Editorial

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ

 

کراچی اور حیدر آباد ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کو دیگر جماعتوں پر برتری حاصل ہے۔شہر کی 170 یونین کمیٹیز کے نتائج میں پیپلزپارٹی چیئرمین اور وائس چیئرمین کی نشستوں پر کامیابی کے اعتبار سے پہلے، جماعت اسلامی دوسرے اور تحریک انصاف تیسرے نمبر پر ہے، البتہ ایم کیو ایم نے اپنے مطالبات تسلیم نہ ہونے پر بلدیاتی انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ ووٹرز کے کم ٹرن آئوٹ کو انتخابات کے انعقاد سے متعلق بے یقینی سے جوڑا جارہا ہے لیکن تسلیم کیا جانا چاہیے کہ ایم کیو ایم کا اپنا بھی بڑا ووٹ بینک ہے اور اگر قیادت لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے تو یقیناً ووٹرز بھی گھروں سے باہر نہیں نکلیں گے۔ حلقہ بندیوں کے معاملے پر ایم کیو ایم اور پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کی قیادت کے درمیان رابطہ رہا لیکن سبھی ملاقاتوں کا انجام انتخابی عمل سے علیحدگی کی صورت میں برآمد ہوا۔ سندھ حکومت نے سیکشن 34 سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت الیکشن کمیشن کو کراچی، حیدر آباد ڈویژن میں 15 جنوری کو انتخابات ملتوی کرنے کی استدعا کی تھی اور اس میں سکیورٹی مسائل کو بنیاد بنایاگیا تھا لیکن چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی زیر صدارت اجلاس میںفیصلہ کیا گیا کہ دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات بہرصورت پندرہ جنوری کو ہی ہوں گے، لہٰذا سندھ حکومت سمیت تمام فریقین کو اِس حکم پر عمل کرنا پڑا۔ تادم تحریر غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج مکمل نہیں ہوئے تھے لیکن حسب معمول پولنگ کے روز ہی انتخابی عمل کی شفافیت پر انگلیاں اٹھانے کا سلسلہ شروع کردیاگیا تھااور اب صورتحال یہ ہے کہ تمام فریقین یقینی جیت کے دعویدار ہیں اور ساتھ ہی ساتھ تحفظات اور شکوک و شبہات کا بھی اظہار کررہے ہیں جو بلاشبہ سیاسی جماعتوں کی ہمیشہ سے روایت رہی ہے اسی لیے ہمارے ہاں آج تک ہونے والے ہر انتخابات پر اُنگلیاں اٹھائی جاتی رہی ہیں جیتنے والا بھی انتخابی نتائج پر مطمئن نہیں ہوتا اور ہارنے والا تو قطعی اپنی ہار کو تسلیم نہیں کرتا لہٰذا سارے کا سارا انتخابی عمل مشکوک قرار دے دیاجاتا ہے، پھر ایک موقع پر حکمران جماعت انتخابی عمل کوغیر متنازع بنانے کے لیے حزب اختلاف سے مشاورت کا اعلان کرتی ہے مگر حزب اختلاف اِس دعوت کو یکسر مسترد کردیتی ہے اور ایسا ایک بار نہیں ہوا بلکہ جب سے انتخابی عمل کو متنازع بنانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے ہمیشہ حزب اقتدار کی طرف سے حزب اختلاف کو انتخابی عمل کی شفافیت سے متعلق لائحہ عمل تیار کرنے کی پیش کی جاتی ہے مگر اِسے یکسر مسترد کردیاجاتا ہے، پچھلی پی ٹی آئی حکومت میں بھی تحریک انصاف نے انتخابی عمل سے متعلق مشاورت کاآغاز کیا تھا لیکن حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے اِس کو مسترد کردیا تھا اور پھر اقتدار میں آنے کے بعد الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق فیصلے بھی تبدیل کردیئے گئے لہٰذا یہ بھی نئی بات نہیں یوں معاملہ جہاں سے شروع ہوتا ہے وہیں پر آکر ختم ہوتا ہے، کوئی بھی سیاسی جماعت اقتدار میں ہو اِس کے مینڈیٹ کو حزب اختلاف تسلیم نہیں کرتی اور احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے تاوقت سڑکوں پر رہتی ہے جب تک اِس کے مقاصد پورے نہیں ہوجاتے اور جب اُسے اقتدار ملتا ہے تو یہی برتائو اُس کے ساتھ کیا جاتا ہے، جیسے پی ٹی آئی کے دور میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے قریباً پونے چار سال ملک بھر میں احتجاجی تحریک جاری رکھی جس کا منطقی انجام ان ہائوس تبدیلی کی صورت میں برآمد ہوا اور جب عمران خان اقتدار سے باہر ہوئے تو اُنہوں نے بھی ویسا ہی برتائو کیا جیسا اُن کے ساتھ دور اِ قتدار میں کیا گیا تھا پس ہمارے ملک میں انتخابات کسی بھی سطح یا مرحلے کے ہوں، اُن کو متنازع بنانا طویل روایت ہے، جیسا کہ کراچی کے انتخابات پر بھی اُنگلیاں اُٹھائی جارہی ہیں پس سبھی جیت کے دعویدار ہیں تو شکست کس کو ہوئی اورعوام نے کِس کو مسترد کیا؟ ہمارے سامنے پڑوسی ملک بھارت کی مثال موجود ہے جہاں جیتنے والا بھی اپنی جیت سے مطمئن ہوتا ہے اور ہارنے والا بھی اپنی شکست تسلیم کرتا ہے اور وہ ہماری طرح انتخابی عمل کو مشکوک نہیں بناتے، مگر ہم انتخابات کے روز صبح سویرے ہی ایسے بیانات داغ دیتے ہیں جن سے پورے کا پورا انتخابی عمل مشکوک بن جاتا ہے، بلاشبہ پولنگ کے دوران ایسے واقعات بھی رونما ہوتے ہیں جو نہیں ہونے چاہئیں اور کسی بھی جماعت کو ووٹ کے معاملے پر زبردستی نہیں کرنی چاہیے لیکن یہ مجموعی رویہ ہمارے جمہوری رویے کی نفی کرتا ہے، جبھی ہمارے ملک میں کبھی سیاسی استحکام نہیں آیا اور آج تک کسی حزب اختلاف نے حزب اقتدار کی طرف سے پیش کی گئی انتخابی اصلاحات کی تائید و توصیف نہیں کی شاید اِس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ تائید کی صورت میں انتخابی عمل کی شفافیت اور اپنی شکست کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اقتدار میں آئی لیکن اِس سے قبل مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی ہی ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں تھیں جو ایک دوسرے کے مدمقابل انتخابی میدان میں اُترتی تھیں، تاریخ دیکھی جائے تو دونوں جماعتوں نے انتخابات میں اپنی شکست کو کھلے دل کے ساتھ تسلیم نہیں کیا اور صرف وہی انتخابات صاف و شفاف قرار دیئے جن کے ذریعے اُنہیں اقتدار میں آنے کا موقعہ ملا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی قیادت کو سنجیدگی کے ساتھ اِس بارے میں سوچنا چاہیے کہ ہم ہر بار انتخابی عمل کومتنازع بناکر پوری دنیا کے سامنے اپنا تماشا کیوں بناتے ہیں حالانکہ کامیابی تو کسی ایک جماعت کو ملتی ہے مگر باقی دعویداروں کو کون سمجھائے؟ اِس لیے ہم جتنا جلد اپنے آپ کو ٹھیک کرلیں اتنا ہی ہمارے لیے اور ملک و قوم کے لیے بہتر ہے ،تبھی یہ بیل منڈھے چڑھے گی وگرنہ سیاسی عدم استحکام اور انتخابات کے نتائج تسلیم نہ کرنے کی روش ہمیشہ کی طرح برقرار رہےگی اور کسی منتخب حکومت کو اپنی صلاحیتیں ملک و قوم کے لیے بروئےکار لانے کا موقع میسر نہیں آئے گا۔ لہٰذا آپ بھی دوسرے کا مینڈیٹ تسلیم کریں تاکہ آپ کا بھی مینڈیٹ تسلیم کیا جائے اور ووٹرز بھی انتخابی عمل پر اطمینان کا اظہار کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button