تازہ ترینخبریںپاکستان

جب موساد نے فلسطینی کمانڈر کی جگہ کسی اور کو غلطی سے قتل کر دیا

 

اسرائیل کی خفیہ تنظیم موساد کے ایجنٹوں نے ناروے میں رہنے والے ایک مراکشی کو فلسطینی تنظیم بلیک ستمبر کا رہنما سمجھتے ہوئے غلطی سے قتل کیا۔
العربیہ کے مطابق موساد کے ایجنٹوں کو جو ٹاسک ملا تھا اس کے تحت انہیں بلیک سمتبر تنظیم کے رہنما علی حسن سلامہ کو ٹھکانے لگانا تھا مگر اس کی جگہ انہوں نے مراکشی شہری احمد بوشیخی کو علی حسن سلامہ سمجھتے ہوئے قتل کر دیا

جرمنی کے شہر میونخ میں سنہ 1972 میں سمر اولمپکس گیمز کے دوران فلسطینی تنظیم بلیک ستمبر کی جانب سے پانچ اور چھ ستمبر کو متعدد اسرائیلی کھلاڑیوں کو اغوا کر لیا گیا تھا۔
ان کا مطالبہ تھا کہ مغوی کھلاڑیوں کے بدلے میں اسرائیل کی جیلوں میں قید فلسطینیوں کو رہا کیا جائے۔
مغویوں کو رہا کرانے کی کارروائی میں 11 اسرائیلی کھلاڑی، پانچ اغوا کار اور دو جرمن پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔
موساد نے اس ناکام کارروائی کا انتقام لینے کے لیے فلسطینی اغواکاروں کے خلاف بڑا آپریشن لانچ کیا۔ ان اہم فلسطینی رہنماؤں میں علی حسن سلامہ بھی شامل تھے۔
مشابہت کی غلطی
سنہ 1973 کے موسم گرما میں اسرائیلی ایجنسی کو اطلاع ملی کہ بلیک ستمبر کے اہم رہنما اور ہائی ویلیو ٹارگٹ علی حسن سلامہ ناروے کے شہر للی ہیمر میں موجود ہیں جو ایک ریستوران میں ویٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
موساد کے آپریشنل ونگ نے اطلاع ملتے ہی فوری طور پر اپنے 15 ایجنٹوں کو ناروے روانہ کیا تاکہ وہ علی حسن سلامہ کو ٹھکانے لگا سکیں۔ اسی دوران موساد کے ڈائریکٹر زفی زمیر جو اس آپریشن کے نگران بھی تھے، خود بھی ناروے روانہ ہو گئے تاکہ آپریشن کی براہ راست نگرانی کر سکے۔
للی ہیمر ایک چھوٹا سا شہر تھا اوراس وقت اس کی آبادی بھی بے حد کم تھی، اور یہاں آنے والے اجبنی فوری طور پر پہچانے جاتے تھے۔ ان حالات میں اچانک بڑی تعداد میں غیرملکیوں (موساد کے ایجنٹوں) کی آمد نے لوگوں کو پریشان کر دیا۔
حالات کو دیکھتے ہوئے شہر کی پولیس کو بھی چوکنا ہونا پڑا اورانہوں نے موساد کے ایجنٹوں کی نگرانی شروع کر دی۔

موساد کے ایجنٹوں نے اطلاعات کے مطابق اپنے ہدف پر نگاہ رکھنی شروع کر دی مگر وہ اس بات سے لاعلم تھے کہ جسے وہ اپنا ہدف سمجھ رہے ہیں وہ علی حسن سلامہ نہیں بلکہ مراکشی شہری احمد بوشیخی ہیں۔
یہاں موساد کے ایجنٹوں کو ایک اور بڑی غلط فہمی یہ ہوئی کہ جب انہوں نے اپنے ٹارگٹ کو روانی سے فرانسیسی زبان میں بات کرتے سنا تو انہیں یقین ہو گیا کہ یہی علی حسن سلامہ ہے کیونکہ شکل و صورت اورجسمانی قد و کاٹھ میں یکسانیت کے بعد جو دوسرا ثبوت ان کے ہاتھ لگا تھا وہ مختلف زبانوں میں ان کی مہارت تھی۔
موساد کے ایجنٹوں نے بوشیخی کی ریکی شروع کر دی کہ وہ کب فلیٹ سے نکلتے ہیں اور ان کی دن بھر کی مصروفیت کیا رہتی ہیں۔
غلط قتل
21 جولائی 1973 کی ایک گرم رات کو احمد بوشیخی اپنی اہلیہ کے ہمراہ رات کو شو دیکھنے کے بعد بس سٹینڈ پر پہنچے جہاں وہ اپنی مطلوبہ بس کے ذریعے رہائشی کالونی کے قریبی سٹاپ پر اتر گئے۔ میاں بیوی نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ پیدل ہی گھر جائیں گے۔ ابھی وہ کچھ دور ہی گئے تھے کہ اچانک ایک سیاہ کار ان کے قریب پہنچی جس میں دو افراد سوار تھے جنہوں نے گرم موسم کے باوجود اوورکوٹ پہنے ہوئے تھے، جس کے لمبے کالروں کو انہوں نے کھڑا کیا ہوا تھا۔
کار سے اترنے والے دونوں افراد دراصل موساد کے ٹارگٹ کلر تھے۔ انہوں نے سنسان سڑک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بوشیخی جسے وہ بلیک ستمبر کے علی حسن سلامہ سمجھ رہے تھے، پر فائر کھول دیا۔ 30 سالہ احمد بوشیخی کو 13 گولیاں لگیں اور انہوں نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔

اپنی دانست میں کامیاب واردات کرتے ہی موساد کے دونوں ایجنٹ وہاں سے غائب ہو گئے مگر وہ اس حقیقت سے واقف نہیں تھے کہ جس ٹارگٹ کو انہوں نے قتل کیا ہے وہ اصل میں کوئی اور ہے۔ اس کا اعتراف بعدازاں موساد نے کیا تھا کہ ان کے ایجنٹوں سے شناخت کی غلطی ہوئی اور انہوں نے شکل و صورت سے مشابہت کی بنیاد پر کسی اور کو قتل کر دیا تھا۔
قتل کی واردات کی رپورٹ ناروے کی پولیس نے درج کی اورنامعلوم قاتلوں کی تلاش شروع کر دی گئی۔ ناروے کی پولیس نے پہلے ہی موساد کے ایجنٹوں پر نگاہ رکھی ہوئی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے چھ ایجنٹوں کو گرفتار کر لیا۔
گرفتار ہونے والے مذکورہ افراد کیونکہ براہ راست قتل کی واردات میں ملوث نہیں پائے گئے تھے اس لیے انہیں ایک سے پانچ برس تک کی قید کی سزا کا حکم سنا دیا گیا، مگر اس دوران وہ دونوں قاتل فرار ہونے میں کامیاب ہو چکے تھے۔
اس واردات کے کئی برس بعد موساد کے ایجنٹ اصلی علی حسن سلامہ کی شناخت کرنے میں کامیاب ہو گئے جنہیں بالآخر جنوری 1979 کو بیروت میں قتل کر دیا گیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button