ColumnImtiaz Ahmad Shad

کیا طبیب شہر بھی بیمار ہوچکے؟ ۔۔ امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد

 

دن رات میڈیا میڈیا کھیلنے والوں کے الفاظ کے چنائو نے معاشرے کے تمام طبقات کو ذہنی اور اخلاقی لحاظ سے پژمردہ کر دیا ہے۔بچے جب سوال کرتے ہیں کہ یہ کون سی ویڈیوز ہیں جن کے بارے میں ہر روز گندی باتیں کی جارہی ہیں تو یقین مانیں دل کرتا ہے دیوار سے ٹکریں ماریں اور خود کو لہو لہان کر کے جسم میں موجود وہ سارا گندا خون نکال دیں جس کے ایک ایک خلیے میں سیاست دانوں کے منہ سے ادا ہونے والے الفاظ داخل ہو چکے ہیں۔آپ نے شاید سن رکھا ہو کہ پاکستان اور پاکستان سے باہر بھی کچھ طبیب یعنی ڈاکٹرز اپنے مریضوں کے علاج کیلئے موسیقی یا تلاوت قرآن کا استعمال کرتے ہیں، آوازوں کے ذریعے علاج کا یہ طریقہ کچھ نیا نہیں ہے، زمانہ قدیم کے روایتی معالج صوتی اثرات سے واقف تھے اور علاج کیلئے ان کا استعمال کرتے آئے ہیں، ہپناٹزم کیلئے بھی آواز کا استعمال ہوتا ہے، شاید آپ نے یہ بھی سنا ہو کہ پانی پر موسیقی اور تلاوت قرآن کے یکسر مختلف مگر نمایاں اثرات ہوتے ہیں، اسی طرح کسی چیز کو دم کرنے میں بھی الفاظ کا استعمال ہوتا ہے، جنات وغیرہ کو قابو کرنے یا کسی جسم سے باہر نکالنے والے بھی آوازوں، منتر یا آیات یعنی الفاظ کا سہارا لیتے ہیں۔ جدید سائنس کے مطابق ہم جو کچھ کہتے ہیں اس سے پیدا شدہ لہریں اور ان کے اثرات ہوا میں تا دیر موجود رہتے ہیں اور ایسے آلات کی کھوج کی جا رہی ہے، جو ماضی قریب یا بعید میں کہے گئے الفاظ کو ہوا یا کسی اور میڈیم یا مادے سے الگ کر کے دوبارہ قابل سماعت بنا سکیں، ایسا ہوگیا تو دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں جیسے محاورے اور ہمارے دین میں یوم حساب تمام اعمال کا ریکارڈ حرف بہ حرف پیش کرنے کے تصور کا سائنسی ثبوت فراہم ہو جائے گا۔اس تمہید کا مقصد یہ بات ذہن نشین کروانا تھا کہ الفاظ بہت اہم ہوتے ہیں، نہ صرف یہ کہ کہے اور لکھے گئے الفاظ کے بظاہر معنی بہت اہم ہوتے ہیں، بلکہ موقع محل، سیاق و سباق، لہجہ اور انداز بھی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، اور ہر کہے لکھے لفظ کے اثرات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عواقب بھی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اس لیے جب بھی کوئی تحریر پڑھی یا تقریر سنی جاتی ہے تو ان تمام عوامل کو بھی ذہن نشین رکھنا پڑتا ہے، محض مجرد الفاظ مکمل کہانی نہیں بتاتے۔کس نے کہا، کب کہا، کہاں کہا، کس لب و لہجہ میں کہا، اس بات کے اثرات کہاں تک پہنچیں گے، نتائج اور عواقب کیا ہوں گے؟ یہ سب معلوم ہونا اور اس کا فہم بھی ضروری ہوتا ہے۔ اسی طرح کونسی بات کب، کہاں، کس سے اور کس طرح کہنی یا لکھنی ہے اور کونسی نہیں کہنی یا لکھنی یہ بھی اہمیت کی حامل ہے۔
گفتگو کے آداب اور فن تحریر پر اب تک اتنا کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے کہ میں اپنی کم علمی اور تنگ دامانی کے باعث اس میں مزید کوئی اضافہ تو نہیں کرسکتا البتہ منطقی طرز سوچ و فکر اور استدلال کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے اس محدود کالم کا سہارا لے رہا ہوں۔ہماری بدقسمتی ہے کہ بحیثیت فرد اور معاشرہ ہم نے اب تک منطقی طرز سوچ و فکر اور استدلال کو نہیں اپنایا۔ ہماری اکثر گفتگو لغو، بے معنی، بے مقصد اور لا حاصل ہوتی ہے، الفاظ کے ساتھ ہماری اسی غیرسنجیدہ روش کے سبب آج ہمارے معاشرے میںتعمیری ،اصلاحی گفتگو کے مقابلے پر انتہائی نا معقول اور واہیات قسم کی یاوہ گوئی ، بڑھکیںاور زبان سے کردار کشی کرنے ،ایک دوسرے کو زیر کرنے کیلئے ننگا کرنے کے عمل کو زیادہ اہمیت و پذیرائی حاصل ہے۔آپ کسی کے ساتھ کوئی سنجیدہ یا علمی گفتگو کریں یا تحریر پڑھنے کو کہیں تو کوفت اور بیزاری چہروں اور رویوں سے نمایاں ہوجاتی ہے، مگر کوئی بے ہودہ سیاسی یا سماجی کردار کا تذکرہ کریں یا لایعنی قسم کی گفتگو کریں تو گھنٹوں محفل بام عروج پر رہتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ زندگی کے انتہائی سنجیدہ موضوعات بھی مسخرے پن کی نذر ہوگئے ہیں۔ گذشتہ چند سالوں سے یو ںمحسوس ہو رہا ہے کہ ہم پاکستانی بطور قوم زوال کے کسی آخری درجہ پر فائز
ہو چکے ہیں۔ سیاست سے لے کر معاشی اور سماجی رویوں میں اس قدر گراوٹ اور پسماندگی شاید ہی دنیا کے کسی ملک میں ہو،جس کا سامنا کلمہ طیبہ کی بنیاد پر قائم ہونے والی ریاست کے باشندوں کوہے۔ ریاست کے تمام ستون افرا تفری کا شکار ہو چکے، بزرگ ترین شہریوں کو ننگا کر کے مارنا اور پھر ان کی خواتین کی نجی زندگی کی ویڈیوز بنا کر پہلے سے ہی بے راہ روی کے شکار معاشرے پر ظاہر کرنا اور پھر فخریہ انداز سے سیاستدانوں کااس پر بغیر سوچے سمجھے الفاظ کی بار ش کرنا ،ہمارے معاشرے کے بھیانک چہرے کے سوا کچھ نہیں۔رونا اس بات پر ہے کہ نوجوان نسل جس کی تعلیم و تربیت پر دنیا کی ہر قوم اپنا تمام سرمایہ خرچ کرتی ہے تاکہ مستقبل میں وہ ملک و قوم کو اقوام عالم میں نمایاں مقام دلوا سکیں ، بد قسمتی سے ہم نے انہیں شطر بے مہار سوشل میڈیا دے رکھا ہے جس پر وہ دن رات شہرت،ویوز اور ریٹنگ کے چکر میں اس قدر کام پر مگن ہیں کہ ریاست اور اس کا بنیادی مقصد کہیں کوسوں دور سیاست دانوں کی گالیوں ،بڑھکوں اور دھواں دار غیر سنجیدہ تقریروں میںگم ہو گیا ہے۔بے حسی کا یہ عالم ہے کہ جو کوئی اصلاح یا سدھار کی بات کرتا ہے اس کو ایسے انجام سے دو چار ہونا پڑتا ہے کہ وہ اپنی نسلوں کو بھی منع کرتا ہے کہ معاشرے کی فلاح کیلئے پھر کبھی تحریر یا تقریر کا سہارا نہ لینا۔جس قدر تلخ اور سخت جملوں کا کلچر موجودہ حالات میں دیکھنے یا سننے کو مل رہا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ میرے وطن عزیز کے وہ طبیب بھی بیمار ہو چکے جنہوں نے اس لاابالی اور بے راہ روی کا شکار نسل نو کا علاج کرنا تھا۔
کس سے کہیں درد دل، کس سے لیں دوا
طبیب بھی میرے شہر کے ،بیمار نظر آتے ہیں
وطن عزیز کا ہر وہ فرد جو اصلاح کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ،افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ وہ بھی ذہنی تنائو کا شکار ہو چکا۔ہو سکتا ہے کہ ہم کوئی جگاڑ لگا کر معاشی حالات ٹھیک بھی کر لیں مگر اس اخلاقی تباہی کا کیا کریں گے جو ہمارے آنے والے نسلوں تک کو برباد کر چکی؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button