ColumnImtiaz Aasi

سیاست میں غیر سنجیدگی کا فقدان .. امتیاز عاصی

امتیاز عاصی

 

سیاست دانوںکا ایک دوسرے کے خلاف کیچڑ اچھالنے کا سلسلہ بہت پرانا ہے حالیہ وقتوں میں جس طرز کی سیاست پروان چڑھ رہی ہے نہ جانے اس کے اختتام کا نتیجہ کیا ہوگا۔سیاست دانوں نے تو اخلاقیات کی حدیں عبور کر دی ہیں۔عوام کے گوناگوں مسائل سے انہیں کچھ سروکار نہیںایک دوسرے کا کچا چٹھاکھولنے کے سوا انہیں کوئی کام نہیں۔ عمران خان نے منی لانڈرنگ کرنے والوں کو چور اور ڈاکو کہہ کر پکارا تھا تو فریق ثانی نے سے رسوا کرنے میں کچھ کم نہیں کیایہاں تک گھریلو خواتین کو بھی معاف نہیں کیا گیا۔سیاست کامعیار اس حد تک نچلی سطح پر آگیا ہے کہ مارے شرم کے آنکھیں جھک جاتی ہیں۔ہر روز نئی خبر آجاتی ہے اب عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کی گھڑی بیچنے کا شورغوغا ہے اور اب فرح گوگی نامی خاتون کو شامل تفتیش کیا جائے گاآخر میں کچھ نہیں نکلے گا۔ سیاست دان اپنی توانائیاں ملکی ترقی اور عوام کے مسائل کو حل کرنے میں صرف کریں انہیں مخالف سیاست دانوں کی پگڑیاںاچھالنے سے فرصت نہیں۔افسوناک پہلو یہ ہے کہ بغیر حقائق جانے خبریں چلا دی جاتی ہیں، کچھ اخبارات اور بعض نجی چینلز نے دروغ گوئی کی حد کر دی ہے،اخبارات اور چینلز من پسند سیاسی جماعتوں کے ترجمان بنے ہوئے ہیں۔جھوٹ اور سچ کی تمیز ختم ہو گئی ہے، بس عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔
عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد عوام کو امید تھی نئی حکومت کچھ تو ان کے مسائل حل کرے گی۔عوام کی امیدوں پراس وقت پانی پھر گیا جب مہنگائی آسمان کوچھونے لگی۔عمران خان کے خلاف پی ڈی ایم نے مہنگائی سامنے رکھتے ہوئے تحریک چلائی اقتدار میں آنے کے بعد مہنگائی بھلا کر اپنے خلاف مقدمات ختم کرنے میں پہل کی۔چلیں مقدمات ختم ہوگئے اس کے بعد تو غریب عوام کی کچھ نہ کچھ ریلیف مل جاتا۔بس عمران خان اور اس کی جماعت کے خلاف مقدمات کی بھرمار ہو رہی ہے۔ آئی ایم ایف ان سے سنبھالا نہیںجارہا کبھی ایسا ہوا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ آئی ایم ایف کی اجازت سے مشروط ہو۔دنیا ترقی کی طرف گامزن ہے اور ہم ہیں تنزلی کی طرف جا رہے ہیں۔حکومت کی کوئی پالیسی نہیں پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے باوجود سینکڑوں افغان پناہ گزین ہر روز مملکت میں داخل ہو رہے ہیں پہلے سے قیام پذیر ہزاروں ایسے ہیں جن کے پاس نہ تو پی اوآر کارڈ ہیںاور نہ ہمارے شاختی کارڈ ہیںاس کے باوجود وہ کاروبار کررہے ہیں۔ پی ڈی ایم کے حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملکی برآمدات رک گئیں ہیں۔برآمدات نہیں ہوں گی تو زرمبادلہ کہاں سے آئے گاتارکین وطن نے سرمایہ بھیجنا کم کر دیا ہے۔ حکومت کو حکمرانی کی فکر لاحق ہے حکومت سنبھالی نہیں جا رہی ہے تو انتخابات کرا دیں عوام جسے چاہیں گے اقتدار سونپے گے۔ہم سے بعد آزاد ہونے والے ملک ترقی کر چکے ہیں ۔
جب سے اس حکومت نے اقتدار سنبھالاہے کوئی ایک کام تو بتا دیں جو مفاد عامہ کیلئے کیا ہو۔ عمران خان ان کے سر پر سوار ہے کسی طرح انہیں اس سے چھٹکارہ مل جائے۔ملک اس حال میں پہنچ چکا ہے بہت سے ملکوں کے شہری یہاں مقیم ہیں ان کے انخلاء کاکوئی بندوبست نہیں جو ایک بارآگیا ہے بس یہیں کاہو کر رہ گیا۔وزارت داخلہ کی یہ ذمہ داری ہے غیرقانونی قیام پذیرلوگوںکو ان کے ملکوں میں بھیجنے کا انتظام کرے۔سعودی حکومت کا امیگریشن نظام اتنا مستحکم ہے کہ عمرہ زائرین کو سعودی عرب کے تمام شہروں میں جانے کی اجازت ہے ورنہ تو پہلے زائرین کو مکہ مکرمہ سے جدہ جانا محال تھا۔سعودی مملکت کو اپنے امیگریشن سسٹم پر اتنا اعتما د ہے کہ کوئی غیر قانونی طور پر رہ کر تو دیکھے۔ہمارے ہاں امیگریشن کا خاطر خواہ بندوبست نہ ہونے سے جوایک مرتبہ جو داخل ہو گیا یہیں کاہو کر رہ گیا۔ سعودی عرب کی طرح غیر قانونی تارکین وطن کی پکڑ دھکڑ کا یہاںکوئی نظام نہیں، مملکت کی آبادی پہلے ہی بہت زیادہ ہے کہ کروڑوں غیرملکی اور غیرقانونی تارکین وطن کے قیام سے ہماری معیشت پر کتنے برئے اثرات مرتب ہو رہے ہیں کسی کو اس کی فکر نہیںحالانکہ اس مشکل وقت میں تمام سیاسی جماعتوں کوسر جوڑنے کی ضرورت ہے۔ملکی اداروں کا یہ حال ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کو تمام جماعتوں کے فارن فنڈنگ کا فیصلہ بیک وقت کرنے کا حکم دیا تھا۔الیکشن کمیشن کو تحریک انصاف کے علاوہ اورکسی جماعت کے غیر ملکی فنڈز کاسراغ نہیںملا۔
کہتے ہیںجن قوموں میںانصاف نہیں ہوتا وہ صفحہ ہستی سے مٹ جایا کرتی ہیں ہماری تباہی میں کون سی کسر باقی ہے، معیشت بدحال ہے، بے روزگاری عروج پر ہے اور مہنگائی نے غریب عوام سے روٹی کانوالہ چھین لیا ہے۔سیاست دانوں کو عسکری ادارے کے سپہ سالار کی تقرری کی فکر رہتی ہے یہ تقرری پہلی بار تو نہیں ہونی تھی۔ نہ جانے سیاسی جماعتوں کو بیساکھیوں کی کیوں ضرورت رہتی ہے۔حکومت میں آنے کے بعد وہ امور مملکت احسن طریقہ سے چلائیں اور کرپشن سے دور رہیں ورنہ اداروں کوکیا پڑی وہ حکومتی امور میں داخل اندازی کریں۔دراصل کرپٹ سیاست دانوںکا شیوہ رہا ہے انہیںاپنی کرپشن چھپانے کیلئے کسی نہ کسی ڈھال کی ضرورت ہوتی ہے، اقتدار میںآنے کے بعد وہ کرپشن کی بجائے ملک اور عوام کے مسائل حل کرنے کی طرف توجہ دیں تو اداروں کو کیا پڑی ہے کہ وہ مملکت کے امور میں دخل اندازی کریں۔ حکومت کا یہ حال ہے کوئی ملک ان پر اعتماد کرنے کو تیار نہیںجو کام سیاستدانوں کے کرنے کاہے، وہ عسکری اداروں کے حکام کو کرنا پڑتا ہے ۔حیرت ہے پہلے جن لوگوں کے خلاف نیب میںکیس تھے انہیں کون سا پھانسی پر چڑھا دیا گیا ہے جو اب عمران خان کو سزا دی جائے گی ۔آخر کچھ نہیں نکلے گا۔ جب تک سیاست میں سنجیدگی نہیں آئے گی اور سیاست دان ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر کاروبار مملکت نہیں چلائیں گے اس وقت تک ہمارے مسائل جوں کے توں رہیںگے۔سیاست دانوں نے ملک کو تماشا بنا رکھا ہے کسی کی عزت محفوظ نہیں اللہ جانے انجام کیا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button