Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
ColumnHabib Ullah Qamar

سعودی عرب کادوسرا یوم تاسیس .. حبیب اللہ قمر

حبیب اللہ قمر

 

سعودی عرب میں مملکت کا دوسرا یوم تاسیس منایاجارہا ہے جس پر پورے ملک میں عوامی سطح پر بھرپور جوش و خروش دیکھنے میں آیاہے۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے گزشتہ برس شاہی فرمان جاری کر کے پہلی سعودی ریاست کے قیام کے دن کو یوم تاسیس کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا جس پر بڑے پیمانے پر تقریبات منعقدکی گئی تھیں۔امسال بھی سعودی عرب میں سرکاری و نجی شعبوں کے ملازمین کیلئے بائیس اور تئیس فروری کو مکمل تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے اورسعودی دارالحکومت الریاض سمیت پورے ملک میں یوم تاسیس منانے کے حوالہ سے وسیع پیمانے پرتیاریاں و انتظامات کئے جارہے ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق پہلی سعودی ریاست کے قیام کا اعلان امام محمد بن سعود نے فروری 1727 کو کیا تھا جو کہ 1818ء تک برقرار رہی۔ اس دوران ریاست کا دارالحکومت الدرعیہ تھا اور پہلی سعودی ریاست کے بانی نے ملک کا آئین قرسآن و سنت کو قرار دیا تھا۔ یوم تاسیس تین سو سال پہلے قائم ہونے والی سعودی ریاست کی یاد دلانے والا دن ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یوم تاسیس پہلی سعودی ریاست کی تاریخ اور اس کے تمدنی ورثے کی بھولی بسری یادیں تازہ کرے گا۔پاکستانی حکام نے یوم تاسیس کے موقع پر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو مبارکباد پیش کی اور کہا ہے کہ دونوں ممالک اور ان کے عوام خوش حالی کے سفر پر گامزن ہیں اور یہاں کے باشندوں کو خوش حالی ان شاء اللہ ہمیشہ میسر رہے گی۔
سعودی عرب کے یوم تاسیس کے حوالے سے یہ بات انتہائی اہم ہے کہ بہت سے مصنفین اور مئورخین کی جانب سے کہا جاتا رہا ہے کہ مملکت کا قیام 1744میں ہوا تھا تاہم تاریخی حوالے سے یہ
بات واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ اس میں پہلے سترہ سال شامل نہیں کیے گئے ۔ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ 1744 میں پیش آنے والے واقعات اس لحاظ سے بہت اہم تھے کہ اس عرصہ میں امام محمد بن سعود نے امام محمد بن عبدالوہاب کو جگہ کی پیشکش کی تھی لیکن درحقیقت پہلی حکومت 1727کو قائم ہوئی تھی ، اس لیے مملکت کے ابتدائی برسوں کی درستی کیلئے یوم تاسیس تخلیق کیا گیا ہے تاکہ سعودی عوام کو ماضی کے حوالے سے صحیح معلومات فراہم کی جائیں۔سعودی عرب میں یوم تاسیس کی تقریبات اٹھائیس فروری تک جاری رہیں گی۔ اس حوالے سے سعودی دارالحکومت الریاض سمیت دیگر شہروں میں خصوصی تقریبات کا انعقادہو گا جن میں سعودی ثقافت کو خاص طور پر اجاگر کیا جائے گا۔ مملکت میں تمام بڑے شہروںکی طرف سے ایسے روایتی پروگراموں کی میزبانی کا اہتمام ہو گا جن میں ریاست کے قیام کے بعد کی جانے والی جدوجہد اور کامیابیوں کی تاریخ پر روشنی ڈالی جائے گی۔ پروگراموں کے دوران تاریخی تصاویر کی نمائشیں بھی لگائی جائیں گی اور یوم تاسیس کی خوشیوں میں دوسرے ملکوں سے آنے والے شہریوں کو بھی شریک کیا جائے گا اس موقع پر ملبوسات، دستی مصنوعات، کھانے پینے اور دیگر اشیاء پر خصوصی رعایت دی جائے گی۔ پورے سعودی عرب میں تجارتی مراکز پرابھی سے بہت زیادہ رش دیکھنے میں آرہا ہے۔
سعودی عرب کے دوسرے یوم تاسیس پر مملکت میں بسنے والے پاکستانی بھی سعودی بھائیوں کی خوشیوں میں برابر کے شریک ہوں گے۔ اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے عوام میں زبردست ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ پاک سعودی تعلقات کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ ابتدا سے ہی خوشگوار رہے ہیںلیکن شاہ فیصل کے دور میں ان تعلقات کو بہت زیادہ فروغ ملا۔ برادر اسلامی ملک سعودی عرب ان چند ممالک میں سے ایک ہے جس نے ہمیشہ تمام معاملات پر کھل کر پاکستان کے مئوقف کی تائید و حمایت کی ہے ۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران سعودی عرب نے پاکستان کی وسیع پیمانے پر مدد کی ۔ اپریل 1966میں شاہ فیصل نے پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا اور اس موقع پر اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد کے سارے اخراجات خود اٹھانے کا اعلان کیا۔ یہ مسجد آج شاہ فیصل مسجد کے نام سے دنیا بھر میں جانی جاتی ہے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک بڑے شہر لائل پور کا نام انہی کے نام پر فیصل آباد رکھا گیا جبکہ کراچی کی سب سے بڑی شاہراہ انہی کے نام پر شاہراہ فیصل کہلاتی ہے۔ شاہ فیصل کے دور حکومت میں سعودی عرب نے 1973 کے سیلاب زدگان کی کھل کر مالی امداد کی، دسمبر 1975 میں سوات کے زلزلہ زدگان کی تعمیر و ترقی کیلئے ایک کروڑ ڈالر کا عطیہ دیا۔ 1971 میں مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی پر شاہ فیصل کو بہت رنج ہوا اور انہوں نے پاکستان کی جانب سے تسلیم کرنے کے بعد بھی بنگلہ دیش کو تسلیم نہ کیا۔شاہ فیصل کی وفات کے بعد بھی سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات میں کوئی کمزوری نہیں آئی خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ پاکستان آئے تو پاکستانی عوام نے ان کا بھرپور استقبال کیا جس سے وہ بہت زیادہ متاثر ہوئے اور کہاکہ ہم پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ 2005 میں آزاد کشمیر و سرحد کے خوفناک زلزلہ اور 2010 کے سیلاب کے دوران بھی مصائب و مشکلات میں مبتلا پاکستانی بھائیوں کی مدد میں سعودی عرب سب سے آگے رہا او ر روزانہ کی بنیاد پر امدادی طیارے پاکستان کی سرزمین پر اترتے رہے یہی وجہ ہے کہ اسلام پسند اور محب وطن حلقوں کی کوشش ہوتی ہے کہ سعودی عرب کے اسلامی اخوت پر مبنی کردارسے پاکستان کی نوجوان نسل کو آگا ہ کیا جائے اور اس کیلئے وہ اپنا کردار بھی ادا کرتے رہتے ہیں۔
وطن عزیزپاکستان اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایٹمی قوت ہے ۔جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرنا تھے اور امریکہ ویورپ سمیت پوری دنیا کا دبائو تھا کہ پاکستانی حکومت ایٹمی دھماکوں سے باز رہے۔ اس مقصد کے تحت دھمکیاں بھی دی گئیں اور لالچ بھی دیے جاتے رہے،یہ انتہائی مشکل ترین صورتحال تھی مگر ان حالات میں بھی سعودی عرب نے اس وقت کی حکومت کا حوصلہ بڑھایا اور اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور اقتداراور ابھی حالیہ عرصے میں وزیراعظم شہباز شریف کے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی پاکستان سے دوستی کا حق ادا کیا ہے۔ گزشتہ برس آنے والا سیلاب ہو یا پاکستان کے مالی بحران سے دوچار ہونے کا معاملہ ہو، برادر ملک سعودی عرب نے پاکستان کی بڑھ چڑھ کر مدد کی ہے اور اربوں ڈالر
کی امداد اور قرضے فراہم کیے ہیں۔پاکستان اورسعودی قیادت کے درمیان ہونے والی مسلسل ملاقاتوں کے نتیجہ میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک نئی جہت پیدا ہوئی ہے اور سٹریٹیجک شراکت داری مزید مضبوط ہونے سے پاک سعودی تعلقات میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین بڑھتے ہوئے دوستانہ تعلقات کو دیکھا جائے تو سعودی عرب کے پاکستان میں تعینات سفیرنواف بن سعید المالکی کا کرداراس حوالے سے بہت نمایاں ہے۔وہ پچھلے کئی برسوں سے یہاں ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، اس لیے انہیں یہاں کے حالات سے مکمل آگاہی حاصل ہے۔ سفارتی حلقوں میں ان کی پہچان ایک سنجیدہ طبع اور نفیس شخصیت کے طور پر ہے۔ جن لوگوںکو انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے وہ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ان میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو ایک سفیر اور سعودی عرب جیسے اسلامی ملک کے نمائندہ میں ہونی چاہئیں۔اسی طرح سعودی سفارت خانے میں میڈیا انچارج فواز عبداللہ بھی متحرک شخصیت کے مالک ہیں اور انہوںنے بہت کم وقت میں اپنی اچھی شناخت اور پہچان بنائی ہے۔ ہم سعودی عرب کے دوسرے یوم تاسیس پر دل کی گہرائیوں سے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد محمد بن سلمان، پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی اور پوری سعودی قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔یہ وطن عزیز کی خاطر سعودی امرا، سلاطین اور عوام کی فقید المثال قربانیوں کے اعتراف کا دن ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ برادر اسلامی ملک سعودی عرب کو اسلام دشمن قوتوں کی سازشوں سے محفوظ ومامون رکھے اور دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Click to listen highlighted text!