Editorial

پاکستان میں دفاعی نمائش آئیڈیاز 2022

 

ملک کی سب سے بڑی دفاعی نمائش آئیڈیاز 2022 کراچی ایکسپو سینٹر میں جاری ہے اور نہایت خوش آئند امر ہے کہ ہر سال اِس نمائش میں شامل ہونے والی کمپنیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے اور اب افریقہ، امریکہ، ایشیائی ممالک، وسطی ایشیائی ممالک، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک اِس نمائش میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور محتاط اندازے کے مطابق اِس دفاعی نمائش میں شامل ہونے والی کمپنیوں کی تعداد پانچ سو سے بڑھ چکی ہے جو بلاشبہ ہماری بڑی کامیابی ہے یوں کراچی خطے میں دفاعی ساز و سامان کی نمائش کا سب سے بڑا فورم بن گیا ہے۔نمائش میں پاکستان مقامی طور پر تیار ہونے والے ہمہ جہت جنگی ہتھیاروں کی نمائش کرتا ہے، ان میں فضائی جنگ کے لیے تیار کردہ جے ایف 17 تھنڈر سمیت کے علاوہ لڑاکا پائلٹس کی تربیت کے لیے مشاق، سپر مشاق اور کے 8 طیارے بھی نمائش کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دفاعی نمائش آئیڈیاز عالمی دفاعی مارکیٹ میں اہم پلیٹ فارم کی حیثیت اختیار کرگئی ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران دفاعی نمائش آئیڈیاز ایسے اہم پلیٹ فارم کی حیثیت اختیارکر گئی ہے جس سے عالمی دفاعی مارکیٹ میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی پیش رفت اجاگر ہوتی ہے۔ دفاعی نمائش آئیڈیاز 2022 کا موضوع ’’ امن کےلیے ہتھیار‘‘ پاکستان کی امن و سلامتی کی خواہش کا مظہر ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ ہمارا دفاعی شعبہ ٹیکنالوجی کے موجودہ دور کے تقاضوں کے عین مطابق ہے ،نمائش کے موضوع ’’امن کے لیے ہتھیار‘‘پر خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان نے دنیا میں امن کے لیے کام کیا اور کرتا رہے گا۔ خارجہ پالیسی کے تحت دوسرے ممالک سے تعلقات بہتر کر رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان شاید کرہ ارض پر واحد ریاست ہے کہ جس نے امن کے لیے قربانیاں دی ہیں اور ہمیشہ امن کے لیے عالمی مشن کا حصہ بنا ہے اور بلاشبہ دہشت گردی کے خلاف دنیا کی طویل ترین اور بڑی جنگ لڑنے اور دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کا عالمی سطح پراعتراف بھی کیا جاتاہے اور یقیناً دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ اِس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اِس میں پاک فوج، سکیورٹی فورسز اور اداروں کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام نے بھی قربانیاں پیش کیں جن کی تعداد قریباً اسی ہزار سے زائد ہے، معاشی لحاظ سے ہم کمزور تھے اور اِس بیس سال سے زائد عرصے کی طویل جنگ نے ہماری معیشت کی کمر توڑ دی لیکن پھر بھی ہم فتح سے ہم کنار ہوئے۔ پڑوس
میں بھارت اور افغانستان ہیں، افغانستان ہمیشہ بدامنی کا شکار رہا ہے اور پاکستان کی دشمن طاقتوں نے ہمیشہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا اور ابتک کیا جارہا ہے اسی طرح ہمسایہ ملک بھارت ہے جس نے آزادی سے آج تک کبھی ہمیں آزادریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا اسی لیے ہر دہائی میں پاکستان پر جنگ مسلط کی لیکن ہمارے مضبوط دفاع کے باعث ذلیل ہوا اسی دوران بھارت نے ایٹمی صلاحیت حاصل کی کیونکہ روایتی ہتھیاروں سے وہ پاکستان کے خلاف اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتا تھا مگر ہماری قیادت نے اپنے دفاع کے لیے مجبوراًایٹمی صلاحیت حاصل کی کیونکہ اِس کے بغیر ممکن نہیں تھا کہ بے اعتبار دشمن ایٹمی صلاحیت حاصل کرکے ہمارے خلاف استعمال نہ کرے، پس ہمیں اپنے دفاع کے لیے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنا پڑی۔ اس میں قطعی دو رائے نہیںکہ جنوبی ایشیا میں اسلحے کی دوڑ بھارت نے شروع کی اور اِس کے توسیع پسندانہ عزائم کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اور پڑوسی ممالک کو اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے اپنا دفاع مضبوط بنانا تھا پس ہم نے اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے وسائل پر انحصار کیا اور ہمارے سائنسدانوں نے ایسے ہتھیار متعارف کرائے جن کو عالمی سطح پر دفاع کے لیے پسند کیا جارہا ہے اور بلاشبہ بڑے اور ترقی یافتہ ممالک بھی ہمارے ہتھیاروں کے خریدار ہیں اسی لیے ہر سال دفاعی نمائش میں جب پاکستان میں تیار کردہ ہتھیار نمائش کے لیے پیش کئے جاتے ہیں تو دنیا بھر سے ممالک اُن کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔ جب 1990ء کی دہائی میں امریکہ نے دوستانہ اور دیرینہ تعلقات کو ایک طرف رکھتے ہوئے پاکستان کی ایف 16 طیاروں کی قیمت کی ادائیگی کے باوجود جہاز پاکستان کو فراہم کرنے سے انکار کردیا تو وہ صورتحال انتہائی تشویش ناک تھی، بھارت کے لیے تو ہر طرح کی آسانیاں تھیں لیکن ہمیں اپنے دفاعی ضروریات پوری کرنے سے روکا جارہا تھا تبھی مستقبل کے خطرات اور خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہماری عسکری قیادت نے دفاعی سازو سامان کی مقامی تیاری کے لیے اہم اور احسن فیصلہ کیا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہم دفاعی سازو سامان نہ صرف کئی ممالک کو برآمد کررہے ہیں بلکہ انتہائی کامیابی کے ساتھ دفاعی نمائش کا انعقاد بھی کررہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے نجی شعبے کو دفاعی پیداوارمیں دلچسپی ظاہرکرنی چاہیے کہ آج الحمد اللہ ہم نہ صرف اپنی دفاعی ضروریات جدید تقاضوں کے مطابق پوری کررہے ہیں بلکہ دفاعی سازو سامان برآمد کرکے زرمبادلہ بھی لے رہے ہیں جس کی ہمیں ہمیشہ ضرورت رہی ہے۔ امریکہ اور کئی ممالک دفاعی سامان کی پیداوار سے معیشت چلارہے ہیں اگر ہمارے ہاں بہترین منصوبہ بندی کی جائے اور ہمارا نجی شعبہ دفاعی پیداوار کے شعبے میں دلچسپی کا اظہارکرے تو بہترین شراکت داری کے نتیجے میں ہم مزید آگے جاسکتے ہیں۔ ہم پرامن ریاست ہیں اور ہمیشہ جارحیت کے خلاف آواز بلند کرنے والے ہیں لیکن ہم اپنے دفاع سے بھی غافل نہیں ہیں اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ امن کے لیے ہتھیار ضروری ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button