Columnعبدالرشید مرزا

کشمیر میری وادی ۔۔ عبدالرشید مرزا

عبدالرشید مرزا

کشمیر میری وادی

کشمیر جل رہا ہے، اگست 2019 سے آرٹیکل 370 اور 35اے کے نفاذ کے بعد کشمیری سلال ہیں، عالمی اداروں کے مطابق 5 اگست 2019ء سے لے کر اب تک 13 خواتین سمیت 662 کشمیریوں کو شہید کیا جاچکا ہے، ان میں سے درجنوں نوجوانوں کو دوران حراست شہید کیا گیا جبکہ 2ہزار 278 کشمیریوں کو زخمی کیا گیا۔ ڈاکٹرز و آؤٹ ڈور بارڈرز کی رپورٹ کے مطابق وادی میں مقیم 41 فیصد افراد ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ ہر 100 میں سے 15 خواتین ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں جبکہ مردوں کے مقابلے میں سات گنا زیادہ خواتین افسردگی کا شکار ہیں، اعداد و شمار کے مطابق ساڑھے تین سالہ محاصرے کے دوران 91 بچوں کو یتیم اور38 خواتین کو بیوہ کردیا گیا۔ آرٹیکل 370 کے خاتمہ کے بعد شروع ہونے والی تحریک کے دوران قریباً 4 ہزار 500 افراد کو کالے قانون (پبلک سیفٹی ایکٹ اینڈ ان لافل ایکٹ) کے تحت گرفتار کیا گیا۔
بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019ء کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق پر وار کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35اے کا خاتمہ کیا گیا تو کشمیری سراپا احتجاج بن گئے۔ مودی سرکار نے ان آرٹیکلز کو ختم کرتے ہوئے کشمیر سے اُس کی مخصوص حیثیت چھین لی اور انہیں اپنا الگ آئین، الگ پرچم اور الگ قانون سازی کے معاملات سے محروم کر دیا گیا۔ اس سے قبل بھارتی مقبوضہ کشمیر کے پاس ایک مخصوص ریاستی حیثیت تھی جس کی بدولت وہ اپنے آئینی معاملات میں خود مختار تھا۔ ان آرٹیکلز کے خاتمے سے کشمیریوں کے بنیادی حقوق جو کہ برائے نام تھے انہیں بھی چھین لیا گیا۔ بھارت کی جانب سے ان آرٹیکلز کو ختم کر کے کشمیر کو اپنی ملکیت قرار دینے کی کوشش کو کشمیریوں نے ناکام بنا دیا اور بھارت اپنے ارادے میں پوری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ ان آرٹیکلز کے خاتمے نے کشمیریوں کی آزادی کی مُہم کے جذبے میں ایک نئی جان ڈال دی ہے۔ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے 5 اگست 2019ء سے لیکر اب تک درجنوں خواتین سمیت 662کشمیریوں کو شہید کیا جا چکا ہے جن میں سے درجنوں نوجوانوں کو دوران حراست شہید کیا گیا جبکہ 2ہزار 278کشمیریوں کو زخمی کیا گیا۔ اعدادوشمار کے مطابق بھارت کی جانب سے اس ساڑھے تین سالہ محاصرے کے دوران 91 بچوں کو یتیم 38 خواتین کو بیوہ کردیا گیا۔آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد شروع ہونے والی تحریک کے دوران قریباً چار ہزار پانچ سوافراد کو کالے قانون(پبلک سیفٹی ایکٹ اینڈ ان لاء فل ایکٹ) کے تحت گرفتار کیا گیا۔کشمیر میں میوہ جات کی کاشت، دستکاری و قالین کی صنعت ،فروٹ انڈسٹری سیاحت سے وابستہ ہوٹل اور ٹرانسپورٹ کی صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے منسلک صنعتیں معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان صنعتوں نے ہمیشہ کشمیریوں کیلئے بھارت کے خلاف جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ماضی میں کشمیر کو جب کرفیو کا سامنا کرنا پڑا تو
اس کی معیشت کو زیادہ نقصان نہیں اٹھانا پڑا تاہم اس مرتبہ لاک ڈاؤن میں بھارت کی جانب سے درندگی کا آغاز ہی کشمیر کی معیشت کو نشانہ بناتے ہوئے کیا گیا۔ مودی سرکار نے 5 اگست 2019 کو لاک ڈاؤن نافذ کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا کہ کشمیر معاشی اعتبار سے مستحکم نہ رہ سکے، تاکہ کشمیریوں کو فاقہ کشی کا سامنا بھی کرنا پڑے اور کشمیریوں کے حوصلوں کو پست کیا جا سکے،البتہ معاشی اعتبار سے لڑکھڑاتے ہوئے کشمیریوں کے حوصلوں کو پست نہ کیا جا سکا۔ اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے کشمیر میں نافذ آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر دیا گیا ، تب سے لے کر اب تک کشمیر کی معیشت کا پہیہ جام ہوچکا ہے۔
کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے مطابق گزشتہ ساڑھے تین سال سے جاری بھارتی فوج کے غیر قانونی قبضہ کے باعث مقبوضہ کشمیر کو 3ہزار 175ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ بھارتی فوجی محاصرے کے صرف چار ماہ کے اندر کشمیری انڈسٹریز کو قریباً 2.4 ارب امریکی ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا جبکہ دسمبر 2022تک قریباً 5لاکھ کشمیری بے روزگار ہوئے۔ کشمیری قوم کو جنوری سے جولائی 2020 کے دوران مزید 2.9 ارب امریکی ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ یوں اگست 2019 سے دسمبر 2022 تک کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اندازے کے مطابق بھارت کے غیر قانونی قابض ہونے کے باعث مقبوضہ کشمیر کو روزانہ قریباً 2ارب 61کروڑ 82لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ سب سے زیادہ متاثرہ شعبے زراعت و باغبانی ، تعمیرات، دستکاری، مینوفیکچرنگ، رئیل اسٹیٹ ، ٹرانسپورٹ، سیاحت، آئی ٹی اور چھوٹے کاروبار بشمول اسٹارٹ اپس اور مالی خدمات ہیں۔ ان میں زیادہ ترنے اپنی آمدنی میں 50 فیصد سے زائد کی کمی دیکھی۔ انڈسٹریز اور ورکرز کرفیو کے باعث ہونے والے معاشی نقصان سے اب تک نکل نہیں پائے۔ ماہرین ِمعاشیات اس بات کو متعدد بار باور کروا چکے ہیں کہ کشمیر ی عوام کو شدید نوعیت کی بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ایک اقتصادی تھنک ٹینک ادارے سی ایم آئی ای (نیشنل سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی) کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق اگست 2022 میں مقبوضہ کشمیر میں بے روز گاری کی شرح 33 فیصد رہی جو کہ 2016 کے بعد سے سب سے زیادہ تھی ۔سی ایم آئی ای کے مطابق 2016میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بیروزگاری کی شرح 29.9فیصد درج کی گئی تھی۔کشمیری عوام ساڑھے تین سال سے گھر کی چار دیواری تک محدود ہیں، اس صورتحال کے باعث وہ خوراک کی قلت کا شکار ہیں۔ معاشی اعتبار سے کشمیریوں کو حد درجے کی پریشانی لاحق ہے ۔ 5 اگست 2019 کو جب بھارتی قابض سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کااعلان کرکے کرفیو نافذ کیا تو اس وقت مقبوضہ کشمیر میں سیاحتی سیزن عروج پر تھا۔ تمام ہوٹل بک ہو چکے تھے سیاحت کی صنعت مقبوضہ کشمیر کے جی ڈی پی میں 8 فیصد حصہ رکھتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں سیاحت کیلئے آنے والے افراد میں بیشتر وہ ہیں جن کو بھارتی حکومت کی جانب سے مشروط اجازت دی جاتی ہے، مسلسل کرفیو اور معاشی جمود کے باعث سیاحت سے وابستہ 74ہزارسے زائدافراد بیروزگار ہوئے۔ وادی میں اس وقت قریباً 3000 ہوٹل ہیں اور سبھی خالی پڑے ہیں۔ بھارتی فوج کے غیر قانونی محاصرے کے باعث سیاحت کی صنعت کو قریباً 234ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ وادی کا قریباً تیس فیصد حصہ سیاحت کے شعبے سے بلواسطہ یا بلا واسطہ منسلک ہے،ان میں ہوٹل مالکان، ڈل جھیل میں ہاؤس بوٹ مالکان، شکار والے،گھوڑے اور ٹیکسی والے شامل ہیں۔
انٹرنیٹ سروس کی معطلی کے باعث بیشتر ٹریول ایجنٹس بیکار بیٹھے ہیں۔ سری نگر کی مشہور ڈل جھیل میں قریباً ایک ہزار شکارے بھی خالی پڑے ہیں۔آج کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے پاکستانی حکومت پشتی بان نہیں رہی، پاکستانی حکومت نے ہر سال 5 فروری کی چھٹی کے علاؤہ اپنا فریضہ بھول گئی ہے، جبکہ قائد اعظم محمد علی جناح، سید ابوالاعلی مودودی کے مؤقف سے دست بردار ہوگئے ہیں جس میں انہوں نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا حل صرف اور صرف جہاد ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button