ColumnM Anwar Griwal

طوطا کہانی! .. محمد انور گریوال

محمد انور گریوال

 

گزشتہ دنوں مَیں کالم لکھنے کی تیاری میں مصروف تھا کہ ہمارے طوطے نے مسلسل اور شدید حملے کرکے میری کوشش ناکام بنادی۔ اُس نے پے در پے حملے کرکے بال پوائنٹ میرے ہاتھ سے اُچک کر مجھے پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔ میں نے اس کی دن دہاڑے غنڈہ گردی کی تصویر سوشل میڈیا کے حوالے کر دی، منہ میں قلم دبائے طوطے کی طرف سے سوال ہوا کہ ’’آج کس موضوع پر کالم لکھا جائے‘‘۔ سوشل میڈیائی دوستوں نے اپنے مزاج یا ضرورت کے مطابق موضوعات بتائے۔ وہ اگرچہ ہمارے گھر کا پالتو طوطا ہے، مگر ہم اُس کے نوکر ہیں، یعنی کالم تو ہم ہی کو لکھنا تھا۔ درمیان میں اور مصروفیات اور موضوعات آتے رہے، اس لیے ذرا تاخیر ہو گئی۔
طوطے سے میرا پہلا تعارف اُس وقت ہوا جب گائوں میں بچپنے کے دن تھے، درختوں اور فصلوں پر طوطے منڈلایا کرتے تھے، ٹیں ٹیں کا شور شرابہ تھا۔ مصوّرِ کائنات کی بنائی ہوئی ہر چیز ہی انوکھی ہے، جس کو دیکھو ، دوسری سے جداگانہ۔ مخلوقات کی تعداد کا اندازہ لگانا ہی مشکل ہے، اور ساتھ یہ حکم کہ ہر چیز کی بناوٹ اور وجود میں حضرت انسان کیلئے نشانیاں ہیں، اُس کی قدرت کو دیکھتے جائیں اور حیرتوں کے سمندر میں غوطہ زن رہیں۔مگر طوطا سب سے منفرد ہے ۔پھل دار پودوں یا مکئی جیسی فصلوں کو طوطوں سے محفوظ رکھنے کیلئے کسان لوگ طرح طرح کے حربے استعمال کیا کرتے تھے۔ کھیت میں صلیب کی شکل کے ڈنڈے گاڑ کر انہیں کپڑے پہنا دیئے جاتے تھے، یا شاپر وغیرہ چڑھا دیئے جاتے، جس سے طوطا سمیت دیگر پرندوں کو یہ تاثر دیا جاتا گویا کوئی آدمی وہاں موجود ہے، جو کسی بھی وقت جان کا خطرہ بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹین کے ڈبے کو پیٹنے کا اہتمام بھی ہوتا، جس سے پیدا ہونے والی آواز سے طوطے فصل سے ذرا دور ہی رہتے۔ لڑکپن میں طوطوں سے فصلوں کو بچائو کی یہ سرگرمیاں دلچسپی کا موجب ہی نہ ہوتیں بلکہ لڑکوں بالوں کی ٹین کھڑکانے پر ڈیوٹی لگائی جاتی۔ اگر یہ کام طویل یا مستقل نہ ہوتا تو ہم لوگ بڑے شوق سے کیا کرتے۔
طوطے کو اللہ تعالیٰ نے خاص بنایا ہے، سبز رنگ، سُرخ چونچ، لمبی دُم ، خوبصورتی کا مجموعہ ۔ مکئی کی فصل کے ساتھ تو اِس کی خاص محبت تھی، جیسی مکئی کی ’’چھلّی‘‘ (بھُٹّہ) ویسا ہی طوطا، اوپر سے مکئی کے پودے کے چوڑے چوڑے پتے۔ دُور سے تو اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ کس پودے کی کس چھلی پر طوطا اپنے پیٹ کی آگ بجھا رہا ہے؟ جھُنڈ کے جھُنڈ آتے اور فصل میں سے اپنا حصہ وصول کرکے درختوں پر جا بیٹھتے۔ فصل یا پودوں پر لگے پھلوں کی بربادی کی کہانی تکلیف دہ تھی، طوطے کی اِن سرگرمیوں پر غصہ بھی بہت آتا تھا، مگر اللہ کی اِس خوبصورت مخلوق سے نفرت کبھی نہ ہوئی، یہ ہمیشہ دل کو بھائے۔
طوطے سے دوسرا تعارف اُس وقت ہوا جب ہم لوگ دیہاتی سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کرکے ’’اعلیٰ‘‘ تعلیم کے حصول کیلئے شہر گئے۔ ہائی سکول اور کالج کی زندگی میں دیکھا کہ سڑک کے کنارے موجود فٹ پاتھ پر کوئی صاحب چادر بچھائے بیٹھے ہیں، قریب ہی ایک طوطا بھی ہے، جو اِرد گرد کے مناظر کو گہری نگاہ سے دیکھتا اور خاموش بیٹھا رہتا۔ اُس آدمی کے سامنے کچھ پرانے ، بوسیدہ اور میلے کچیلے لفافے ترتیب سے رکھے ہوتے تھے۔ معلوم ہوا کہ یہاں قسمت کا حال بتایا جاتا ہے، چونکہ تعلیم بھی عام نہ تھی، اگر تھی بھی تو اُس نے لوگوں کا کچھ نہ بگاڑا تھا (ویسے تو اب بھی معاشرے میں بے شمار لوگ موجود ہیں جن کا اعلیٰ تعلیم بھی کچھ نہیں بگاڑ سکی)۔ بہرحال لوگ اِس ’’دکان ‘‘پر آتے اور اپنے دل کی تسلی کا ساماں کرتے تھے۔ طوطے والا اپنے ہی جیسے بوڑھے طوطے کو مخصوص انداز میں ہدایات دیتا اور طوطا ٹہلتا ہوا جاتا اور کوئی لفافہ نکال لاتا، اُس میں سے جو کاغذ نکلتا ، اُسی میں سے گاہک کی قسمت کا حال برآمد ہوتا۔ یہ’’ طوطا کاروبار‘‘ عام تھا۔
پھر وقت آیا، فصلیں اُجاڑنے والے طوطے کم ہونا شروع ہوگئے، پیچھے نگاہ دوڑاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ چند ہی سالوں میں قدرت کا یہ حسین شاہکار ناپید ہو گیا، نہ صلیبیں گاڑی جاتیں اور نہ ٹین بجائے جاتے۔طوطا قسمت کا حال بتانے تک محدود ہوگیا۔ لوگ مزید پڑھ لکھ گئے تو قسمت کا حال بتانے والے طوطے بھی منظر سے غائب ہو گئے۔ اب یہ چڑیا گھروں کی زینت ہیں، یا پھر لوگوں نے گھروں میں پال رکھے ہیں، جو کاروبار کا ذریعہ ہیں۔ جتنی اقسام طوطے کی ہیں، شاید ہی کائنات میں کوئی اور پرندہ ہو جو مقابلے میں آسکے۔ خوبصورتی کے ساتھ ساتھ بولنے والے طوطے کی اپنی مانگ ہے، جنہیں عرفِ عام میں تو ’’را طوطا‘‘ کہا جاتا ہے۔ جب را طوطے کی بات آتی ہے تو بات پھر حضرت انسان پر آجاتی ہے کہ اِن میں بہت سے ایسے ہیں جو انسان ہونے کے باوجود ’را طوطے‘ کا کردار ادا کرتے ہیں، اب سوشل میڈیا اور تعلیم عام ہونے کے باوجود ’را طوطوں‘ کی بہتات ہے، سیاست میں دیکھ لیں، جو ’’آقا‘‘ کہے گا اور سکھائے گا، وہی بولنا ہے،کیونکہ یہاں سوچنے کی ضرورت اور گنجائش نہیں ہے، صرف سیکھی ہوئی بات دہراتے رہنا ہی اِن کا کام ہے۔ سوشل میڈیا دیکھ لیں، کوئی اخبار پڑھ لیں، کسی ٹی وی پر نگاہ ڈال لیں، چار سُو ’’را طوطے‘‘ اپنے اپنے آقا کی یاد کروائی ہوئی بولیاں بولتے دکھائی اور سنائی دیتے ہیں۔ فیس بک پر ڈالی گئی طوطے کی تصویر کے ضمن میں بہت سے تبصرے آئے، طوطے کے پوچھے گئے سوال پر کہ’’ آج کس موضوع پر کالم لکھا جائے ؟‘‘ہمارے محسن اور بزرگ شاعر جناب احسان رانانے لاجواب پنجابی شعر لکھا جو حسبِ حال بھی ہے اور باکمال بھی، لطف لیجئے؛
طوطے چُوری کھا کھا پُچھن
لکھیے کِیہ، سرکارو بولو!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button