ColumnKashif Bashir Khan

منفی میڈیا وار فیر .. کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

 

پاکستان مین آج کل حقائق کو توڑ مروڑ کر مختلف سیاسی رہنماؤں بلکہ اتحادی حکومت کے حق میں استعمال کرنے کا چلن بہت تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور اس صحافتی بددیانتی نے معاشرے میں شدید انتشار اور بد گمانیوں کو جنم دے کر ملکی حالات شدید پراگندہ کر دیئے ہیں۔پاکستان میں اتحادی حکومت بننے کے بعد میڈیا پر شدید قسم کا قدغن لگا کر اپنی من پسند خبریں اور تجزیئے نشر کرنے، نے پاکستانی میڈیا کی ساکھ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں بری طرح مجروح کی ہے۔آج الیکٹرونک میڈیا کی صورتحال یہ ہے کہ ایک یا دو چینلز کے علاوہ اپوزیشن جو اکلوتی جماعت پر مشتمل ہے کا مکمل بلیک آوٹ کیا جا رہا ہے اور ہر آدھے گھنٹے بعد حکومتی ترجمانوں کی پریس کانفرنسوں سے عوام کو مجبور کیا جاتا ہے کہ ان کی گھڑی ہوئی کہانیوں پر یقین کیا جائے۔یقین جانئے مختلف چینلوں کی سکرینیں اس وقت حکومتی ترجمانی کی بدترین مثال بنی ہوئی ہیں اور عوام کی اکثریت ان وزراء اور مشیران کی شکلیں دیکھ کر اپنے ٹی وی کو سوئچ کر دیتے ہیں یا بالکل بند کر دیتے ہیں۔بند کرنے کی وجہ واضح ہے کہ جس الیکٹرانک میڈیا کو خبر کے حصول کیلئے عوام دیکھنا چاہتے ہیں اسے دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔
بروز ہفتہ لاہور کے گورنر ہاؤس میں صدر پاکستان جناب ڈاکٹر عرف علوی نے صحافیوں سے ملاقات کی۔میں بھی اس ملاقات میں شامل تھا لیکن صدر پاکستان جو ریاست کا سربراہ ہیں، کی صحافیوں سے اس ملاقات کو کسی بھی چینل نے 30 سیکنڈ سے
زیادہ کوریج نہیں دی۔صدر پاکستان کی اس ملاقات کے بعد لاتعداد صحافیوں نے شکایت کی کہ انہیں گورنر ہاؤس کے سٹاف نے مختلف حیلوں بہانوں سے سکیورٹی کے نام پر باہر روکے رکھا اور صدر پاکستان کی صحافیوں سے ملاقات کیلئے اندر نہیں جانے دیا گیا۔خیر اس ملاقات میں بھی صدر پاکستان نے گلہ کیا تھا کہ میڈیا بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے اور پھر جب انہوں نے کسی صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ صدر کا آئین میں کردار متعین ہے اور وہ اس کردار کی ادائیگی کیلئے عمران خان سے مشورہ نہیں لیتے اور عمران خان ان کے لیڈر ہیں اور وہ ان کے پرانے ساتھی ہیں۔یہ جواب دیتے انہوں نے ہاتھ جوڑ کر یہ بھی کہا تھا کہ اب اس جواب کو اپنی مرضی سے مت موڑ لیجیے گالیکن رات کو ہی صدر پاکستان کے اس بیان کو میڈیا نے ٹویسٹ دیتے ہوئے ایسے کوٹ کیا کہ صدر پاکستان عارف علوی نے کہا ہے کہ وہ عمران خان سے مشورہ نہیں لیتے،یہ کسی نے نہیں بتایا کہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گو میں صدر پاکستان ہوں لیکن میرے پرانے ساتھی اور
لیڈر عمران خان ہیں۔صدر مملکت جناب عارف علوی سے ہفتہ کو جب میں نے یہ سوال کیا کہ جس قسم کی زبان وفاقی وزراء پریس کانفرنسوں میں استعمال کرتے ہیں(توں ترا)وہ ہماری آنے والی نسل کیلئے بہت خطرناک ہے اور آپ کو بطور ریاست کے سربراہ ایسی زبان اور لہجوں کی واشگاف الفاظ میں مذمت کرنی چاہئےلیکن جناب صدر کا اس سوال پر جواب گول مول تھا جس نے مجھے مایوس کیا۔
گزشتہ چھ ماہ میں جہاں معیشت تباہ و برباد ہوئی ہے وہاں صحافت پر بھی کاری ضرب لگی ہے اور مختلف ٹی وی چینلز اور اخبارات سے عوام کا اعتبار بری طرح اٹھ گیا ہے۔کچھ ایسے پیرا شوٹر تجزیہ نگار اور اینکرز ہیں جنہیں دیکھتے ہی سامعین اپنی سکرینیں یعنی چینل بدل لیتے ہیں کہ وہ طوطے کی طرح وہ ہی بول رہے ہوتے ہیں جو انہیں بولنے کیلئے دیا جاتا ہے۔گزشتہ دو دن سے وفاقی وزراء سعد رفیق،خواجہ آصف،مریم اورنگزیب، جاوید لطیف اور میاں شہباز شریف وغیرہ صرف اور صرف عمران خان کے اس بیان کو توڑنے مروڑنے میں مصروف ہیں کہ سائفر اور بیرونی مداخلت کی بات آپ ہی چھوڑ اے ہیں، اندازہ کریں کی زندگی سیاست اور ریاست آگے بڑھنے کا ہی نام ہے اور عمران خان جو آج عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل کرنے کے بعد سخت ترین دشمنوں کی نظر میں آئندہ انتخابات میں تمام مخالف سیاسی جماعتوں کا صفایا کرتے نظر آتے ہیں کا بیان دانشورانہ ہے یا جھوٹ؟دانشورانہ اس لیے کہہ رہا کہ رجیم چینج کے نتیجہ میں آنے والی اس اتحادی حکومت نے پاکستان کے معاشی،اخلاقی و معاشرتی حالات کو تباہی کے دھانے پر پہنچا دیا اور پاکستان کے عوام کی غالب اکثریت کو ایمان کی حد تک یقین ہے کہ شہباز شریف کی اتحادی حکومت کو لایا گیا ہے،اگر کسی کو میری اس موقف سے اختلاف ہے تو پچھلے چھ ماہ میں ہونے والے تمام ضمنی انتخابات کے نتائج دیکھ لے۔عمران خان کا بیان کے سائفر سے آگے سوچنا چاہیے اس بات کا غماز ہے کہ آنے والے انتخابات میں تحریک انصاف کی جیت یقینی ہے اور مستقبل میں حکومت چلانے کیلئے تمام طاقتوں کے ساتھ تعلقات اچھے بنانا ہوں گے کہ آج چینی صدر اور امریکی صدر بھی ماضی کی تلخی کے برعکس اکٹھے بیٹھے نظر آتے ہیں۔اسی طرح امریکہ اور روس بھی ایٹمی ہتھیاروں کو استعمال نہ کرنے کے معاہدے کے بات کرتے نظر آ رہے ہیں ۔اب سوچنے کی بات ہے کہ ماضی میں لیاقت علی خان کے قتل اور ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل اور ان کی حکومتوں کے خاتمے کے پیچھے گو امریکہ تھا لیکن ان کے قتل کے بعد امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات خراب ہوئے تھے؟ تاریخ گواہ ہے کہ لیاقت علی خان اورذوالفقار علی بھٹو کے پاکستان سے خاتمے کے بعد امریکہ پاکستان کے تعلقات بہت بہتر ہوئے تھے لیکن یہ تعلقات امریکہ کی خواہشات اور مقاصد کی تکمیل کے آئنہ دار تھے۔
بیرون ملک کے میڈیا نے جو انٹرویو عمران خان کے گزشتہ دنوں لیے وہ بھی یہاں کے وزراء اور کچھ صحافی نما لوگوں نے توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی جس پر عالمی میڈیا نے بھی نہ صرف زبردست احتجاج کیا بلکہ اس سے پاکستان کی دنیا بھر میں ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچالیکن آج بھی تحریک انصاف کے میڈیا کو کنٹرول کرنے والوں کو اس حقیقت کا ادراک نہیں ہو رہا اور وہ ان ہی صحافیوں کو عمران خان سے ملواتے نظر آتے ہیں جو عمران خان سے ملاقات کے بعد باہر نکل کر اپنے اپنے اخبارات اور چینلز پر منفی پراپیگنڈہ کرتے ہیں۔آج جب اتحادی جماعتیں اپنا سیاسی متاع اور عوامی حمایت لٹا چکے ہیں اور اب ان کی کوشش ہے کہ عمران خان کی تقریروں اور بیانات کو اپنی من پسند میڈیا کے ذریعے توڑ مروڑ کر عوام کے دلوں پر ثبت ہوئے اپنے امپورٹڈ یعنی بیرونی آلہ کار حکومت ہونے کے داغ کو کسی طور مٹا یا کم کر سکیں۔کاش کہ موجودہ وفاقی حکومت کے وزیر و مشیر ہر گھنٹے کے بعد میڈیا پر ا کر جو جھوٹ بولتے ہیں وہ عوام کی فلاح کے کام کیلئے اپنی قوتوں کو خرچ کرتے لیکن گزشتہ سات ماہ میں اتحادی حکومت نے صرف اور صرف اپنے کیس ختم کروائے اور عوامی رائے کو طاقت سے کچلنے کا کام کیا جس کا خمیازہ وہ عوام کی نفرت اور غم و غصہ کی صورت بھگت رہے ہیں۔کاش کہ ہمارے میڈیا کے مخصوص اشخاص جو ان اتحادی وفاقی حکومت کے بازی گروں کے ٹولے کے حمایتی ہیں کو بھی اس ساری نازک اور خوفناک صورتحال کا ادارک ہوتا تو وہ اس خطرناک ’’میڈیا وار فیر‘‘ کا حصہ نہ بنتے لیکن جب مالی مفادات قومی مفادات پر حاوی ہو جاہیں تو ایسا ہونا نا ممکن ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button