Column

آٹھویں قومی اہل قلم کانفرنس اور چار آدمی!

تحریر : رائو غلام مصطفیٰ
آٹھویں قومی اہل قلم کانفرنس برائے ادب اطفال کا انعقاد ایشیاء کے سب سے بڑے ادارے فائونٹین ہائوس لاہور میں ہوا۔ کانفرنس میں ملک بھر سے لکھاریوں، ادبائ، شعراء کرام اور علمی و ادبی شخصیات ایک بڑی تعداد میں شریک ہوئیں۔ بلا شبہ اس کامیاب کانفرنس کے انعقاد کا سہرا بچوں کے مقبول عام ماہنامہ پھول میگزین کے مدیر، کالم نگار محترم محمد شعیب مرزا اور فائونٹین ہائوس لاہور کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سید عمران مرتضیٰ کے سر سجتا ہے، جنہوں نے فائونٹین ہائوس کے پروفیسر ڈاکٹر رشید چودھری آڈیٹوریم میں اہل قلم کی مجلس سجا کر فائونٹین ہائوس کی تاریخ بدل کے رکھ دی۔ ماہنامہ پھول میگزین کے مدیر، مصنف، کالم نگار بچوں کے ادب کے فروغ کے لئے محنت، لگن اور صادق جذبوں کے ساتھ کوشاں ہیں انہوں نے ہمیشہ وقت اور حالات کی کروٹوں سے جنم لینے والے تقاضوں کے ہم آہنگ ہو کر بچوں کے ادبی مسائل کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ ادبی کانفرنسوں اور قلم کے ذریعے ٹھوس عملی اقدامات بھی اٹھائے۔ ماہ نومبر کے وسط میں ہونے والی آٹھویں قومی اہل قلم کانفرنس میں بچوں پر لکھی جانے والی کتابوں کے بہترین مصنفین کو حسب روایت تسنیم جعفری ایوارڈ کیش پرائز اور قیمتی تحائف سے نوازا گیا۔ ایک روزہ یہ کانفرنس تین سیشن پر مشتمل تھی پہلے سیشن کے آغاز سے قبل کانفرنس میں شریک شرکاء کو فائونٹین ہائوس لاہور کی انتظامیہ کی جانب سے فائونٹین ہائوس کا وزٹ کروایا گیا۔ فائونٹین ہائوس ذہنی مریضوں کا گھر ہے جہاں انہیں روزمرہ زندگی کی تمام سہولیات کے علاوہ انہیں معاشرہ کا نارمل انسان بنانے کے لئے ان ذہنی مریضوں کا علاج بھی کیا جاتا ہے۔ اب تک ہزاروں کی تعداد میں ذہنی مریض صحت یاب ہو کر فائونٹین ہائوس سے رخصت ہو چکے ہیں او پی ڈی میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں مریض اپنا معائنہ کروانے آتے ہیں۔ فائونٹین ہائوس میں رہنے والے ذہنی مریض جن میں خواتین، مرد، بچے اور بچیاں شامل ہیں انہیں دیکھ کر دل رنجیدہ ہو گیا کہ یہ معاشرے کے ایسے کردار ہیں جن کی اپنی الگ الگ کہانی ہے۔ اچھے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے ان کرداروں کو خاوند، جوان بیٹے، بیٹیاں اور بہن، بھائی موجود ہونے کے باوجود تنہا کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سید عمران مرتضیٰ بتا رہے تھے کہ اسی فیصد سے زائد یہاں ایسے ذہنی معذور مریض ہیں جنہیں ان کے گھر والے یہاں چھوڑ تو گئی لیکن دوبارہ پلٹ کر ان کی خبر نہیں لی یہ اس بے حس معاشرے کا المیہ ہے جو ذہنی مریضوں کے علاج کے لئے بنے فائونٹین ہائوس کو اولڈ ہوم میں تبدیل کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ فائونٹین ہائوس لاہور 1971ء میں پروفیسر رشید چودھری اور ان کے احباب نے قائم کیا فائونٹین ہائوس کی اس دیدہ زیب وسیع و عریض قدیم عمارت میں چار سو سے زائد ذہنی مریض رہائش پذیر ہیں۔ فائونٹین ہائوس میں ہونے والی آٹھویں اہل قلم کانفرنس میں شریک شرکاء کو ڈاکٹر سید عمران مرتضی کی جانب سے ڈاکٹر امجد ثاقب کی پر اثر اور دلنشین انداز میں لکھی گئی کتاب ’ چار آدمی‘ بطور تحفہ دی گئی تاکہ فائونٹین ہائوس کی تاریخ سے آگاہی ہو سکے۔’ چار آدمی‘ کتاب کے مصنف ڈاکٹر امجد ثاقب لکھتے ہیں فائونٹین ہائوس کی عمارت دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے ہر سو ایسے جیسے ایک سرگوشی سنائی دیتی ہے کہ نیکی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ گنگا رام، رشید چودھری اور معراج خالد تینوں کے تین معمولی کسانوں کے بیٹے تھے ۔لائل پور، ہوشیار پور، لاہور اور ماجھے کے نواحی علاقوں میں پلے بڑھے نام پیدا کیا۔ محنت، دیانت، انکسار کی خوبیاں پروردگار نے انہیں بخشی تھیں لیکن کسے خبر تھی کہ قدرت نے کیسے کیسے، کیا کیا کام ان سے لینے ہیں۔ ایک انجینئر، ایک ڈاکٹر اور ایک سیاست دان بیوہ عورتوں کا آشرم جو گنگا رام نے بنایا اور ایک نیک دل وزیراعلیٰ کے حکم پر علاج گاہ میں تبدیل ہو گیا۔ نیکی روپ بدل بھی لے تو اس کی خوشبو کم نہیں ہوتی، اس کا جمال دھندلاتا نہیں، اس کی چمک خیرہ کئے رکھتی ہے۔ جب بھی کل کے اس ہندو بیوہ گھر اور آج کے فائونٹین ہائوس کی خوبصورت عمارت میں داخل ہوتا ہوں، مریضوں سے ملتا ہوں تو یہ تینوں لوگ مجھے یاد آتے ہیں۔ اس عمارت کی ہر اینٹ ان کا نام لیتی ہے گفتگو زبان سے تو نہیں ہوتی خاموشی بھی تو گفتگو ہے۔ اقبال نے کہا تھا۔۔۔
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدہ دل وا کرے کوئی
فائونٹین ہائوس اب لاہور، فاروق آباد ( شیخوپورہ) اور سرگودہا کے اضلاع میں اپنی خدمت کا دائرہ وسیع کر چکا ہے جسٹس ناصرہ جاوید اقبال، ڈاکٹر امجد ثاقب جیسے خدمتگار اس ادارے کی سرپرستی کرتے نظر آتے ہیں۔ فائونٹین ہائوس کا سالانہ خرچ تقریبا پندرہ کروڑ روپے تک ہے لیکن حکومت اس کار خیر کے ادارے کو بیس پچیس لاکھ روپے ادا کرتی ہے جو اونٹ کے منہ میں زیرہ دینے کے مترادف ہے باقی کروڑوں روپے عام آدمی سے لے کر صاحب ثروت درد مند افراد ادا کرتے ہیں۔ جب ہمیں فائونٹین ہائوس کی عمارت کا وزٹ کروایا گیا تو وہاں پر موجود مرد و خواتین، بچے بچیاں ذہنی عارضہ میں مبتلا ہماری طرف حسرت سے دیکھ رہی تھیں شاید ان کا خیال تھا کہ ہم ان سے ملنے آئے ہیں۔ رنجیدہ دل کے ساتھ میں ان کے چہروں کی طرف دیکھ رہا تھا کہ اور سوچ رہا تھا کہ جن کی دیکھ بھال ان کے اپنوں نے کرنی تھی آج وہ اپنوں کے انتظار میں کس قدر تنہا ہیں۔ یہ معاشرہ کس قدر اخلاق اور تربیت کے حوالے سے زوال پذیر ہو چکا ہے جو ایسے ذہنی معذور افراد کے علاج اور بنیادی ضروریات زندگی کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتار کر فائونٹین ہائوس کی آغوش میں دے کر چلے جاتے ہیں اور پھر پلٹ کر نہیں آتے۔ میں سمجھتا ہوں فائونٹین ہائوس میں ہونے والی اہل قلم کانفرنس نے اپنے مقاصد کی حصولیابی میں کامیابی حاصل کی ہے کیونکہ کانفرنس کا موضوع ’’ نئی نسل کے نفسیاتی مسائل میں اہل قلم کا کردار‘‘ تھا جس کے لئے فائونٹین ہائوس کا چنائو موضوع کی مناسبت سے موزوں ترین تھا۔ فائونٹین ہائوس کا انتظام و انصرام میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سید عمران مرتضیٰ بطریق احسن چلا رہے ہیں، فائونٹین ہائوس کی تاریخ اور اغراض و مقاصد سے آگاہی کے لئے تاریخ سے ر غبت رکھنے والے اور کتاب دوست افراد کو ڈاکٹر امجد ثاقب کی تحریر کردہ کتاب ’ چار آدمی‘ کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔ یہ کتاب ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اولڈ ہومز ہوں یا فائونٹین ہائوس لیکن یہ فکر مند مسئلہ غور و فکر کا ضرور متقاضی ہے کہ لوگ اپنے پیاروں کی بے رخی کے سبب یہاں کیوں پہنچتے ہیں اور ایسے افراد کو کس جرم کی سزا دی جاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button