Columnمحمد مبشر انوار

ڈیفالٹ،سٹیٹس کو یا نئے انتخابات .. محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

 

ملکی معاشی اشارئیے معاشی صورتحال کو انتہائی مخدوش ظاہر کر رہے ہیں اور معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے امکانات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ رجیم چینج سے قبل پاکستان کے ڈیفالٹ کرنے کے امکانات صرف 5یا 6فیصد تھے لیکن گذشتہ چند دنوں میں پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے امکانات75 فیصد تک دکھائے ہیں اور تادم تحریر ذرائع ابلاغ اس کے امکانات کو80 فیصد سے زیادہ قرار دے رہے ہیں۔حقیقت کیا ہے،اس کے متعلق ملکی معاشی صورتحال اور خزانے میں موجود ذخائر سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان امکانات میں کسی حد تک سچائی موجود ہے جبکہ وفاقی حکومت کی ترجیحات باوجودکہ اسحاق ڈار کو پاکستان لاکر نہ صرف وزیر خزانہ بلکہ ڈی فیکٹو وزیراعظم کے اختیارات تفویض ہونے کے باوجود بھی بہتری کے آثار نظر نہیں آتے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدے ہوں یا اقتدا ر کی خاطر امریکہ سے کئے گئے عہدو پیمان،کوئی بھی ڈوبتی ناؤ کو سہارا دیتا دکھائی نہیں دیتا کہ آئی ایم ایف بطور ساہوکار ،نظام معیشت کو دستاویزات میں لانے کا متمنی ہے جبکہ ہمارے ارباب اختیار کونہ یہ گوارا ہے اور نہ ہی وہ ملکی معیشت کو دستاویزات کا پابند کروا سکتے ہیں۔نتیجہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہوتے ،بیشتر سے زیادہ قرضہ غیر پیداواری منصوبوں کی نذر ہو جاتا ہے اور بہت زیادہ رقوم اشرافیہ کی بیرون ملک تجوریاں بھرنے کے کام آتی ہیں،جبکہ ریاستی معیشت مزید دگرگوں ہوجاتی ہے۔ کبھی بڑے فخر سے کہا جاتا تھا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے ،رب کریم نے اس ریاست کو انتہائی زرخیز،سونا اگلتی زمین عطا کی ہے،چار موسم بخشے ہیں کہ کاشتکار ان موسموںسے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے کھیتوں میںفصلیں لہلہائیں،پانچ دریاؤں کی صورت اس سرزمین کو پانی کی نعمت عطا کی،صحرا و پہاڑدئیے ،لیکن ہم نے اپنے رب کی دی ہوئی نعمتوں کی قدر تو کیا کرنی تھی،شکر تو کیا ادا کرنا تھا ہم نے اپنی بداعمالیوں اور ہوس پرست فطرت کے تحت ان نعمتوں کی انتہائی بے دردی کے ساتھ پامالی کی۔
سونااگلنے والی زمینوں کو بغیر سوچے سمجھے ہاؤسنگ سکیموں میں جھونک دیا،اور یہ ظلم اس ملک میں آج بھی پوری شد ومد کے ساتھ جاری ہے کہ ایک طرف نجی سرمایہ کار اس میں مصروف عمل ہیں تو دوسری طرف ایسے ادارے بھی اس میں شامل ہیں کہ جن کا نہ یہ منصب ہے اور نہ تقاضہ مگر ارباب اختیار کی نااہلی کہیں یا ان عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑیا خوف،زرخیز زمینیں ہڑپ ہوتی جار ہی ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ملکی معیشت ایسی سرمایہ کاری کے نتیجہ میں پروان چڑھے؟دور جدید میں ملکی معیشت کا انحصار زیادہ تر صنعت سے وابستہ ہے لیکن ہمارے منصوبہ سازوں کے پاس ایسی کوئی منصوبہ ہی نہیں جو صنعت کو عروج تو دور کی بات ،اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی سہولت ہی فراہم کر سکے،جو صنعت ساٹھ کی دہائی میں دنیا کو ششدر کئے ہوئے تھی،ہم نے اس کے پر ایسے کترے کہ آج تک صنعت دوبارہ کھڑی ہونے کا نام نہیں لے رہی۔طرہ یہ کہ ایک صنعتکار کو صرف اس لیے سیاست و اقتدار کا راستہ دکھاکر یہ امیدیں وابستہ کی گئی کہ وہ صنعت کو فروغ دے گا لیکن بدقسمتی کہ اس صنعتکار نے سیاست کو ہی صنعت
بنا ڈالا،گذشتہ تین برسوں سے علاج کی خاطر ،اس ملک کے قوانین کو دھوکہ دے کر لندن براجمان تھا لیکن وہاں پاکستانیوںنے اس کا جینا اس حد تک دوبھر کر دیا کہ وہ یورپ کی سیر کیلئے نکل گیا ہے۔خیر اس کے پیچھے کچھ اور راز بھی پوشیدہ نظر آتے ہیں کہ اس کی اپنی ہی جماعت کے ایک رکن نے لندن میں ایسی ہوشربا پریس کانفرنس کی ہے کہ جس نے اس کے ہاتھوں سے طوطے اڑا دئیے ہیں،شنید تو یہ بھی ہے کہ اس رکن نے لندن پولیس کو بھی بیان دیا ہے۔ خیر یہ ذکر برسبیل تذکرہ ہی سمجھیںکہ اصل موضوع یہی ہے کہ جب ملک کی قسمت ایسے لوگوں کے ہاتھ ہوگی،جب فیصلے چند شخصیات کو سامنے رکھ کر کئے جائیں گے ،جب دونوں ہاتھوں سے ملکی وسائل کو بے دردی کے ساتھ لوٹا جائے گا تو قارون کے خزانے کو بھی ایک دن ختم ہونا ہوتا ہے۔ بس یہی کچھ پچھلی چار؍پانچ دہائیوں سے ریاست پاکستان کے ساتھ ہو رہا ہے،اس کے بعد بھی اگر ڈیفالٹ کے امکانات اس قدر نہ بڑھتے تو کیا آسمان سے زرو جواہر برسیں گے؟
ان حالات کے باوجود بھی ،حیرت ہوتی ہے جب اقتداردانکرنے والے،انہی عطار کے لونڈوں یا ان کے حواریوں کو مسیحا گردانتے ہوں،ان کیلئے اقتدار کی راہیں ہموار کرتے ہوں۔سوال تو یہ بھی ہے کہ اقتدار تقسیم کرنے والے آخر انہی آزمودہ کار وں کو کیوں ’’نوازتے ‘‘ہیں؟کیا اس انداز دلربائی کے پس منظر میں کچھ اور تو نہیں ؟یہ سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے تو نہیں کہ جس کا جہاں داؤ لگے ،اسے کھلی چھٹی دئیے رکھو یا تم مجھے حاجی پکارو میں تمہیں حاجی پکاروں،تم میری پشت پناہی کرو میں تمہاری پشت پناہی کرتا ہوں،تم بھی بیرون ملک اثاثے بناؤ ،میں بھی بیرون ملک اثاثے بناتا ہوں،تم بھی بیرون ملک شہریت لو میں بھی لوٹ مار کرکے بیرون ملک سکونت اختیار کر لیتا ہوں۔رہی بات پاکستان کی،تو پاکستان جانے،اس میں رہنے والے بے اثر،بے وقعت،کیڑے مکوڑے عوام جانے اگر اس عوام میں کچھ بچ گیا،اس عوام نے کسی ہمدرد پاکستان کو منتخب کر لیا(جو ہمارے ہوتے ہوئے ویسے بھی ممکن نہیں)،تو پاکستان کا بھلا ہو جائے گا وگرنہ جب ہمیں اس ملک میں رہنا ہی نہیں تو ہماری بلا سے کہ یہاں کیا ہوتا ہے اور کیا نہیں؟البتہ یہ ضرور ہے کہ ہمیں جب بھی موقع ملا یا ہم نے ایسے مواقع بنا لیے کہ ہمارا اقتدار میں آنا ممکن ہوا تو ڈاکٹرز بھی تندرست قرار دے دیں گے اورہم بھی اسحاق ڈار کی طرح واپس وطن آکر ،بھولی بھالی عوام کی رگوں سے گودا تک نچوڑ لیں گے وگرنہ بیرون ملک ہماری عیاشیاں تو جاری ہیں،ہمیں کون پوچھنے والا ہے؟یہ وہ پس منظر ہے کہ جس میں’’سٹیٹس کو‘‘ کے کردار کسی بھی صورت اس کو توڑنا نہیں چاہتے اور نہ ہی عوامی حکومت کو اقتدار میں آنے دیتے ہیںکہ اگر حقیقی عوامی حکومت برسراقتدار آتی ہے تو یقینی طور پر ان کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی۔تاہم اس کے ثمرات فوری طور پر عوام کو نہیں مل سکیں گے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ان عناصر کا قلع قمع پلک جھپکنے میں ممکن ہو سکے،بتدریج ان سے عوامی حقوق لیے جائیں گے،بہت سے سمجھوتے کرنے پڑیں گے کہ ہر قدم ایک نئی رکاوٹ کھڑی نظر آئے گی۔بقول منیر نیازی ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو ۔اک دریا کے پار اتر کے میں نے دیکھا، دیمک کی طرح بنیادوں تک میں سرایت کر چکے اس گٹھ جوڑ کو جس نے ہزارپا کی طرح ملکی وسائل کو دبوچ رکھا ہے،کے قبضے سے چھڑانا قطعی آسان کام نہیں،مرحلہ وار اس پر عملدرآمد درکار ہے لیکن اصل چیز ’’نیک نیتی‘‘ہے،جو بظاہر کہیں دکھائی نہیں دیتی۔
موجودہ ملکی صورتحال میں اس وقت بھی ایسے فارمولے زیر گردش ہیں کہ ڈیفالٹ تک پہنچانے کے باوجود حکومت مصر ہے کہ وہ اپنی مدت پوری کرے گی بصورت دیگر اسے جبرا نکال کر سیاسی شہادت کا درجہ تو کم ازکم ملنا چاہئے تا کہ وہ اگلے انتخابات(اگر ہوتے ہیںتو)میں عوام کا سامنا کرنے کے قابل تو رہے۔جبکہ یہ خبر بھی ہے کہ عمران خان کو اس بات پر رام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کسی طرح نگران حکومت کو آئین میں دی گئی مدت سے زیادہ وقت دیا جائے تا کہ وہ معیشت کو سنبھال سکے،ٹیکنوکریٹس کی اس حکومت کو ،ملکی صورتحال کے پیش نظر ،بشرط اچھی کارکردگی کہیں یا اس کے پس پردہ بھی ذاتی انا سمجھیں یا ضد،قانونی جواز بھی فراہم ہو سکتا ہے۔دوسری طرف عمران خان بضد ہیں کہ اگر نگران حکومت آتی ہے تو وہ آئین میں دی گئی مدت کے اندر نئے صاف و شفاف انتخابات کروائے اور اقتدار منتخب حکومت کے حوالے کرے وگرنہ یہی حکومت اپنی مدت پوری کرے،اور جو رسوائی عوام میں ہورہی ہے،وہ مزید اور بھرپور ہو سکے۔میری دانست میں یہاں عمران خان جو بالعموم ملکی مفادات کی بات کرتے ہیں،تھوڑی سی ڈنڈی مار رہے ہیں اور اپنے سیاسی فائدے کیلئے موجودہ حکومت کو اپنی مدت پوری کروانے کیلئے بھی راضی ہیں،اگر واقعتا ایسی بات ہے تو عمران خان کو اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کی ضرورت ہے کہ اگر پاکستان سرفہرست ہے اور نگران حکومت میں عمران خان کی رضامندی لی جاتی ہے تو آئینی مدت سے کچھ زیادہ وقت دینے پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے بشرطیکہ نگران حکومت ملکی معیشت میں بہتری لاسکے۔سٹیٹس کو،کے باعث ملک تقریبا ڈیفالٹ تک تو پہنچ چکا ہے کیا نئے نتخابات کے بعد آنیوالی حکومت کے پاس ملکی معیشت میں بہتری لانے کا کوئی واضح ،جامع اور روبہ عمل پلان موجود ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button