ColumnKashif Bashir Khan

کیاجلد انتخابات ہونے جا رہے ہیں؟ ۔۔ کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

 

پاکستان کے حالات لانگ مارچ ، عمران خان پر قاتلانہ حملے اوردوبارہ لانگ مارچ کی اسلام آباد روانگی کے بعد بدترین سیاسی ابتری کی جانب جانے کی وجہ سے نئے انتخابات کی جانب تیزی سے جاتے ہوے دکھائی دے رہے ہیں اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف پچھلے قریباً چار دن سے لندن میں ہیں اور ان کی اور نواز شریف کی نئے انتخابات میں نہ جانے کی کوشش ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ حکومت حاصل کرنے کیلئےاور عمران خان کی حکومت ختم کرنے کیلئے جو فیصلہ گزشتہ اپریل میں متحدہ اپوزیشن نے کیا تھا آج و ہی ان کی سیاسی قبر کھود چکا ہے اور نئے انتخابات ان کیلئے بھیانک خواب کی مانند ہوچکے ہیں۔اپوزیشن بالخصوص نون لیگ جوعمران خان کے دور حکومت میں قریباً ہر ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کررہی تھی آج اس کی سیاسی حیثیت یہ ہو چکی کہ اپریل کے بعد ہونے والے 37 ضمنی انتخابات میں سے 29 ضمنی انتخابات واضع مارجن سے تحریک انصاف جیت چکی ہے اور لاہور سمیت پنجاب جسے نون لیگ اپنا مضبوط گڑھ سمجھتی تھی آج نون لیگ کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے اور ایسی ہی صورتحال کا سامنا پیپلز پارٹی کو سندھ اور جمعیت علما اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی کو خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہے۔پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال غیر معمولی ہے اور اس صورتحال کا ماضی میں 1977 میں بھٹو کی معزولی کے بعد کی سیاسی صورتحال سے تقابل نہیں کیا جا سکتا۔بطور صحافی میں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور حکومت بھی دیکھے اور ان کی معزولی کے بعد ان کی غیر معمولی مقبولیت کو بڑھتے ہوئے بھی دیکھا لیکن عوام کا جو جوش و خروش میں آج دیکھ رہا ہوں وہ ماضی میں کبھی بھی نہیں دیکھا۔رہی بات نون لیگ کی تو 1988 میں جن طاقتوں نے آئی جے آئی بنا کر محترمہ بینظیر بھٹو کا راستہ روکنے کیلئے اپنی پوری طاقت سے میاں نواز شریف کو لانچ کیا تھا اور انہوں نے ہی ہر مرتبہ میاں نواز شریف کو اقتدار دلایا لیکن آفرین ہے میاں نواز شریف اور برادران پر کہ انہوں نے جب بھی اقتدار ملا اپنے محسنوںکو ڈسا پاکستان کی سیاست کا ماضی گواہ ہے کہ جنرل اسلم بیگ مرزا،جنرل آصف نواز جنجوعہ،جنرل جہانگیر کرامت، جنرل مشرف اور پھر جنرل راحیل شریف سے اپنے مختلف ادوار میں نواز شریف نے بھرپور اختلافات کو لڑائی کی حد تک لے جا کر ہمیشہ ملکی سیاست کو پراگندہ کیا۔موجودہ آرمی چیف سے ان کے اختلافات کو تو جلسوں میں اور لندن سے ویڈیو خطابات میں برابھلا کہہ کر انہوں نے ہمارے مقدس ادارے کو دنیا بھر میں رسوا کرنے میں کوئی کسر انہیں اٹھا رکھی تھی۔
ان کی صاحبزادی مریم صفدر نے پچھلے پانچ سالوں میں ہماری مسلح افواج کے خلاف جو کچھ بولا وہ ناقابل اشاعت اور ناقابل بیان ہے۔سابق صدر غلام اسحاق خان کو پاکستان کی سیاست میں کلیدی حیثیت حاصل تھی اور جنرل ضیالحق کی وفات کے بعد ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ نواز شریف ان کی گود میں دودھ پیتے بچے کی مانند سیاست سیکھتے بھی رہے اور اس کے ثمرات بھی وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم بننے کی صورت میں اٹھاتے رہے لیکن 1993 میں جو کچھ میاں نواز شریف نے غلام اسحاق کے ساتھ کیا وہ بھی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ حصول اقتدار کیلئے جیسے حامد ناصر چٹھہ، محمد خان جونیجو، غلام مصطفی جتوئی، پیر صاحب پگاڑا اور ملک قاسم وغیرہ سے سلوک کیا گیا وہ بھی میاں نواز شریف کے حصول اصول اقتدارکیلئے کسی بھی حد تک جانے کی بدترین مثالیں ہیں لیکن آج مفاداتی سیاست جو دراصل پاور پالیٹکس ہے، پر بہت ہی کڑا وقت آیا ہوا ہے اور تمام طاقت کے حامل سیاست دان اور ادارے عمران خان کی عوامی مقبولیت کے سامنے بے بس دکھائی دے رہے ہیں اور ان کی پاکستان سے کمائی ہوئی تمام دولت اور طاقت دھری کی دھری رہ گئی ہے کہ عوامی طاقت اور رائے کے سامنے دولت اور طاقت ہمیشہ ہی کمزور ثابت ہوتی ہے۔ اگر دولت اقتدار بچا سکتی تو پھر صدام حسین، رضاشاہ پہلوی اور کرنل قذافی کا انجام اتنا خوفناک نہ ہوتا۔سوچنےکی ضرورت ہے کہ اگر قذافی،صدام حسین اور رضا شاہ پہلوی کے عوام ان کے ساتھ ہوتے تو امریکہ اور مغربی طاقتیں کبھی بھی ان کو عبرتناک انجام سے دوچار نہ کرتے۔آج کے عالمی حالات میں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ایران کے حکمران،ترکی کے طیب اردوغان اور شام کے حافظ الاسد کو ہٹانے کی مغرب و امریکہ کی شدید ترین خواہش اور کوششوں کی ناکامی کی وجہ ان دونوں رہنماؤں کے ممالک کے عوام کا ان کا ساتھ دینا ہے۔پاکستان کے موجودہ سیاسی بد ترین حالات آج کی پیداوار نہیں ہیں۔ سالہاسال سےعوام کا مینڈیٹ جائز اور ناجائز طریقے سے حاصل کرنے والے حکمران جو ماضی میں عوام کا استحصال کرتے چلے آ رہے تھے اب اپنے منطقی انجام کی جانب پہنچ چکے ہیں۔
آج پاکستان میں تمام اداروں اور طاقت کے محوروں کو اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے علاؤہ کوئی چارہ نہیں کہ بدلتی عالمی صورتحال اور رحجانات سے نابلد پاکستانی طاقتور سیاستدان جن پر پاکستان کی قومی دولت لوٹنے کے بدترین داغ بھی ہیں کو 2022 میں مسند اقتدار پر بٹھانے کو عوام نے بالکل قبول نہیں کیا۔اقتدار سنبھالتے ہی ادھوری قومی اسمبلی سے پاکستان میں کرپشن کو روکنے کیلئے قائم ادارے(نیب وغیرہ)کو ناکارہ بنانے اور بیرون ملک پاکستانیوں کے ووٹ کو اپنے سیاسی مفادات کیلئے ختم کرنے کو پاکستان کے عوام نے بری طرح نہ صرف رد کیا ہے بلکہ اس کے خلاف عوام کا شدید ردعمل کم از کم میرے جیسےصحافی کیلئے حیران کن اور کش کن ہے کہ سالہاسال سے عوام کے شعور کو بیدار کرنے کی انتھک کوششوں کے بعد بھی ایسے لگتا تھا کہ شاید پاکستان کی قوم اب خواب غفلت سے کبھی نہیں جاگے گی لیکن یہ کیا ہوا کہ ماضی میں عوام کی دولت لوٹنے والوں کے اقتدار میں آتے ہیں سب کچھ سیدھا ہونا شروع ہو گیا اور وفاقی حکومت میں شامل اتحادی حکمرانوں کی ماضی کی طرح فاشسٹ ہتھکنڈے بھی عوامی ردعمل کو دبانے میں ناکام ہو چکے اور اب تو کچھ دنوں کی بات ہے کہ جب’’راج کرے گی خلق خدا‘‘ والے دنوں کی آمد قریب دکھائی دے رہی۔ اتحادی حکومت عمران خان کے خلاف کرپشن ڈھونڈنے میں ناکامی کے بعد حکومت جبر اور مذہب کارڈ کھیل چکی اور ان سب میں اسے ناکامی ہو چکی اور اب دکھائی تو یہ دے رہا ہے کہ پاکستان میں عوام کی طاقت کو اپنے مالی اور سیاسی مفادات کے حصول کیلئے استعمال کرنے والے شریف برادران، زرداری اور فضل الرحمان وغیرہ کا سیاسی روز محشر قریب ا ٓچکا اور اس صورتحال میں عمران خان کی سیاسی جدوجہد سے زیادہ ان سیاسی خاندانوں کی اپنی کرپشن اور ہوس اقتدار ذمہ دار ہیں۔ماضی میں حکومتی وسائل کابے دریغ استعمال کر کے عوامی جلسے جلوس کرنے والے شریف برادران اور زرداری وغیرہ کی سیاسی حیثیت اب اتنی بھی نہیں دکھائی دے رہی کہ وہ عوام میں جا کر قابل ذکر جلسے جلوس کر سکیں۔پاکستان کے مسائل کا واحد حل اس وقت حقیقی،شفاف اور منصفانہ انتخابات ہیں اور ان کے انعقاد میں مزید تاخیر پاکستان کی مشکلات میں بےپناہ اضافے کا باعث بنے گا جس کا بہرحال نقصان پاکستان کے عوام کو اٹھانا پڑے گا۔بہر حال پاکستان کی صورتحال کو اگر اب بھی کنٹرول نہ کیا گیا تو پھر ہمیں شدید بحران اور افراتفری کیلئے تیار رہنا ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button