تازہ ترینخبریںپاکستان سے

پی ڈی ایم کی پی ٹی آئی کے خلاف جوابی حکمت عملی کیا ہو گی

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے پی ٹی آئی کی جانب سے اپنی صوبائی حکومتوں سے مستعفی ہوکر سیاسی بحران پیدا کرنے کیخلاف جوابی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ 

ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کی ممکنہ تحلیل کیخلاف اپنی تیاری مکمل کرلی ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے ہفتے کی شام اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کرکے اپنی حکمت عملی سے متعلق ابہام پیدا کر دیا ہے کیوں کہ انہوں نے اسبلیاں تحلیل کرنے کا ذہن نہیں بنایا ہے یا وہ رکنیت سے مستعفی نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اس ضمن میں حتمی فیصلے کی کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ سیاسی ناکامیوں اور دھچکوں کے بعد عمران کے پاس فیس سیونگ کے علاوہ اس طرح کا اعلان کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اگر پی ٹی آئی چیئرمین اپنے اعلان پر عملدرآمد کرتے ہیں تو انہیں چاروں صوبائی اسمبلیوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی اسمبلیوں سے استعفے دینے ہوں گے۔ ارکان سینیٹ کو بھی اپنی نشستیں چھوڑنی ہوں گی کیوں کہ یہ اسمبلیاں اور سینیٹ اسی نظام کا حصہ ہیں جسے وہ بدنام کررہے ہیں اور اس سے اپنی راہیں جدا کرنا چاہتے ہیں۔

عمران نے اپنے خطاب میں بتایا کہ ڈاکٹرز نے انہیں تین ماہ کے آرام کا مشورہ دیا ہے جبکہ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ جمہوری نظام آئندہ 18 ماہ تک اسی طرح برقرار رہے گا جبکہ اس کے بعد قومی یا صوبائی سطح پر کوئی ضمنی انتخاب ممکن نہیں ہوگا۔ 20 اپریل کے بعد اسمبلیوں سے مستعفی ہونے یا اسمبلیاں تحلیل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیوں کہ اس ڈیڈ لائن کے بعد کوئی ضمنی انتخاب آئینی طور پر ممکن نہیں ہوگا۔

ماہرین نے اس حوالے سے آئین کے آرٹیکل 224 کی شق 4 کا حوالہ دیا جس میں عام انتخابات اور ضنی انتخاب کا وقت مقرر ہے۔ آئینی طور پر کوئی بھی نشست خالی ہو تو اس پر 60 روز کے اندر اندر الیکشن کروانا لازمی ہے لیکن اگر اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے میں 120 روز سے کم وقت رہ گیا ہو اور کوئی نشست خالی ہو تو اس پر ضمنی انتخاب نہیں ہوسکتا۔

ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی پس پردہ حکومت کیساتھ رابطے میں ہیں اور عمران خان کو چند ہفتوں کیلئے بیرون ملک بھیجے جانے کیلئے مذاکرات کئے جارہے ہیں۔ حکومت پر زور دیا جارہا ہے کہ وہ بیرون ملک سفر کی سہولت فراہم کرے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کیلئے مشکل ہوگا کہ وہ اپنے تمام ارکان کو اسمبلیوں سے مستعفی ہونے پر آمادہ کرسکیں۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے 50 فیصد ارکان اسمبلی مستعفی نہیں ہوں گے۔ اسی طرح اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد آئندہ تین روز کے دوران پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کیخلاف تحریک عدم اعتماد لاسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق تحریک عدم اعتماد صوبائی حکومت کی تقدیر کا فیصلہ بھی کردے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button