تازہ ترینخبریںسپیشل رپورٹ

تنہا کرنے کی امریکی کوششیں ناکام، اسرائیل حماس جنگ کا ایجنڈا لے کر روسی صدر ابوظبی پہنچ گئے

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے تنہا کرنے کی امریکی اور یورپی کوششیں ناکام بناتے ہوئے اسرائیل حماس جنگ اور تیل کا ایجنڈا لے کر ایک نہایت غیر معمولی غیر ملکی دورے پر نکلنے کا قصد کر لیا ہے۔

روسی صدر پیوٹن آج بدھ کے روز ایک غیر معمولی غیر ملکی دورے پر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب پہنچنے والے ہیں، جس کا مقصد تیل کے شعبے میں تعاون کو تقویت دینا اور امریکا اور یورپ کی جانب سے انھیں تنہا کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کرنا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے گزشتہ روز منگل کو کہا تھا کہ دو طرفہ بات چیت میں غزہ میں اسرائیل اور حماس کی جنگ اور تیل کی منڈی میں تعاون پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

اگرچہ یورپ اور امریکا نے یوکرین کے ذریعے روس کو مشرقی یورپ میں پھنسا دیا ہے، اور اس پر ’جارحیت‘ کے لیے عالمی پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں لیکن روس کا واضح مؤقف ہے کہ یوکرین معاملہ اس کی سلامتی کا معاملہ ہے، اور اس نے واشنگٹن کے ’نیو ورلڈ آرڈر‘ کی نوعیت کو مسترد کرتے ہوئے ایک طرف شمالی ایشیا میں چین اور نارتھ کوریا کے ساتھ اور دوسری طرف خلیج اور مشرق وسطیٰ میں یو اے ای اور سعودی عرب جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات کو نئے سرے پر استوار کرنے کا تاریخی قدم اٹھایا۔

پیوٹن خلیج اور مشرق وسطیٰ کی دیگر ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو تقویت دینے کی مہم کے ذریعے ماسکو کو تنہا کرنے کی مغربی کوششوں کو ناکام بنا رہے ہیں، بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے مارچ میں پیوٹن پر یوکرینی بچوں کو ملک بدر کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے تھے، جس کے بعد روسی رہنما نے زیادہ بین الاقوامی دورے نہیں کیے۔ آئی سی سی کے معاہدے پر نہ تو متحدہ عرب امارات اور نہ ہی سعودی عرب نے دستخط کیے ہیں، اس لیے اگر ولادیمیر پیوٹن ان کے علاقوں میں داخل ہوتے ہیں تو ان ممالک کو انھیں گرفتار نہیں کرنا پڑے گا۔

ایک طرف روس نے امریکی صدر جو بائیڈن کے اس بیان پر کہ ’’واشنگٹن کو ایک نئے عالمی نظام میں محرک قوت ہونا چاہیے‘‘ شدید تنقید کی اور یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ’’اس طرح کا امریکی مرکوز ورژن پرانا ہو چکا ہے‘‘ دوسری طرف نئے عالمی نظام کی ضرورت پر اتفاق کرتے ہوئے یہ کہا کہ ’’عالمی حکمرانی کے کسی بھی میکانزم کو کسی ایک ریاست کے ہاتھوں میں مرکوز نہیں ہونا چاہیے، بلکہ آزاد ہونا چاہیے۔‘‘ نئے عالمی نظام کو لے کر ولادیمیر پیوٹن کی سوچ بالکل واضح دکھائی دے رہی ہے، وہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مقابل ایک نئے عالمی بلاک کی تشکیل کر رہے ہیں، جس کے خال و خد تیزی سے واضح ہوتے جا رہے ہیں۔

اس خال و خد کو ہم ایک طرف پیوٹن کے چین کے دورے اور شمالی کوریا کے کم جونگ اُن جیسے ’تنہائی پسند‘ رہنما کے روسی دورے میں دیکھ سکتے ہیں، شمالی ایشیا کی یہ دونوں قوتیں امریکا کے ساتھ تناؤ سے بھرے تعلق کو لے کر ڈٹی ہوئی ہیں۔ دوسری طرف روسی صدر مشرق وسطیٰ میں ایک اہم ثالثی کردار کے ساتھ عالمی منظرنامے پر نمودار ہو رہے ہیں۔ جہاں تمام مشرق وسطیٰ اس وقت غزہ میں نیتن یاہو کی صہیونی ریاست کی وحشیانہ کارروائیوں کو مستقل طور پر روکنے کی جدوجہد میں مصروف ہے، لیکن امریکا اور چند یورپی ممالک کی خاموش شہ پر خونی صہیونی وزیر اعظم حماس کے خاتمے کے دعوے کی آڑ میں غزہ کو کھنڈر بنا کر اسے فلسطینیوں سے بالکل خالی کرنے کے گھناؤنے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

ولادیمیر پیوٹن نے اکتوبر میں اسرائیل اور دنیا کو فلسطینیوں کے ناقابل یقین اور ناقابل قبول قتل عام سے خبردار کیا تھا، انھوں نے زمینی فوج کی جانب سے غزہ کا محاصرہ لینن گراڈ (سینٹ پیٹرزبرگ) کے محاصرے سے مشابہ قرار دیا جب نازی جرمنی نے تقریباً 900 دنوں تک مسلسل حملے میں تقریباً 10 لاکھ روسیوں کو ہلاک کیا تھا۔ انھوں نے اس موقع پر نہ صرف فوری طور مشرق وسطیٰ میں مذاکرات کا مطالبہ کیا بلکہ ثالثی کی پیش کش بھی کی۔ پیوٹن نے کہا ’’اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کی کلید ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔‘‘

پیوٹن نے جس خدشے کا اظہار کیا تھا، بے رحم صہیونی فورسز نے اسے حقیقت میں بدل دیا، اور دہ ماہ کے قلیل عرصے میں 15 ہزار سے زائد جانوں کو بے دردی سے قتل کر دیا، جس میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ ولادیمیر پیوٹن نے اس ’’نام نہاد جنگ‘‘ کو امریکی سفارت کاری کی ناکامی قرار دیا۔ ان کا یہ مؤقف ہے کہ واشنگٹن نے فلسطینیوں کے لیے معاشی ’’خیرات‘‘ کا انتخاب کیا اور فلسطینی ریاست کے قیام میں مدد کی کوششوں کو ترک کر دیا۔ جہاں تک ثالثی کے کردار کا تعلق ہے تو بلاشبہ ماسکو اسرائیل اور فلسطینیوں دونوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی وجہ سے ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے، اور کوئی بھی ماسکو پر ایک فریق کی طرف جھکاؤ کا شک نہیں کر سکتا۔

اب روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن آج سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ایک روزہ دورے پر ابوظبی پہنچ گئے ہیں، جس میں وہ پہلے امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان اور ریاض میں سعودی ولئ عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ اہم ملاقاتیں کریں گے۔

پیوٹن ماضی کی نسبت اب مشرق وسطیٰ میں زیادہ بااثر کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں، اسرائیل حماس جنگ ہو یا تیل کی پیداوار، دونوں ایسے نازک معاملات ہیں جن سے پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے۔ اوپیک نے تیل کی پیداوار میں کٹوتی کر کے پہلے ہی امریکا سمیت باقی دنیا کو تیل کی بڑھتی قیمتوں کے سلسلے میں ’پریشان‘ کر رکھا ہے، ایسے میں عالمی پابندیوں کے بیچ میں سے سہولت کے ساتھ گزرتے ہوئے روسی صدر کی آمد امریکا و اتحادیوں کے پسندیدہ ’نیو ورلڈ آرڈر‘ کے لیے دھچکے سے کم نہیں ہے۔

لطف کی ایک اور بات یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے دورے کے اگلے ہی دن ولادیمیر پیوٹن ماسکو میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی میزبانی کریں گے۔ یعنی اسرائیل حماس جنگ اور مغربی ایشیا کے دیگر تزویراتی مسائل کے تناظر میں بھی ماسکو امریکا کے ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کے متوازی ایک عالمی سیاسی و معاشی نظام کے خال و خد کی تشکیل کے لیے ان دنوں پوری طرح متحرک ہیں، وہ نظام جس میں ماسکو چاہتا ہے کہ ہر ملک کی سلامتی یقینی ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button