تازہ ترینخبریںپاکستان سے

200 ارب روپے کے نئے ٹیکس قوم پر عائد کرنے کی تیاری

وفاقی حکومت کی جانب سے 200 ارب روپے کے نئے ٹیکس قوم پر عائد کرنے کی تیاری کی خبر ملک کو درپیش معاشی مشکلات سے آگاہ کسی بھی شخص کیلئے اگرچہ باعث حیرت نہیں لیکن باعث تشویش ضرور ہے کیونکہ اس کا نتیجہ یقینی طور پر عوام اور صنعت و زراعت کے شعبوں کیلئے مزید مشکلات کی شکل میں سامنے آئے گا۔

اس حوالے سے منظر عام پر آنے والی اخباری رپورٹ کے مطابق حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کے مطالبات کے مطابق نئے ٹیکس لگانے کی خاطردو آرڈیننس بصورت مسودات تیار کرلیے ہیں۔ پاور سیکٹر کی سبسڈی کو ختم کرنے اور ایکسپورٹ سیکٹر خاص طور پر ٹیکسٹائل صنعت کاروںکیلئے خام مال پر سیلز ٹیکس لگانے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ان دونوں مسودات میں سے ایک 100 ارب روپے کے نئے ٹیکسوں اور دوسرا درآمدات پر 100 ارب روپے کے فلڈ لیوی کے نفاذ سے متعلق ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح اور لگژری آئٹمز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافہ ہوگا، علاوہ ازیں روپے کی قدر میں بڑے پیمانے پر کمی سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو اضافی آمدنی کی بھی توقع ہے۔ درآمدات پر سیلاب لیوی وصول کی جائے گی جسے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں کمی کو پورا کرنے کیلئے استعمال کیا جائے گا۔آئی ایم ایف نے پیٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر لیوی 35 روپے سے بڑھا کر 50 روپے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ذ

رائع نے بتایا کہ یہ فیصلہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اگلے جائزے میں متوقع ہے جس کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 20 سے 40 روپے فی لیٹر اضافہ ہوسکتا ہے۔وزیر اعظم کی جانب سے ان پالیسی اقدامات پر عمل درآمد کی یقین دہانی کے بعد 31 جنوری کو بات چیت کے لیے آئی ایم ایف ٹیم کی اسلام آباد آمد متوقع ہے۔ یہ فیصلے مسلم لیگ (ن) کیلئے اگرچہ بڑے سیاسی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں کیونکہ موجودہ کثیر الجماعتی اتحادی حکومت کی قیادت اسی کی پاس ہے لیکن درپیش صورت حال میں آئی ایم ایف کی شرائط ماننے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں۔

موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مسلم لیگ (ن) ہی سے منسلک سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کی پالیسی کو تبدیل کرتے ہوئے پچھلے چار پانچ مہینوں میں اس بات کی بڑی کوشش کی ملک کے مالیاتی مسائل دیگر ذرائع خصوصاً دوست ملکوں کے تعاون سے حل کرلیے جائیں اور ڈالر کی قدر کو مصنوعی طریقوں سے کم رکھا جائے لیکن یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر پچھلے کئی عشروں کی پست ترین سطح پر جاپہنچے، ترسیلات زر میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور آخرکار حکومت کو آئی ایم ایف کی تمام شرائط ماننے کا ناخوشگوار فیصلہ کرنا پڑا۔

تاہم اگر چار ماہ پہلے ہی یہ قدم اٹھالیا گیا ہوتا تو عین ممکن ہے کہ آج معاشی بحران بڑی حد تک قابو میں آچکا ہوتا۔ بہرکیف اب تویہ کڑوی گولی قوم کو نگلنی ہی ہے لیکن ایسی تدابیر جلد از جلد اختیار کی جانی چاہئیں جن کی مدد سے پاکستان معاشی خود کفالت کی منزل تک پہنچ سکے ۔ ان میں بجلی کی فراہمی پر ہونے والے بھاری اخراجات میں کمی کیلئے گھریلو اور صنعتی صارفین کو سستے بینک قرضوں کے ذریعے سے سولر پاور کے نجی استعمال کی سہولت کا بلاتاخیر مہیا کیا جانا،

پٹرول کا بل کم کرنے کیلئے بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کا متعارف کرایا جانا، بیرون ملک آن لائن ملازمتوں سے نوجوانوں خصوصاً آئی ٹی اور سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے ماہرین کو آگہی دینا اور یورپی ملکوں میں ان کے وسیع مواقع سے فائدہ اٹھانے کی حوصلہ افزائی کرنا نیز ان کے معاوضوں کی زرمبادلہ کی شکل میںادائیگی کو یقینی بنانا شامل ہوسکتی ہیں۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر کی طرح ان آن لائن ملازمتوں کے معاوضوں کو بھی ٹیکس استثنیٰ دے کر ان سے استفادے کی مزید ہمت افزائی کی جاسکتی اور یوں زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button