تازہ ترینخبریںپاکستان سے

جی ایچ کیو میں پاک فوج میں کمان تبدیلی کی تقریب

پاک فوج میں تبدیلی کمانڈ کی پُر وقار تقریب کا آغاز ہوگیا، نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر فوج کی کمان سنبھالیں گے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل عاصم منیر نے یادگار شہداء پر حاضری دی، جہاں پر شہداء کے لیے دعا بھی کی گئی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کمان کی چھڑی جنرل عاصم منیر کو سونپیں گے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی 6 سالہ مدت ملازمت مکمل کر کے آج اپنے عہدے سے سبکدوش ہورہے ہیں۔

اعزازی شمشیر یافتہ جنرل سید عاصم منیر کمان کی تبدیلی کی تقریب میں فور اسٹار جنرل کے شولڈر رینکس اور کالر میڈل لگا کر شریک ہوئے ہیں۔

جی ایچ کیو میں منعقدہ تقریب میں تمام مسلح افواج کے سربراہان، اعلیٰ سول، فوجی افسران شریک ہیں، پُروقار تقریب میں وفاقی وزراء، سفارتکار اور صحافیوں نے بھی شرکت کی ہیں۔

جنرل عاصم منیر کی فوج میں خدمات

جنرل عاصم منیر اعزازی شمشیر یافتہ، ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس، آئی ایس آئی کے سربراہ، کور کمانڈر گوجرانوالہ رہ چکے ہیں۔

وہ اکتوبر2021ء سے جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔

نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر مثالی یادداشت کے حامل اور حافظِ قرآن بھی ہیں۔

انہوں نے بطور لیفٹیننٹ کرنل اپنے شوق کے باعث 38 سال کی عمر میں حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی۔

پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں پاک فوج کی کمان کس کس کے ہاتھ میں کتنی مدت کیلئے رہی ؟

1972 میں تعینات ہونے والے جنرل ٹکا خان کی سربراہی سے قبل آرمی چیف کا عہدہ کمانڈر انچیف کے طور پر جانا جاتا تھا،1947 سے 1972 تک پاک آرمی کے 6کمانڈرانچیف رہے،

ملک کے سب سے پہلے کمانڈر انچیف کا نام جنرل سر فرینک میسروی تھا۔

دوسرے کمانڈر انچیف جنرل ڈگلس گریسی نے 1948 سے لے کر اپریل 1951 تک اپنی ذمے داریاں ادا کیں، 1951 میں تعینات ہونے والے جنرل ایوب خان پاکستان کے پہلے فور سٹار جنرل اور فیلڈ مارشل تھے۔

1958 میں تعینات ہونے والے کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ خان 8 سال تک تعینات رہے،ملک کے پانچویں آرمی چیف جنرل یحییٰ خان 18 ستمبر 1966 سے 20 دسمبر 1971 تک ملک کے سپہ سالار رہے۔

چھٹے کمانڈر انچیف جنرل گل حسن خان قومی تاریخ کے سب سے مختصر مدت ایک سال کے لیے فوجی سربراہ بننے والی شخصیت ہیں، جو 20 دسمبر 1971 سے 2 مارچ 1972 تک فوجی سربراہ رہے۔

یکم مارچ 1976 کو جنرل ضیاالحق کو اس وقت کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے آرمی چیف تعینات کیا، جنرل ضیاء الحق نے پانچ مئی 1977 کو مارشل لاء لگایا جس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو بھانسی دے دی گئی۔

جنرل ضیاء نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے یعنی 11 سال سے زائد تک آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا تھا۔

17 اگست 1988 کو جنرل ضیاءالحق کی طیارہ گرنے سے ہلاکت کے بعد جنرل اسلم بیگ ملک کے 9 ویں آرمی چیف بنے تھے انہوں نے اگست 1988 سے لے کر اگست 1991 تک اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔

جنرل آصف نواز کو 16 اگست 1991 کو تعینات کیا گیا، انہوں نے جنوری 1993 تک اپنی ذمے داریاں ادا کیں، جنرل عبدالوحید کاکڑ 1993 سے جنوری 1996 تک تعینات رہے۔

12ویں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے جنوری 1996 سے 1998 تک ذمے داریاں ادا کیں۔

13ویں آرمی چیف پرویز مشرف اکتوبر 1998 سے لے کر نومبر 2007 تک پاک فوج کے سربراہ رہے،جنرل اشفاق پرویز کیانی 2007 سے نومبر 2013 تک فوج کے سپہ سالار رہےجبکہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نومبر 2013 سے نومبر 2016 تک فرائض انجام دیے۔

ملک کے 16 ویں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنا عہدہ نومبر 2016 کو سنبھالا تھا،جو 29 نومبر 2022 تک آرمی چیف رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button