تازہ ترینخبریںپاکستان سے

اسلام آباد خودکش دھماکا، پولیس سربراہ نے رانا ثنا اللہ کا گرفتاریوں کا دعویٰ مسترد کردیا

اسلام آباد پولیس کے سربراہ نے وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے بم دھماکے میں ملوث چار سے پانچ دہشت گردوں کی گرفتاری کے حوالے سے وزیر داخلہ کے دعوے کی تردید کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 27 دسمبر 2022 کو وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اسلام آباد میں آئی-10/4 کے علاقے میں ہونے والے بم دھماکے میں ملوث چار سے پانچ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انسپکٹر جنرل آف اسلام آباد پولیس اکبر ناصر خان نے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خودکش حملہ آور کی شناخت ظاہر کر دی گئی ہے تاہم تحقیقات جاری ہونے کی وجہ سے دھماکے میں ملوث نیٹ ورک کی تفصیلات شیئر نہیں کی جا سکتیں۔

آئی جی پولیس نے کہا کہ نیٹ ورک کے ارکان کی گرفتاری زیر غور ہے، تفتیش جاری ہیں اور جب بھی کوئی گرفتاری ہوگی تو آپ کو مطلع کیا جائے گا۔

27 دسمبر کو وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے ایک نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد میں خودکش حملے میں ملوث افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

وزیر نے مزید کہا تھا کہ مشتبہ افراد کرم ایجنسی سے آنے کے بعد راولپنڈی میں ٹھہرے تھے۔

وفاقی وزیر نے ہینڈلرز کی گرفتاری کا بھی دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ چار سے پانچ افراد پکڑے جا چکے ہیں۔

تاہم اس حوالے سے پولیس سربراہ نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو سے منسلک ہونے کے شبے میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جہاں اس ویڈیو میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹی ٹی پی پارلیمنٹ ہاؤس تک پہنچ گئی ہے۔

انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ساتھ ساتھ جڑواں شہروں کی پولیس کی مشترکہ کوششوں سے دو افراد کو گرفتار کیا گیا جو صوابی اور پشاور کے رہنے والے ہیں۔

آئی جی پولیس نے کہا کہ ان کے خلاف محکمہ انسداد دہشت گردی اسلام آباد میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور وہ سات روزہ ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔

اکبر ناصر خان نے کہا کہ ان کے نیٹ ورک سوشل میڈیا پر عیاں ہیں اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی(ایف آئی اے) کے تعاون سے انہیں ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ گرفتار افراد سوشل میڈیا پر سرگرم تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق گرفتاریاں ایک مخبر کی اطلاع پر فتح جنگ روڈ سے کی گئیں۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ یہ ٹی ٹی پی کے سرگرم رکن ہیں اور ان کے پاس سے 500 گرام دھماکا خیز مواد، ڈیٹونیٹر اور دیگر اشیا بھی برآمد ہوئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button