ColumnImtiaz Aasi

پیپلز پارٹی کی نشاط ثانیہ .. امتیاز عاصی

امتیاز عاصی

 

پاکستان پیپلزپارٹی کبھی چاروں صوبوں میں عوامی مقبولیت کی حامل تھی،27 دسمبر 2007 کو پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو کی لیاقت باغ راولپنڈی میں شہادت کے بعد پارٹی کا چاروں صوبوں کے عوام سے رابطہ منقطع ہو گیا۔شاید اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ بی بی کی شہادت نے عوام کے دلوں پر اس طرح کاتاثر چھوڑا ان کے دکھ درد باٹنے والا کوئی نہیں رہا ۔ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد ان کی ہونہار بیٹی بے نظیر بھٹو نے اپنے عظیم باپ کے چھوڑے ہوئے ورثے کی دل وجاں سے حفاظت کرتے ہوئے غریب عوام کے مسائل حل کرنے کی جدو جہد جاری رکھی ۔جنرل مشرف کی طرف سے جان کولاحق خطرات کی پیشگی اطلاعات کے باوجود شہید بی بی نے غریب عوام سے رابطہ نہ چھوڑنے کا عہد کرکے جان آفریں کے سپرد کردی۔بی بی کی شہادت کے بعد پارٹی کی ترجیحات بدل گئیں اور رفتہ رفتہ پارٹی کا دائرہ سکڑکر سندھ تک محدود ہوگیا۔ بے نظیربھٹو کا اپنے عوام سے رابطے کیلئے وفاقی دارالحکومت میں سیکرٹریٹ کا قیام اور عوامی مسائل حل کرنے کیلئے پارٹی رہنمائوں اور وفاقی وزراء کی حاضری یقینی بنانے کا مقصد عوام کے گوناگوں مسائل کو حل کرنا تھا۔ بی بی کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری پانچ سال تک ملک کے صدر رہنے کے باوجود عوام سے دور ہوتے چلے گئے ۔تعجب ہے آصف علی زرداری صدر مملکت کے منصب پر رہتے ہوئے بی بی شہید کے قاتلوں کا سراغ لگانے میں ناکام رہے۔
بی بی کی شہادت کے کچھ عرصہ بعد اسکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقاتی ٹیم کا پاکستان آمد مقصد انشورنس کلیم کی تصدیق کرنے کے سوا کچھ نہیں تھا اس حقیقت کے باوجود تحقیقاتی ٹیم کی پاکستان آمد میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی گئی۔بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کے شوہر نامدار آصف علی زرداری نے پارٹی کی باگ دورڑ سنبھال لی پرعملی طور پر وہ پارٹی کارکنوں سے رابطے میں ناکام رہے حالانکہ صدر مملکت ہوتے ہوئے وہ پارٹی کو پہلے سے زیادہ فعال کرنے میں کردار ادا کر سکتے تھے۔ہمیں یاد ہے ایک زمانے میں پنجاب میں قریباً ہر گھر پر پیپلز پارٹی کے پرچم لہراتے تھے۔شریف خاندان کے سیاست میں آنے کے بعد اور پنجاب میں ایک
طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے سے پیپلز پارٹی کا ووٹ بنک برائے نام رہ گیاہے ۔تحریک انصاف کے مقابلے میں بلاول بھٹونے جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں میں جلسوں کاانعقاد کیا تاکہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی عظمت رفتہ کو بحال کیا جا سکے جس کے نتیجہ میں سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے صاحب زادے علی موسیٰ گیلانی پنجاب کے ضمنی الیکشن میں قومی اسمبلی کی نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔خیبر پختونخوا میں آفتاب شیرپائو پارٹی کی جان تھے، جو پارٹی قیادت سے اختلافات کی بنا علیحدہ ہو کر قومی وطن پارٹی بنا چکے ہیں جس کے پلیٹ فارم سے وہ اپنی نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔جہاں تک بلوچستان میں پیپلز پارٹی کے ووٹ بنک کی بات ہے تو ذوالفقار علی بھٹو سے شہید بے نظیر بھٹو ر تک پارٹی میں کچھ نہ کچھ جان تھی وقت گذرنے کے ساتھ اور پارٹی قیادت کی سرد مہری نے پارٹی کے دیرینہ کارکنوں کو پیپلز پارٹی سے دور کر دیا۔بے نظیر بھٹو نے اپنے وزارت عظمیٰ کے ادوار میں بلوچستان سے پارٹی کے پرانے کارکنوں کو وفاق میں عہدے دیکرپارٹی کی فعالیت بحال
کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ان کی شہادت کے بعد پارٹی کااپنے پرانے کارکنوں سے رابطہ کٹ گیا۔
2018 کے انتخابات میں پارٹی کے انہی کارکنوں کو باپ پارٹی میں شامل کر لیا گیا جو پارٹی قیادت کی لاتعلقی سے پیپلز پارٹی کو فارخطی دے چکے تھے۔اب باپ پارٹی کے انہی لوگوں نے پیپلز پارٹی کے قائد آصف زرداری کے ہاتھ پر ایک مرتبہ پھر بیعت کر لی ہے جو خوش آئند بات ہے۔سردار فتح محمد حسنی جیسے دیرینہ کارکنوں کی پیپلزپارٹی میں واپسی نیک شگون ہے لیکن میر صادق عمرانی اور میر باز کھیتران جیسے دیرینہ کارکن ابھی تک ہوا میں معلق ہیں۔ اگرچہ آصف زرداری بوجہ علالت پارٹی امور میں اتنے سرگرم نہیں ہیں البتہ ان کی ہمشیرہ محترمہ فریال تالپور پارٹی امور میں خاصی سرگرم ہیں،بعض حلقوں کے مطابق فریال تالپور کی کاوشوں سے پارٹی کے پرانے کارکنوں کی واپسی ممکن ہو رہی ہے تو کیا صاد ق عمرانی اور میر باز خان کھیتران جیسے پرانے کارکنوں کو پارٹی میں واپسی کیوں ممکن نہیں۔
آصف علی زرداری ، بلاول بھٹو اور فریال تالپور پارٹی کو بلوچستان میں فعال دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں ناراض کارکنوں کو راضی کرنا چاہیے نہ کہ انہیںبے یارومدگار چھوڑنا چاہیے۔صوبائی دارالحکومت لاہور جہاں پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوللفقار علی بھٹو نے پارٹی کی بنیاد رکھی تھی پیپلز پارٹی عضو معطل ہو چکی ہے۔گذشتہ انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کیلئے مناسب امیدواروں کا فقدان رہا ہے لہٰذا ان تمام کمزرویوں کو دور کرنے کیلئے پارٹی قیادت کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔پی ڈی ایم میں رہ کر چند وزارتوں کا حصول پارٹی کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہو سکتا اس مقصد کیلئے بلاول بھٹو اور پارٹی کے سنیئر رہنمائوں کوطوفانی دورے کرنے چاہئیں اور جن جن شہروں میں ممکن ہوجلسوں کا اہتمام کرکے عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے ورنہ جب بھی انتخابات ہوئے شکست پیپلز پارٹی کا مقدر ہو گی۔
پارٹی قیادت کو یہ بات ذہین میں رکھنی چاہیے ان کا سیاسی مستقبل پارٹی کارکنوں سے وابستہ ہے، سردار فتح محمد حسنی اور دیگر جیالوں کی پارٹی میں واپسی تازہ ہوا کا جھونکا ہے ۔ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ڈاکٹر مبشر حسن، ملک معراج خالد، حفیظ پیرزاداور مولانا کوثر نیازی جیسے لوگوں کی ٹیم تھی جن پر کرپشن کا شائبہ نہیں تھا جبکہ آج کی پیپلز پارٹی میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جن کے خلاف کرپشن کے مقدمات ہیںلہٰذا پیپلز پارٹی کی نشاط ثانیہ اسی صورت بحال ہو سکتی ہے جب پارٹی سے کرپشن میں ملوث افراد کو فارغ کرکے نچلی سطح سے پارٹی کے کارکنوں کو اوپر لایا جائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com