیتا ہوں کہ آپ کو بہت سے لوگوں نے دیکھا، آپ کی ویڈیوز کو بہت سے لوگوں نے پسند بھی کیا، آپ کو کمنٹ سیکشن میں یہ بھی بتایا کہ آپ بہت خوب صورت ہیں، آپ کی ڈھیر ساری تعریف بھی کی، لیکن یہاں سوالات پیدا ہوتے ہیں ایک کہ اس سے کیا ہو جائے گا ؟ دوسرا کہ آپ تعلیمی ادارے میں کیوں آتی ہیں، یہ کام تو گھر میں بھی ہو سکتے ہیں، اگر دیکھا جائے تو یہ بھی میری نظر میں نفسیاتی بیماریوں میں سے ایک ہے کہ کوئی اپنے بیڈ روم سے لے کر کھانے اور کپڑوں تک دوسروں کو دکھائے۔ کہ میرے ساتھ یہ ہے، میرا مرتبہ سب سے بڑا ہے، میرے ساتھ سب کچھ ہے، لیکن میرے نزدیک ان سے جاہل شخص دنیا میں نہیں۔ یہ بھی ایک مسئلہ ہے ہمارے صحافیوں کو سیاسیات پر باتیں کرنے سے فرصت نہیں ملتی، ورنہ اس پر بات کرنا بھی ضروری ہے، اگر ہم اس مسئلے کی گہرائی میں جائیں تو اس میں قصوروار والدین بھی ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے بچوں کو کھلا چھوڑا ہے، والدین کو چاہیے کہ مہینے میں ایک بار تعلیمی ادارے میں جائیں اور اپنے بچوں سے متعلق ان کے اساتذہ کرام سے پوچھیں کہ میرا بیٹا یا بیٹی کلاس میں آتی ہے یا نہیں، والدین کا حق ہے کہ گھر میں بھی بچی سے تعلیم کے بارے میں پوچھیں اور اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان سے بات چیت کریں، اس سے یہ مسئلہ آہستہ آہستہ کم ہو جائے گا، آج کل ٹک ٹاک بہت عام ہے اور روکنے کا نام ہی نہیں لے رہا، ہر کوئی چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، ٹک ٹاک بناتا اور استعمال کرتا ہے، اس لاعلاج مرض میں اکثریت پاکستانی اور خاص کر نوجوان طبقہ مبتلا ہے، ٹک ٹاک کے حوالے سے ایک واقعہ یاد آیا کچھ روز قبل صبح کے وقت پبلک ٹرانسپورٹ میں جارہا تھا تو میرے ساتھ سیٹ پر ایک نوجوان بیٹھا تھا کالج یونیفارم بھی پہنا تھا اور ہاتھ میں موبائل تھا، ٹک ٹاک دیکھ رہا تھا اور کان میں بلو ٹوتھ بھی لگایا تھا، تقریباً تیس منٹ بعد میں بس سے اترنے والا تھا تو آگے لڑکیاں کچھ بیٹھی اور کچھ کھڑی تھیں، اکثر لڑکیوں کے ساتھ سکول بیگ تھے، جب میں نے دیکھا تو کچھ لڑکیاں کھڑے کھڑے موبائل فون استعمال کر رہی تھیں، خیر جب میں بس سے نیچے اترا تو سوچ رہا تھا کہ یہ پاکستان کا مستقبل ہے، یہ خاک تعلیم حاصل کریں گے، جس بندے یا بندی کے دن کی شروعات ٹک ٹاک سے ہوتی ہے تو وہ کالج یا یونیورسٹی میں کیسے پڑھائی کریں گے۔ موجودہ دور میں نوجوان نسل احساس کمتری کا شکار ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہمارے کالج میں فلاح کے پاس مہنگا فون ہے ، میرے پاس کیوں نہیں ہے، میرے پاس وہی چالیس ہزار کا فون ہے، اسی طرح لڑکیاں بھی اس بیماری میں اپنے آپ کو مبتلا کرتی ہیں کہ میری سہیلیاں روز چھٹی کے بعد اچھے ریسٹورنٹ میں جاتی ہیں لیکن میرے پاس نہ پیسے ہیں اور نہ کوئی مجھ سے دوستی کرتا ہے، لڑکیوں کو کسی سے متاثر ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ تعلیمی میدان میں مقابلہ کریں، پھر یہ لوگ جو ہر وقت کسی کی بھی دولت، کاروبار اور گاڑیوں سے متاثر ہوتے تھے اور ان کے پیچھے بھاگتے تھے، ہر وقت ان کے گیت گاتے تھے، وہ ایک دن ضرور اپنے ان کاموں پر افسوس کرینگے لیکن ان کے پاس وقت نہیں ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button