تازہ ترینخبریںپاکستان سے

وزیرستان امن عوامی تحریک کا احتجاجی دھرنا پانچویں روز میں داخل

وانا (رپورٹ آدم خان وزیر سے) جنوبی وزیرستان لوئر وانا میں سول انتظامیہ سے ہونیوالے مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے "وزیرستان امن اولسی پاسون ” (وزیرستان امن عوامی تحریک) کا احتجاجی دھرنا پانچویں روز میں داخل،

وزیرستان سے ملنے والے تمام راستے آمدورفت کیلئے بند، وانا رستم بازار کے 8 ہزار سے زائد دکانوں اور کاروباری مراکز بند کردیئے گئے،

وزیرستان امن اولسی پاسون (وزیرستان امن عوامی تحریک) کے رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے سنئیر رہنماء عمران مخلص نے کہا،

کہ مقامی انتظامیہ سے پچھلے 4 دنوں سے مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا،

لیکن انتظامیہ مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، اس لئے "وزیرستان امن اولسی پاسون” مزید سخت اقدامات اٹھانے پر سوچ رہی ہے،

انہوں نے کہا کہ ہم عالمی انسانی حقوق کے علمبرداروں کو یہ پیغام دے رہے ہیں، کہ ہم اپنے ملک اور علاقے میں پاکستانی آئین کے مطابق امن کے طلبگار ہیں۔

لیکن حکومت ہمارے ان بنیادی مطالبات کو سنجیدہ نہیں لے رہی، اور ہزاروں لوگ اپنے جائز مطالبات کے حصول کیلئے سڑکوں پر نکلے ہیں،

عمران مخلص نے کہا، کہ ہم وزیرستان میں امن وامان کیلئے ریاستی اداروں اور ذمہ داران سے امن کی بھیک مانگ رہے ہیں،

ہمیں انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا جارہا ہے، انتہائی قدم اٹھانے کے سلسلے میں دھرنے کے پانچویں روز رستم بازار وانا کے 8 ہزار سے زائد دکانوں اور کاروباری مراکز کو تاجروں اور عوام نے متفقہ تالے لگا دیئے

6 جنوری بروز جمعہ کو "وزیرستان امن اولسی پاسون”
(وزیرستان امن عوامی تحریک) کی کال پر وزیرستان کے عوام نے لبیک کہتے ہوئے آمن کے حوالے سے ہونے والی احتجاج اور دھرنے میں کثیر تعداد میں شرکت کی۔

"وزیرستان امن اولسی پاسون” نے سول انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کے سامنے امن کے حوالے سے دس مطالبات پیش کئے،

7 جنوری کو جنوبی وزیرستان لوئر کے انتظامیہ (ڈی سی ، ڈی پی او اور اے سی وانا) کے درمیان تین گھنٹے طویل میٹینگ ہوا،

جس میں تمام پہلوؤں پر تفصیلی بحث ہوئی، سول انتظامیہ نے "اولسی پاسون” کے مطالبات کو آئینی اور قانونی مان کر اس پر من و عن عمل درآمد کا وعدہ کیا اور حکام بالا کے ساتھ مشاورت کے لئے وقت مانگا۔

اس کے بعد ایک اور نشست ہوئی جس میں عسکری قیادت کے ساتھ بیٹھنے کو کہا گیا۔ "وزیرستان امن اولسی پاسون ” (وزیرستان امن عوامی تحریک) کے مذاکراتی کمیٹی نے انتظامیہ کے اس شرط کو بھی مان لیا،

لیکن کل 9 جنوری کو سول انتظامیہ نے "اولسی پاسون” کے چند مطالبات کو جواز بنا لیا جن میں کا لے شیشے والے گاڑیوں ، پولیس کے ساتھ ایف سی کا گشت ، پولیس تھانوں پر کام میں تیزی اور نئے پولیس چوکیوں پر جلد کام شروع کرنے کا وعدہ شامل تھا.

باقی مطالبات کے لئے وقت مانگنے کا مطالبہ کیا گیا جس کو "وزیرستان امن اولسی پاسون” مطمئن نہیں ہوئی، کیونکہ سول انتظامیہ کا مقصد دھرنے کو ختم کرانا تھا۔

دس مطالبات میں صرف دو یا تین مطالبات کو جواز بنانا سنجیدہ عمل نہیں تھا کیونکہ وانا بازار میں تعینات پولیس نفری کو اضافی نفری نہ دینا ، منشیات فروشوں کے خلاف ایکشن میں تاخیری حربے، جمشید وزیر کی بازیابی اور انگور اڈہ باڈر پر سہولیات، ہر قسم مسلح تنظیموں سے لا تعلقی کا اعلان ، دفاتر کی منتقلی، تجارت پیشہ افراد کو تحفظ کی فراہمی اور مجرموں کو عدالتوں میں پیش کرنے پر فوری عمل ممکن تھا۔

وزیرستان امن اولسی پاسون” کے مذاکراتی کمیٹی نے 27 رکنی کمیٹی کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد بلاآخر اس نتیجے پر پہنچا کہ سول انتظامیہ آئینی و قانونی اختیارات استعمال کرنے میں بےبس نظر آ رہی ہیں.

وزیرستان امن اولسی پاسون نے پلان کے مطابق آئینی و قانونی مطالبات میں سول انتظامیہ کی غیر سنجیدگی اور بے بسی، عسکری حکام کا مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ رو برو بیٹھنے سے انکار کے بعد وزیرستان وانا میں گورنمنٹ کی ہر طرف نکل وحرکت کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ھے۔

وزیرستان امن اولسی پاسون متفقہ طور پر کمشنر ڈیرہ ڈویژن، آر پی او ڈیرہ اور دوسرے اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں

کہ لوئر وزیرستان کے عوام کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیں بصورت دیگر "وزیرستان امن اولسی پاسون” (وزیرستان امن عوامی تحریک) اپنے پلان کے مطابق آگے بڑھنا شروع کردے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button