Editorial

پاکستان کیلئے 10.57ارب ڈالر کا اعلان

 

جنیوا میں بین الاقوامی کانفرنس کے دوران عالمی برادری اور اداروں نے پاکستان کے لیے 10.57ارب ڈالر مدد کا اعلان کیا ہے جو پاکستان کی درخواست سے قریباً ڈھائی ارب زیادہ ہے ۔ کانفرنس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے عالمی شراکت داروں سے ملک میں ہونے والی تباہی کے بعد اگلے تین سال کے دوران تعمیر نو کے لیے آٹھ ارب ڈالر فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہاتھا کہ آدھی رقم کا انتظام خود اپنے وسائل سے کریں گے۔سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے بھی سیلاب سے متاثرہ پاکستان میں بحالی کی کوششوں کے لیے بڑے پیمانے پر امداد دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پاکستان کو ماحولیاتی انصاف دیا جائے۔عالمی امداد کے اعلانات کے اسلامی ترقیاتی بینک نے تعمیر نو اور بحالی کے لیے 4 ارب 20 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔عالمی بینک نے 2 ارب،ایشیائی بنک ڈیڑھ ارب،چین اورامریکہ 100, 100، یورپی یونین 500، جرمنی 88، جاپان 77، اور فرانس 345ملین ڈالرز دے گا۔ان کے علاوہ برادر اسلامی ملک سعودی عرب نے ایک ارب ڈالر امداد کا وعدہ کیا ہے، برطانیہ نے 90 لاکھ یورو اور ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک نے بھی ایک ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے۔اجلاس کے اختتام پر جاری دستاویز میں بتایا گیا کہ وفود نے فوری طور پر امدادی کوششوں اور بحالی، تعمیرنو کے لیے پاکستان کے عوم کے ساتھ تعاون کا اعادہ کیاہے۔ بیان میں کہا گیا کہ وفود نے اظہار یک جہتی کیا اور بحالی منصوبے میں بتائے گئے ترجیحی علاقوں اور مقاصد کا اعتراف کرتے ہوئے مالی امداد کا اعلان کیاہے اور وعدوں کے مطابق مجموعی رقم 9 ارب ڈالر سے زیادہ ہے جس میں دو طرفہ اور کثیرالجہتی شراکت داروں دونوں شامل ہیں، مزید وفود نے مختلف پہلوئوں سے امداد کا اعلان کیاہے۔بلاشبہ وزیرمملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے درست کہا ہے کہ وہ دن واقعی میں ایک بڑی امید کا دن تھااور دنیا کی طرف سے واضح طور پر پیغام دیاگیا ہے کہ دنیا اُن کے ساتھ کھڑی ہوگی جو کسی بھی قدرتی آفت کا شکار ہیں اور انہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا اور اس میں قطعی دو رائے نہیں کہ عالمی برادری نے موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے شکار ساڑھے تین کرو ڑ پاکستانیوں کے لیے واقعی بڑے خلوص کا مظاہرہ کیا ہے اور اِس امداد سے کم ازکم متاثرین کو دوبارہ زندگی شروع کرنے میں کلیدی مدد ملے گی مگر اِس حقیقت کو بہرصورت تسلیم کرنا پڑے گا کہ ساڑھے تین کروڑ سے زائد پاکستانی موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آنے والی اِس قدرتی آفت سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور اکثریت کے پاس تن ڈھانپنے کے لیے کپڑے بھی نہیں ہیں دوسری طرف متاثرین کی آباد کاری سے قبل انفراسٹرکچر کی فوری بحالی کی ضرورت ہے جو یقیناً طویل اور صبر آزما کام ہے کیونکہ سیلاب اور مسلسل بارشوں سے کسی ایک صوبے کا ایک مخصوص حصہ متاثر نہیں ہوا بلکہ تمام صوبے اور کم و بیش ہر حصہ بری طرح متاثر ہوا ہے البتہ ایسے موازنہ کیا جاسکتا ہے کہ زیادہ تباہی کس علاقے میں آئی اور کم سے کم نقصان کس علاقے میں ہوا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جنیوا میں بین الاقوامی کانفرنس کے دوران عالمی برادری اور اداروں نے پاکستان کے لیے 10.57 ارب ڈالر مدد کا اعلان کیا اِس کے لیے پوری قوم اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس کی شکر گذار ہے، جو اُس وقت پاکستان پہنچے جب موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں بارشوں اور سیلاب سے قیامت صغریٰ برپا تھی اور ہر طرف ناقابل دید مناظر تھے۔ انہوںنے نہ صرف زیادہ سے زیادہ وقت پاکستان میں گزارا اور سیلاب سے متاثرہ افراد کا حوصلہ بڑھایا بلکہ اُس وقت عالمی برادری کوبھی پاکستان کی فوری مدد کے لیے مخاطب کرکے انصاف کیا۔اِس کے بعد بھی انتونیو گوتریس نے عالمی سطح پر کروڑوں متاثرہ پاکستانیوں کی فوری بحالی کے لیے مدد کی بات کی اور اُن کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں عالمی برادری جینوا کانفرنس میں پہل کرتی ہوئی نظر آئی۔ وزیراعظم شہبازشریف کا کردار بھی لائق تحسین ہے جنہوں نے نہ صرف متاثرین میں موجود رہ کر اُن کا ہمہ وقت حوصلہ بڑھایا بلکہ دن رات امدادی کاموں کی نگرانی بھی کی ، اِس کامیابی میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو اور اُن کی سفارتی ٹیم کا کردار بھی انتہائی اہم رہا، ایک طرف بلاول بھٹو نے عالمی برادری کو مسلسل پاکستان میں ہونے والی تباہی پر متوجہ کیے رکھا تو اُن کی سفارتی ٹیم نے بھی اپنی محاذ پر ہمہ وقت آواز بلند رکھی لہٰذا اقوام عالم کی طرف سے متاثرین کی امداد کا سہرا اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس، وزیراعظم محمد شہبازشریف، وزیر خارجہ بلاول بھٹو، حنا ربانی کھر اور اُن کی سفارتی ٹیم کے سرہے، جنہوں اِس سنگین معاملے کی عالمی سطح پر بروقت اور درست عکاسی کی ۔ ہمیں یقین ہے کہ جینوا کانفرنس میں ہونے والے اعلانات جلد ازجلد حقیقت کی شکل میں سامنے آئیں گے کیونکہ متاثرین کی فوری داد رسی کی ضرورت ہے جو اِس وقت قومی شاہرائوں پر کھلے آسمان تلے دراصل بے یارومدد گار پڑے ہیں اور معاشی مسائل کا شکار حکومت کی ہر ممکن کوشش کے باوجود اُن متاثرین کا ازالہ ممکن نہیں ہورہا، لہٰذا توقع ہے کہ اِس کانفرنس اور اعلانات کے بعد بھی پاکستان کو اِس مشکل ترین چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی کیونکہ قیامت نما تباہی کے نقصانات سے نمٹنا صرف ریاست پاکستان کے بس کی بات نہیں، اِس کے لیے ترقی یافتہ ممالک کو آگے بڑھ کر پاکستان کاساتھ دینا ہوگا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com