تازہ ترینخبریںدنیا

اسرائیلی فوج کا سمندری پانی سے غزہ کی سرنگوں کو غرق کرنے کا منصوبہ

حماس اور اسرائیل کے درمیان میدان جنگ غزہ میں جنگجوؤں کی طرف سے تیار کی گئی سرنگیں ایک بار پھر توجہ کا مرکزہیں کیونکہ اسرائیلی فوج نے سمندری پانی سے سرنگوں کو غرق کرنے کا نیا منصوبہ تیار کیا ہے۔

تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج بدھ کے روز غزہ کی پٹی کے نیچے حماس کے زیر استعمال سرنگوں کو سمندری پانی سے بھرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

اخبار ’ڈیلی میل‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے ساحل سمندر کے پناہ گزین کیمپ کے شمال میں تقریباً ایک میل کے فاصلے پر کم از کم 5 پمپوں کی تنصیب مکمل کر لی ہے، جو فی گھنٹہ ہزاروں کیوبک میٹر پانی کو منتقل کر سکتے ہیں۔ یعنی وہ سرنگوں کے 300 میل کے نیٹ ورک کو ہفتوں کے اندر اندر بھر سکتے ہیں۔

اس کا مقصد حماس کے جنگجوؤں کو سرنگوں سے نکالنا ہے اور بحیرہ روم کے پانی سے سرنگوں کے نظام کو سیلاب میں بہا کر انہیں ناقابل عمل بنانا ہے۔

اگرچہ اسرائیل باضابطہ طور پرتسلیم کرتا ہے کہ "سرنگوں کو پانی میں ڈبونے ” کا خیال اچھا ہے، لیکن اس نے اپنے درجنوں قیدیوں کی قسمت کا کبھی ذکر نہیں کیا جو ابھی تک حماس کے ہاتھ میں ہیں۔

جنگ بندی کے خاتمے اور کچھ قیدیوں کے تبادلے کے بعد حماس کی طرف سے رہا کیے گئے قیدیوں نے گذشتہ منگل کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ اسرائیلی میڈیا نے اس ملاقات کو متنازع قرار دیا۔

اسرائیلی جنگی حکومت کے ساتھ یہ ملاقات اس وقت طے کی گئی جب حماس کی تحویل میں باقی 138 قیدیوں کے لواحقین نے یہ جاننے کا مطالبہ کیا کہ حکومت گذشتہ جمعہ کو جنگ بندی معاہدے کے خاتمے کے بعد ان کی بازیابی کے لیے کیا کر رہی ہے۔

کابینہ کے سامنے اپنی تقریر میں متعدد قیدیوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے زیر حراست علاقوں کو اسرائیلی فضائی حملوں میں بمباری سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ اجلاس میں اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کی جانب شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

ان میں سے ایک نے نیتن یاہو سے کہا کہ "آپ انٹیلی جنس معلومات رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ ہم پر بمباری کی گئی۔ دوسرے نے حکومت پر قیدیوں کی واپسی کو ترجیح دینے میں ناکام ہونے کا الزام لگایا۔

اس ملاقات میں حماس کو ختم کرنے کے اسرائیل کے اہداف میں مصالحت کی دشواری کا انکشاف ہوا، کیونکہ اسرائیلی رہ نماؤں کا کہنا ہے کہ حماس اس وقت تک مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آئے گی جب تک کہ اسرائیل مزید فوجی دباؤ نہیں ڈالے گا۔

تاہم نیتن یاہو نے ملاقات کے بعد کہا کہ وہ ان خاندانوں کے خدشات سے آگاہ ہیں جن کے پیارے ابھی تک غزہ میں نظر بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارے تمام یرغمالیوں کو وطن واپس لوٹانا ان تین اہم مقاصد میں سے ایک ہے جو ہم نے جنگ کے لیے مقرر کیے ہیں۔ یہ اہداف ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں”۔

جہاں تک سرنگوں میں پانی داخل کرنے کا تعلق ہے اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ یہ حربہ اسرائیل کو سرنگوں کو تباہ کرنے اور ان کے اندر چھپے حماس کے کسی بھی جنگجو کو مارنے کے قابل بنائے گا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا اسرائیل اپنے تمام قیدیوں کو زندہ بازیاب کرانے سے پہلے سرنگوں میں پانی پمپ استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے، کیونکہ سرنگوں میں پانی داخل ہونا لا محالہ قیدیوں کے لئے مہلک ثابت ہوگا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ حماس کے جنگجو مضبوط سرنگوں کے ایک پیچیدہ نیٹ ورک میں کام کرتے ہیں، جن میں سے کچھ 40 فٹ زیر زمین ہیں۔ ان میں جنگجو گھات لگا کریا چھپ کر حملہ کرسکتے ہیں۔ وہ بوبی ٹریپ اور دھماکہ خیزمواد نصب کرکے دھماکہ کرسکتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل غزہ پر جس طرح چاہے بمباری کر سکتا ہے اور کچھ سرنگوں کو صاف کرنے کے لیے بنکر چھیدنے والا گولہ بارود چلا سکتا ہے لیکن اسرائیلی فوج کو پھر بھی "غزہ میٹرو” پر حملہ کرنے کے لیے ہزاروں فوجیوں کو تعینات کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ حماس کے ہر جنگجو کو قتل کیا جا سکے۔

زیر زمین لڑائی ایک مہلک کارروائی کے طور پر بھی جانی جاتی ہے خاص طور پر جب اسرائیلی فوجی بھاری ہتھیاروں سے لیس حماس کے جنگجوؤں کے خلاف لڑ رہے ہیں جو ہر چھپنے کی جگہ کو جانتے ہیں اور انہیں راکٹوں، دستی بموں اور رائفلوں کے ذخیرے تک رسائی حاصل ہے۔

جہاں غزہ کے نیچے سرنگوں کو سمندری پانی سے بھرنے کا مشن وہاں چھپے حماس کے جنگجوؤں کو ختم کر سکتا ہے، وہیں اس سے حماس کے زیر حراست 138 قیدیوں کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button