ColumnNasir Sherazi

ضرورت نیو ہلاکو خان ۔۔ ناصر شیرازی

ناصر شیرازی

 

عراق کاشہر بغداد تاریخی شہر ہے، اس سے پہلا تعارف بچپن میں بچوں کے لیے تخلیق کردہ ادب سے ہوا۔ اُس زمانے میں یہ کتابیں چونی اٹھنی میں مل جایا کرتی تھیں۔ دوسرا تعارف ’’بغداد کے چور‘‘ فلم دیکھ کر ہوا۔ تیسرا تعارف ’’بغداد بائی نائٹ‘‘ کے بارے میں جان کر ہوا جبکہ چوتھا اور آخری تعارف ہلاکو خان کی نسبت سے ہوا۔ شاید آپ سوچ رہے ہوں میں ایک سنیئر آفیسر اصغر خان عرف ہلاکو خان کی بات کررہا ہوں تو ایسا نہیں ہے۔ اصغر خان صاحب بھی ایک نیک نام پولیس آفیسر ہوئے ہیں لیکن میںجنگجو ہلاکو خان کی بات کررہا ہوں یعنی اصلی ہلاکو خان کی، جس نے بغدادکی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ یہ ہلاکو خان صاحب اپنے کردار کے لحاظ سے آج کل میری پسندیدہ شخصیت ہیں۔ انہوں نے جناب آصف زرداری کی طرح اینٹ سے اینٹ نہیں بجائی نہ ہی انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوںمیں ایک ایک اینٹ لے کرانہیں بجایا بلکہ ہلاکو خان نے اس طرح اینٹ سے اینٹ بجائی کہ اس کا حق ادا ہوگیا۔ ان کے بعد کوئی ماں کا لعل ایسا پیدا نہ ہوا جو ان کے ریکارڈ کو توڑنے کی ہمت و جرأت کرسکا۔
بغداد ایک زمانے میں علم و حکمت کا گھر تھا۔ اہل بغداد خوشحال تھے اور ہر اعتبار سے خودکفیل بھی، اللہ تعالیٰ نے انہیں لاتعداد نعمتوں سے نوازا تھا، مختصر یہ ہے کہ ان کے پیٹ بھرے ہوئے تھے وہ کسی معاملے میں کسی کے محتاج نہ تھے، انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہر زمانے میں پیٹ بھرنے کا ہی رہا ہے۔ جب انسان کا پیٹ بھرا ہوا ہو اور کرنے کو کوئی کام نہ ہوتو پھر اُسے مستیاں سوجھتی ہیں جو بڑھتے بڑھتے خرمستیوں میںتبدیل ہوجاتی ہیں۔ اہل بغداد کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ ایک وقت ایسا آیاجب بغدادکے دانش کدوں میں یہ بحث شروع ہوگئی کہ کوا حلال ہے یا حرام ۔ اس وقت کے دانشوراس بات کے حق اور اس کی مخالفت میں ایسی ایسی دلیلیں ڈھونڈ کرلاتے کہ عقل ان کی دانش پر حیران رہ جاتی۔کوئے کو حلال قرار دینے والے کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے دو طرح کیانسان پیدا کئے ہیں سیاہ اور سفید۔ ان کے کھانے کے لیے بھی دوطرح کے پرند پیدا کیے ہیں سیاہ اور سفید۔ سیاہ یا سیاہی مائل لوگوں کے لیے کوا بنایاگیا ہے اورسفید یا نسبتاً صاف رنگ والوں کے لیے کبوتر، چونکہ کبوتر حلال ہے لہٰذا کوا بھی حلال ہے اس کی مخالفت میں یہ دلیل دی جاتی تھی کہ کبوتر شکل و صورت کے اعتبارسے معصوم شکل ہے اس کی غٹرغوں غٹرغوں دل کو لبھاتی ہے یہ امن پسند ہے لہٰذا حلال ہے لیکن کوا واہیات شکل رکھتا ہے اس کی آواز بھی کرخت ہے پھر یہ
تخریب کار واقع ہوا ہے، آنکھ بچاکر کوئل کے انڈے پی جاتا ہے لہٰذا حرام ہے۔ اس خیال سے اختلاف کرنے والے کہتے تھے کہ کبوتر وفا دار ہے صبح سے شام تک محو پرواز ہے توشام ڈھلنے سے قبل اپنے مالک کی منڈیر پر آ بیٹھتا ہے جبکہ کوا آوارہ اور بدچلن ہے یہ کسی سے وفا نہیں کرتا یہ صبح جس کا دم بھرتا ہے شام کے بعد اسے پہچانتا تک نہیں پس کبوتر حلال ہے اور کوا حرام ہے۔ یہ بھی کہاجاتا تھا کہ کبوتر پاک و پاکیزہ اناج کھاتا ہے لہٰذا حلال ہے جبکہ کوا حرام حلال میں تمیز نہیںکرتا اور بسا اوقات حرام خوری کرکے پھولا نہیں سماتا لہٰذا کوا حرام ہے۔بغداد میںیہ بحث عرصہ دراز تک جاری رہی وہ شخصیات وہ حکمران جنہیں قوم کی رہبری و راہ نمائی کرنی تھی وہ کوئے کے حلال یا حرام ہونے کی بحث صبح شروع کرتے اور اسی میں شام کردیتے اگل روز پھر ان کے غوروفکر اور بحث کاموضوع کوا ہی ہوتا۔
ہلاکو خان کو بہت دور بیٹھے اہل بغداد کے اس شغل کی اطلاعات ملیںتو اس نے بغداد پہنچنے کا قصد کیا،وہ جنگجوئوں کی ایک بڑی فوج لے کر بغدادکے دروازے تک پہنچ گیا لیکن بغدادکے دانش وروں نے اس کاکوئی نوٹس نہ لیا،انہیں بتایاگیا کہ ہلاکو خان آئندہ چوبیس گھنٹوںمیں بغداد پر حملہ کرنے والا ہے تو ان کا جواب یہ تھا کہ چوبیس گھنٹے تو بہت طویل عرصہ ہے،ہم اِس سے قبل ہی یہ فیصلہ کرلیں گے کہ کوا حلال ہے یا حرام،پھر اس کے بعد ہلاکو خان سے بھی نبٹ لیں گے۔اسوقت کی سرکار اور سرکاری ترجمان عوام کو بتایاکرتے تھے کہ بغداد کادفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اسے کسی سے کوئی خطرہ نہیں۔ بغداد کے دانشور اس پر مہر تصدیق ثبت کرتے اور کوے کے حلال یا حرام ہونے کی بحث میں ایک دوسرے کے خوب لتے لیتے۔ وہ اسی شغل میں مصروف تھے کہ ہلاکو خان کی فوجیں بغداد شہر میںداخل ہوگئیں۔انہوں نے وہ کشت و خون کیا کہ خدا کی پناہ، انہوں نے بلاتفریق رنگ ونسل ایسا قتل عام کیا کہ تاریخ انسانی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ مورخ لکھتا ہے کہ ہلاکو خان بے نیام تلوار لے کر بغداد کے سب سے بڑے چوک میں بیٹھ گیا، اس کے فوجی اہل بغداد کے کٹے ہوئے سر لاتے اور اس کے قدموںمیںرکھ کر مزید قتل عام کے لیے بغداد کے گلی کوچوں میں گھس جاتے وہ اور سر لے کر آتے اور سروں کے ڈھیر کو مزید اونچا کرتے جاتے شام تک اتنے کٹے ہوئے سر جمع ہوگئے کہ ان سے ایک بلند مینار بن گیا، بغداد کی گلیوںمیں اتنا خون بہا کہ ہلاکو خان کے گھوڑوں کے سم نظر نہ آتے تھے، ہلاکو خان کو چین اس وقت آیا جب کوئے کو حرام و حلال کی بحث میں الجھے ہر شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیاگیا،اس قتل عام میں وہ لوگ بھی مارے گئے جو ان بحث مباحثوں کو سننے کے لیے دور دراز سے آیا کرتے تھے، ان لوگوں کا وہ حال ہوا جو گندم پسنے کے ساتھ گھن کا ہوتا ہے۔ میں نے تاریخ میںجب ہلاکو خان کا یہ کردار پڑھا تو میںبہت متاثر ہوامیرے خیال میں اس نے زندگی میں جو سب سے بڑا نیک کام کیا وہ یہی تھا۔ ہلاکو خان میری پسندیدہ شخصیت کے مرتبے پر فائز ہے میںاس کا اس حد تک گرویدہ ہوچکا ہوں کہ اگر وہ اچانک کہیں سے نمودار ہوجائے تو میں خود سید ہونے او رخود پیر ہونے کے باوجود اس کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہوکرسوچوں گا۔
اہل پاکستان آج کل اہل بغداد کی طرح بغدادی مرض میں مبتلا نظر آتے ہیں کوئے کو حرام یا حلال کی بحث ہمارے یہاں ایک مختلف انداز میں شام سات بجے سے لے کر رات گیارہ بجے تک مختلف ٹی وی چینلز پر روزانہ دیکھنے کو سننے کو ملتی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ بحث ایک شب جہاں ختم ہوتی ہے اگلے روز پھر وہیں سے شروع ہوتی ہے۔ بحث و مباحثے میںشریک شخصیات کی تعداد قریباً تیس چالیس کے قریب ہے، ان میں کچھ خواتین بھی شامل ہیں بعض اوقات تو بحث میں شریک ان معزز شخصیات کے منہ سے کف جاری ہوجاتا ہے کچھ ایسے منظربھی دیکھنے میں آئے جب بعض شرکا نے اپنے مخالف کو نہایت چالاکی سے زیر کرلیا تو زیر ہونے والا ہاتھ چالاکی پر اُتر آیا۔ کوے کے کرتوت کھل کر سامنے آچکے ہیں لیکن اب بھی کچھ بغدادی دانشور کوے کو حلال ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، ایسے میں مجھے نیو ہلاکو خان کی ضرورت شدت سے محسوس ہورہی ہے۔
اب تو آجا کہ تجھے کیا ہے میں
دل کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا ہے میں نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button