ColumnRoshan Lal

بینظیر کی امریکہ نوازی؟ .. روشن لعل

روشن لعل

 

بے نظیر بھٹو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ناقابل فراموش کردار ہیں۔ آجکل پی ٹی آئی کے کچھ لوگ بے نظیر بھٹو کا حوالہ دیکر پراپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ اگر عمران خان نے کہہ دے دیا کہ امریکی سازش کا بیانیہ ماضی بن چکا اور اب وہ ماضی کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو کیا قیامت آگئی، یہاں ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل میں امریکی کردارکے باوجود بے نظیر بھٹو نے بھی تو امریکہ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایاتھا۔تحریک انصاف کے لوگ بے نظیر بھٹو کی آڑ میں کوشش تو عمران خان کی صفائی پیش کرنے کی کر رہے ہیں مگر ایسا کرتے ہوئے انہوں نے بالواسطہ طور پر بے نظیر بھٹو شہید کو امریکہ نواز قرار دے دیا ہے۔ بے نظیر بھٹو شہید پر یہاں انتہائی بائیں بازو کے لوگوں نے اس وقت پہلی مرتبہ امریکہ نوازی کا الزام لگایا گیاتھا جب 1986 میں جلاوطنی کے بعدپاکستان واپسی پر انہوں نے اپنے استقبال کے دوران پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو امریکہ کے خلاف نعرے بازی سے روکاتھا۔آج جب تحریک انصاف کے لوگوں نے عمران خان کا دفاع کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو کا حوالہ دیا تو بے نظیر پر امریکہ نوازی کا الزام لگانے والے لیفٹ کے لوگ اور ان کے جانشین کونے کھدروں سے نکل کرپھر سے اپنی پرانی باتیں دہرانا شروع ہو گئے ہیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا محض ان لوگوں کے کہنے پر یہ مان لیا جائے کہ بے نظیر امریکہ نواز تھیں یا کچھ مزید غور وفکر بھی کر لینا چاہیے۔ واضح رہے جس دور میں بے نظیر بھٹو پر امریکہ نوازی کا الزام لگایا گیا وہ سرد جنگ کا دور تھا۔ جب تک سرد جنگ کے اس دور کے معروضی حالات کا جائزہ نہ لے لیا جائے اس وقت تک یہ نتیجہ اخذ کرناممکن نہیں ہوسکتا کہ بے نظیر پر لگائے جانے والے امریکہ نوازی کے الزام کی حقیقت کیا ہے۔
سرد جنگ کے دور میں دنیا کے مختلف ملک سیاسی و معاشی طور پر تین حصوں میں منقسم تھے۔ ایک حصہ امریکہ کی سرپرستی میں سرمایہ دارانہ معیشت کے حامل ملکوں کا، دوسرا مرحوم سوویت یونین کی سرکردگی میں کمیونسٹ ملکوں کا اور تیسرا حصہ وہ تھا جو واضح طور پر نہ امریکی اور نہ ہی سوویت بلاک کا حصہ تھا۔ پاکستان کی بات کی جائے تو سیٹو اور سینٹو جیسے معاہدوں کا حصہ بننے کی وجہ سے ہمارے ملک کو امریکی بلاک کا حصہ تصور کیا جاتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار ملا تو انہوں نے اپنے پیش رو حکمرانوں کے برعکس ایسا کردار ادا کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان کسی بھی سپر پاور کا بغل بچہ تصور نہ کیا جائے۔ اس مقصد کے تحت انہوں نے 1973 میں پاکستان کو سیٹو سے نکال کر امریکی مفادات کیلئے قائم اس عسکری اتحاد کو غیر موثر بنا دیا تھا۔ سیٹو اور سینٹو کا حصہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کو غیر وابستہ ملکوں کی تحریک کی ممبرشپ کا اہل نہیں سمجھا جاتا تھا ، بھٹو نے سیٹو سے تعلق ختم کرنے کے بعد غیر وابستہ ممالک تحریک کا ممبر بننے کی درخواست دی ۔ بھٹو نے عرب اسرائیل جنگ کے دوران امریکی مخالفت کی پرواہ کیے بغیر اس پالیسی کے تحت عرب ملکو ں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا کہ تیل کی دولت سے مالا مال ان ملکوں کے وسائل سے پاکستان اور پاکستانیوں کو مستفید ہونے کا موقع مل سکے ۔ بھٹو نے امریکی ناراضگی کی پرواہ کیے بغیرمذکورہ کردار تو انتہائی جرأتمندی سے ادا کیا مگر ایسا کچھ کرنے کی کوشش نہیں کی جس سے یہ تاثر قائم ہو کہ وہ پاکستان کو امریکی بلاک سے باہر نکال کر سوویت بلاک کا حصہ بنا نا چاہتے ہیں۔بھٹو کی یہ پالیسی سوویت یونین کے کسی کام کی نہیں تھی اور امریکہ کو اس لیے ناپسند تھی کہ سرد جنگ میں اس کے مطلوبہ مفادات کی راہ میں رکاوٹ بن رہی تھی۔ بھٹو سے قبل یونان میں ان جیسی پالیسیوں کا حامل ایک سیاستدان ابھر کر سامنے آیا تھا جس کا نام گرگورس لامبراکس تھا ، اس سیاستدان کو 1963 میں امریکہ نے سازش کے تحت قتل کروادیا تھا ۔ گرگورس لامبراکس کے قتل کی سازش پر فرانسیسی زبان میں ایک فلم بھی بن چکی ہے۔ بھٹو کے عدالتی قتل کو بھی ان کی امریکی مفادات سے متصادم پالیسیوں کی وجہ سے گرگورس لامبراکس کے قتل جیسی سازش قرار دیا جاسکتا ہے۔
ذوالفقاعلی بھٹو کے متعلق تو واضح ہے کہ ان کی پالیسیاں امریکی مفادات سے متصادم تھیں مگر کیا بے نظیر بھٹو کے متعلق یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ انہوں نے اپنے شہید باپ کے برعکس ایسی پالیسیوں پر عمل کیا جو امریکہ کے حق میں تھیں؟ ان دونوں شہید
شخصیات کے کردار کاامریکی مفادات کے حوالے سے جائزہ لینے کیلئے مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ بھٹو نے حکومت اور سیاست میں سرد جنگ کے عروج کے دوران فعال کردار ادا کیا جبکہ بے نظیر بھٹو کا فعال کردار اس وقت شروع ہوا جب سرد جنگ کے خاتمے اور سوویت یونین کے زوال کی دہائی چل رہی تھی۔ جس طرح ذوالفقارعلی بھٹو نے امریکی مفادات کے برعکس کردار ادا کرنے کے باوجود ایسا کچھ نہیں کیا جسے سوویت یونین کیلئے فائدہ مند قرار دیا جاسکے اسی طرح بے نظیر بھٹو کے کردار میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جس سے یہ ظاہر ہوکہ کسی خاص مقصد کے تحت انہوں نے کبھی کوئی کام امریکہ کے حق میں اور زوال پذیر سوویت یونین کے خلاف کیاتھا۔ یہ بات ان لوگوں سمجھانا کافی مشکل ہے جو ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیںکہ پاکستان کو آزاد اور خود مختار ملک بنانے کیلئے صرف امریکہ نوازی سے ہی نہیں بلکہ سوویت نوازی سے گریز بھی ضروری تھا۔ بائیں بازو کے جو لوگ بے نظیر پر امریکہ نوازی کا الزام لگاتے ہیں کیا ماضی میں ان کے ماسکو یا پیکنگ نواز ہونے پر کوئی شک کیا جاسکتا ہے۔ یہ باتیں شاید محدود فہم رکھنے والے لوگوں کی سمجھ سے بالا ہیں۔ کوئی سمجھے یا نہ سمجھے مگر بتانا ضروری ہے کہ بے نظیر بھٹو ایک مطلق جمہوریت پسند خاتون تھیں۔ ان کی جمہوریت پسندی کی ایک مثال یہ ہے کہ انہوں نے صرف پاکستان میں ضیا مارشل لا کے نفاذ کی مخالفت نہیں کی بلکہ جب سوویت یونین کے آشیر باد سے 1981 سے 1983 تک پولینڈ میں مارشل لا نافذ رہا وہ اس کی بھی ناقد تھیں۔ کیا کوئی ماسکو نواز یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس نے صرف پاکستان میں نافذ مارشل لا کی ہی نہیں بلکہ پولینڈ میں لگائے گئے کمیونسٹ مارشل لا کی بھی مخالفت کی تھی۔ جہاں تک امریکہ کی بات ہے تو امریکہ اور مغربی یورپ کے ملکوں نے اس وقت پولینڈ میں نافذ مارشل لا کی مخالفت میں تو زمین آسمان ایک کردیا تھا مگر وہ سب پاکستان میں موجود ضیا ئی مارشل لا حکومت کو ہر قسم کی سہولت فراہم کر رہے تھے۔ جو لوگ سابقہ ماسکو نوازوں، امریکہ نوازوں اور بے نظیر کے کردار کے فرق کو سمجھنے سے قاصر ہیں ان کے پلے یہ بات کبھی نہیں پڑسکتی کہ بے نظیر بھٹو شہید کو کسی طرح بھی امریکہ نواز تصور نہیں کیا جاسکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button