ColumnMoonis Ahmar

سیاسی بحران اور خطرات ۔۔ ڈاکٹر مونس احمر

پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر

 

تین نومبر کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر قاتلانہ حملے اورچھ نومبر کو لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران ان کے عزم کے بعد جہاں انہوں نے اپنے لانگ مارچ کو دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، اس بحران کے خطرناک مضمرات کے ساتھ مزید بڑھنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ موجودہ بحران کے سنگین خدشات ہیں، جو پی ٹی آئی اور اتحادی حکومت دونوں نے غیر سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر پیدا کیے ہیں، اگر اسے سیاسی مذاکرات کے ذریعے منظم نہ کیا گیا تو خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔ اگر موجودہ بحران کو غلط طریقے سے سنبھالا گیا تو اس کے کیا مضمرات ہوں گے؟ سنگین بحران کے تمام اشارے، جیسے واقعات پر کنٹرول کھونا، انتہائی خطرہ، خطرے کی حد، شدید دشمنی، تناؤ، مواصلاتی خلاء اور تعطل آج پاکستان کو لپیٹے ہوئے بحران میں واضح ہیں۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان سابق وزیر اعظم پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کے ماتحت جوڈیشل کمیشن بنانے کیلئے اتفاق رائے کے بغیر، دونوں جماعتوں کے درمیان آزادانہ اور منصفانہ قبل از وقت انتخابات کے انعقاد پر بہت بڑا فرق ہے۔کیا عوام کو یہ معلوم تھا کہ عمران خان کی حکومت کی برطرفی ملک میں ایک سنگین بحران پیدا کرے گا جو پی ٹی آئی اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بداعتمادی کو مزید گہرا کرے گا؟ عدم اعتماد کا ووٹ اپوزیشن کا آئینی حق تھا لیکن الزام لگایا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے اتحادیوں کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت عمران خان کو ہٹانے پر آمادہ کیا گیا جو اس وقت کی اپوزیشن کے خلاف مزید کریک ڈاؤن کا خدشہ رکھتے تھے۔ ‘طبی بنیادوں پر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے سمیت اپوزیشن کے اہم رہنماؤں کے پہلے سے تصور کیے گئے تصورات، کہ اگر اس وقت کے وزیر اعظم کو اگلے انتخابات تک اقتدار میں رہنے دیا گیا تو وہ نومبر 2022 میں اپنی پسند کا آرمی چیف مقرر کریں گے۔ تاکہ وہ 2023 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکے اور حزب اختلاف کے اہم رہنماؤں کو بدعنوانی کے معاملے میں مستقل طور پر قید کر سکے۔ عمران خان کی حکومت کو ہٹانے کیلئے ’’گریٹ گیم‘‘ کو اس وقت تقویت ملی جب گزشتہ سال نومبر میں پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف کے درمیان لاہور میں ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں دونوں نے اپنے اپنے لیے سنگین مضمرات پر تبادلہ خیال کیا۔ اگر پی ٹی آئی حکومت کو نہ ہٹایا گیا تو سیاسی مستقبل پی ٹی آئی کے منحرف ایم این ایز اور اتحادی پارٹنرز جیسے ایم کیو ایم، جی ڈی اے، بی اے پی، پی ایم ایل ق، بی این پی مینگل اور دیگر جماعتوں سے حمایت حاصل کرنے کیلئے زبردست لابنگ شروع ہوئی جس کا اختتام مارچ 2022 میں قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی جگہ پر ہوا۔
سازش، جیسا کہ پی ٹی آئی نے الزام لگایا ہے، اس ’’عظیم کھیل‘‘ کی ایک اور جہت ہے جو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر جوزف بائیڈن کے درمیان اعتماد کی شدید کمی کو ظاہر کرتی ہے، جس کی بازگشت دونوں کے درمیان براہ راست رابطے کی کمی ہے اور باقی تاریخ ہے، لیکن پاکستان کے عوام نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت حکومت کو ہٹانے کی سوچی سمجھی سازش کی بھاری قیمت ادا کی۔ اس وقت کی اپوزیشن جماعتوں یعنی مسلم لیگ نون، پی پی پی اور جے یو آئی ف نے عدم اعتماد کے ووٹ کے مضمرات کا غلط اندازہ لگایا تھا کیونکہ پی ٹی آئی 11 اپریل کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد اپنی مقبولیت دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ اس کے دور میں پی ٹی آئی کی غیر مقبولیت اس حد تک بڑھ جاتی کہ اس کا دوبارہ انتخاب انتہائی مشکل ہوتا لیکن اس وقت کی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی ذہنیت اس قدر متعصبانہ اور موقع پرست تھی کہ وہ عمران خان کو بطور وزیر اعظم اپنی مدت پوری کرنے کا موقع دینے کیلئے تیار نہیں تھے ،عمران خان کے نزدیک سب سے زیادہ ناقابل معافی عمل فوجی اسٹیبلشمنٹ کا تھا جس نے اس وقت دوسری طرف دیکھا جب انہیں اقتدار سے ہٹانے کی ’’سازش‘‘ کی جارہی تھی۔ اسٹیبلشمنٹ کو یقین تھا کہ اس وقت کے وزیر اعظم نے لوگوں کا اعتماد کھو دیا ہے اور امریکہ، سعودی عرب اور چین کے ساتھ تعلقات خراب کرنے والی خارجہ پالیسی اپنائی ہے۔ اس طرح اسٹیبلشمنٹ نے اپنی غیر جانبداری کا اعلان کیا اور عمران خان کی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کی اجازت دی۔ نومبر2021 سے اپریل 2022 کے اوائل تک کے واقعات کا سلسلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حقیقی طاقت رکھنے والے پی ٹی آئی کی حکومت کو ہٹانے کی قیمت کے بارے میں کتنے نادان تھے۔ مارچ میں قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے اور مخالفین کے خلاف انتقامی مہم کی وجہ سے عمران خان کی مقبولیت کا گراف نیچے چلا گیا تھا لیکن 11 اپریل کے بعد سے جب ان کی حکومت ہٹائی گئی، اس نے اتحادی حکومت کی معاشی ناکامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اور اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت کو دوبارہ حاصل کرنے کیلئے غیر ملکی سازشوں کے بیانیے کو آگے بڑھاتے ہوئے مقابلہ کیا۔ اگر موجودہ بحران کا انتظام غلط طریقے سے کیا جاتا ہے، تو کوئی تین اثرات کا تصور کر سکتا ہے۔ سب سے پہلے خانہ جنگی کا امکان ہے جس کا ذکر وزیر اعظم شہباز نے لاہور میں ایک حالیہ پریس کانفرنس کے دوران بھی کیا تھا اور عمران خان کی طرف سے بار بار خبردار کیا گیا تھا۔ عمران خان کی جان پر قاتلانہ حملے اور واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے بعد پاکستان کے مختلف حصوں میں تشدد کے پھوٹ پڑنے کو پہلے ہی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ بحران کے پرامن انتظام پر بات چیت میں ناکامی بڑھے گی اور پرتشدد مضمرات کا باعث بنے گی۔ خانہ جنگیوں کے مختلف نمونے ہیں جیسے روسی، چینی اور ایرانی انقلابات کے ساتھ ساتھ سابق یوگوسلاویہ، عراق اور افغانستان میں تشدد میں اضافہ۔ لیکن پاکستان نے تشدد اور خونریزی کی اس سطح کا تجربہ نہیں کیا جیسا کہ مذکورہ بالا واقعات میں دیکھا گیا ہے۔ دوسرا، پاکستانی آبادی کا ایک حصہ، جو پی ٹی آئی کے حامیوں پر مشتمل ہے، وردی میں مردوں کے ساتھ اپنے مخالفین کے خلاف کھڑا کیا جائے گا۔ اس صورتحال سے کس کو فائدہ ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ یہ واقعی ہمارا حریف ہندوستان ہے۔ مسلم لیگ نون کو قلیل مدتی فوائد کیلئے عدم اعتماد کے ووٹ کا حصہ بننے کے نتائج سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے تھا کیونکہ اس کے اقتداری عزائم اور سیاسی موقع پرستی نے ‘ووٹ کو عزت دو اور سیاست میں فوج کی مداخلت کے خلاف اس کے پرانے بیانیہ کو بدنام کیا ہے۔ آخر میں، اگر پاکستان بحران کی وجہ سے عدم استحکام کا شکار ہے، تو یہ بیرونی طاقتوں کیلئے ہمارے جوہری ہتھیاروں کے خلاف اپنے مذموم عزائم کے ساتھ آگے بڑھنے کا ایک موقع ہوگا۔ پاکستان میں موجودہ بحران سے نمٹنے کا واحد راستہ مارچ 2023 کی طرح اب سے چند مہینوں میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر ، جامعہ کراچی کے شعبہ بین لاقوامی تعلقات کے سابق چیئرمین، سابق ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز ہیں، اُنکے انگریزی آرٹیکل کا اُردو ترجمہ بین لاقوامی یونیورسٹی جاپان کے ڈاکٹر ملک اللہ یار خان نے کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button