تازہ ترینخبریںپاکستان سے

سپریم کورٹ: ارشد شریف قتل کیس 5 جنوری کو سماعت کیلئے مقرر

ایک ماہ کے وقفے کے بعد سپریم کورٹ میں صحافی ارشد شریف قتل کے ازخودنوٹس کیس کی سماعت 5 جنوری کو ہوگی۔

سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سماعت کرے گا۔

پانچ رکنی بینچ نے صحافی کے قتل کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کےلیے از خود نوٹس لیا تھا۔

بینچ کے دیگر ممبران میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس سید مظہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہیں۔

عدالتی دفتر نے پہلے ہی وفاقی تحقیقاتی ادارہ کے ڈائیریکٹر جنرل اور انٹیلی جنس بیورو سمیت پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر، سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری اطلاعات اور سیکریٹری امور خارجہ کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔

8 دسمبر 2022 کو ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ نے جنوری کے پہلے ہفتے میں کیس کی سماعت دوبارہ جاری رکھنے کا عندیہ دیا تھا۔

عدالت نے صحافی کے قتل کی مؤثر غیر ملکی رابطے کو یقینی بنانے کے لیے تحقیقاتی ٹیم کو ہدایت دی تھی کہ اگر جے آئی ٹی کو تحقیقات میں کوئی رکاوٹ پیش آرہی ہے تو وہ براہ راست چیف جسٹس کے دفتر سے رجوع کر سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے مشاہدہ کیا تھا کہ عدالت اس واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا ارادہ رکھتی ہے تاہم امید ہے کہ ٹیم اپنی عبوری رپورٹ عدالت میں پیش کرے گی۔

تحقیقاتی ٹیم کے ممبران میں انٹر سروس انٹیلی جنس کے نمائندہ محمد اسلم، ملٹری انٹیلی جنس سے مرتضیٰ افضال، ایف آئی اے سائبرکرائم ونگ کے ڈائریکٹر وقار الدین سید اور آئی بی کے ڈائریکٹر جنرل ساجد کیانی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ وزارت داخلہ نے قومی اور بین الاقوامی عدالتی دائرہ کار میں مؤثر غیر ملکی رابطے اور شواہد جمع کرنے کو یقینی بنانے کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی تھی۔

عدالت کو بتایا گیا تھا کہ اسلام آباد کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور انوسٹی گیشن اور ان کی ٹیم سمیت انسپکٹر اور اسلام آباد پولیس کے دیگر متعلقہ افسران کو کیس سے متعلق شواہد اکٹھا کرنے میں جے آئی ٹی کے ساتھ تعاون کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔

اس کے علاوہ اسلام آباد پولیس افسر کا دفتر جے آئی ٹی کے اجلاس کے لیے سیکریٹریٹ کے طور پر کام کرے گا، یہ اجلاس ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق جلد ہی شروع ہوگا۔

اے اے جی چوپدری عامر رحمٰن نے عدالت عظمیٰ کو بتایا تھا کہ ضرورت پڑنے پر جے آئی ٹی کے ممبران کے غیر ملکی سفر کے لیے ضروری فنڈز اور مدد فراہم کی جائے گی اس کے علاوہ دفتر خارجہ سے درخواست کی جائے گی کہ وہ جے آئی ٹی ممبران کے ویزہ اور غیر ملکی عدالتی دائرہ کار میں مدد کے لیے سہولت فراہم کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button