ColumnKashif Bashir Khan

جمہور کو عزت دو! .. کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

 

قارئین کو یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایمل کانسی نے جب نوے کی دہائی میں سی آئی اے کے کچھ ایجنٹس پر امریکہ میں فائرنگ کی اور پاکستان بھاگ آیا تو کچھ عرصہ کے بعد امریکن فورسز انہیں ڈھونڈتے پاکستان کے شہر ڈیرہ غازی خان کے ایک ہوٹل شالامار میں پہنچ گئیں اور پھر انہیں نواز شریف کی اجازت سے امریکہ لے جاکر مقدمہ چلا کر سزائے موت دے دی گئی۔ اسی طرح پرویز مشرف کے دور میں عافیہ صدیقی کو بھی امریکہ کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے ملک میں دہشت گردوں کی معاونت کرنے کے الزام میں افغانستان سے اٹھا کر امریکہ لے گئے تھے اور وہ آج بھی وہاں کے قید خانوں میں بہت لمبی سزا کاٹ رہی ہے۔امریکہ کے قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف ممالک میں مصیبت میں گھرے امریکی شہریوں کو بھی جائز اور نا جائز طریقوں سے امریکہ واپس لے جاتے ہیں۔پاکستان میں ریمنڈ ڈیوس کی مثال کوئی بہت پرانی نہیں جب اس نے دن دیہاڑے دو پاکستانیوں کو لاہور کی ایک مصروف سڑک پر گولیوں سے مار دیا تھا لیکن پھر کیا ہوا ؟چند دنوں بعد وفاقی حکومت جو کہ پیپلز پارٹی کی تھی اور پنجاب حکومت جو نواز لیگ کی تھی ،نے ملی بھگت سے قصاص و دیت کے قانون کو استعمال کروا کر ریمنڈ ڈیوس کو لاہور کی جیل سے اس وقت کے صوبائی وزیر قانون جو آج وفاقی وزیر داخلہ ہیں کی معیت میں ایک چارٹر جہاز میں سوار کروا کر امریکہ روانہ کر دیا تھا۔ریمنڈ ڈیوس نے بعد میں اس سارے خونی کھیل کے بارے میں کتابThe Contractor بھی لکھی جس نے اس سارے تماشے کے کرداروں کو ننگا کیا تھا۔خیر یہ تو امریکہ کی بات تھی جو کم ازکم اپنے باشندوں کیلئے قانون کی حکمرانی کو یقینی بناتا ہے
اور دنیا بھر میں موجود امریکی شہریوں کو بھی زور و طاقت سے چھڑا لیتا ہے۔ پاکستان میں پہلا بڑاسیاسی قتل وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کا 50کی دہائی میں ہوا،جس کے قاتل کو فوراً وہاں موجود پولیس آفیسر نے گولی مار دی۔اگر ذولفقار علی بھٹو کی موت عدالتی قتل تھا تو جنرل ضیاءالحق کا جہاز تو باقی جرنیلوں کے ساتھ فضا میں بم دھماکوں کی وجہ سے تباہ ہوا تھا۔آج تک 17 اگست 1988 کو ہونے والے اس فضائی حادثے کا کچھ پتا نہیں چل سکا اسی طرح 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں بے نظیر بھٹو کے قتل کا سکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقات کے باوجود آج تک کچھ پتا نہیں چل سکا۔ صحافی ارشد شریف کے افسوسناک قتل پر بھی جو پیش رفت ہورہی ہے وہ مایوس کن ہے کہ جن پر اسے ملک چھڑانے کا الزام ہے وہی اس قتل کی تفتیش کر رہے ہیں۔باقی چھوڑیں 2014 میں ماڈل ٹاؤن لاہور میں پنجاب حکومت کی جانب سے جو خون کی ہولی کھیلی گئی اور 14 شہادتوں کے علاوہ 100 سے زاہد لوگ زخمی ہوئے ان کا کوئی بھی نتیجہ آج تک نہیں نکلا اور نہ ہی قصور واروں کو سزا مل سکی۔ آج مجھے 1988 میں جونیجو کی وفاقی حکومت جو جنرل ضیاءالحق نے 58ٹو بی کو استعمال کرتے ہوئی توڑی تھی، یاد آ رہی ہے۔جنرل ضیا الحق کے 1988 میں اسمبلیاں توڑنے کے اقدام کےخلاف محمد خان جونیجو سپریم کورٹ گئے اور یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ
اس پر جنرل ضیاءالحق کی ہلاکت تک کچھ نہیں ہوا تھا اور جنرل ضیاءالحق کی موت کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ گو صدر پاکستان کا اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ نیک نیتی پر مبنی نہیں تھا لیکن چونکہ اب نئے انتخابات کی تیاریاں ہو چکی ہیں اس لیے تمام سیاسی جماعتیں نئے انتخابات میں حصہ لیں۔اسی طرح 1985 میں ایک آمر نے ڈھونگ غیر جماعتی انتخابات کا انعقاد کروایا تھا اور کسی عدالت نے ان کے خلاف فیصلہ نہیں دیا تھا لیکن جیسے ہی 1988 میں جنرل ضیاءالحق کی فضائی حادثے میں موت واقع ہوئی تو پیپلز پارٹی کے چودھری اعتزاز احسن کی پٹیشن پر سپریم کورٹ نے جماعتی انتخابات کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا اور دنیا جانتی ہے کہ 1988 کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوئے تھے جن کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو وزیر اعظم پاکستان بنی تھیں۔اسی طرح 1993 میں صدر پاکستان غلام اسحاق خان کی جانب سے کرپشن پر برخاست کی گئی میاں نواز شریف کی حکومت اور اسمبلیوں کو بحال کرنے کا فیصلہ آج بھی قانونی حلقوں میں اکثر زیر بحث رہتاہے جبکہ 1990 میں سپریم کورٹ بے نظیر بھٹو کی اسی آئینی شق58 بی ٹو کے تحت برخاست کی گئی حکومت کے اقدام کوجائز قرار دے چکی تھی۔
آج پاکستان کے ادارے،سیاسی جماعتیں، عدالتیں اور حکومت کسی نہ کسی طور پر آمنے سامنے کھڑے ہیں۔آج پاکستان میں اداروں پر مختلف سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں پر تشدد اور ننگا کرنے کے افسوس ناک الزامات لگ رہے ہیں۔75 سال کے بعد بھی آج جب عمران خان پنجاب میں اپنی اتحادی حکومت ہونے کے باوجود کنٹینر پر بد ترین فائرنگ کے اصل ملزمان کے خلاف ایف آئی آر نہ کٹنے اور مبینہ مجرم(جو اصل ملزموں کو کور دینے کیلئے فائرنگ کررہا تھا)کی مضحکہ خیز اعترافی ویڈیوز میڈیا بالخصوص سرکاری ٹی وی کو جاری کرنے والے خفیہ ہاتھ کو ڈھونڈتے ہیں تو دنیا سوال کرتی نظر آتی ہے کہ پنجاب پولیس کو احکامات کون جاری کر رہا ہے؟ پاکستان کے موجودہ بدترین سیاسی،معاشرتی اور اقتصادی صورتحال کی اصل جڑ اداروں کی بدترین کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان میں طاقتور طبقوں، اشرافیہ اور حکمرانوں کی بدترین مداخلت کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے تمام ادارے آئینی تفویض شدہ حدود سے باہر نکل کر کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔کسی بھی ریاست کا قانون تمام طبقات کیلئے برابر ہوا کرتا ہے جبکہ پاکستان میں بہت سے طبقات آئین و قانون کے تابع ہونے سے انکاری ہیں۔آج جب اتحادی حکمران عمران خان پر ہونے والے قاتلانہ حملے کو مذہبی شدت پسند عناصر کو عمل قرار دیکر اصل ملزموں تک پہنچنے میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں کہ پاکستان کا 90 فیصد میڈیا آج ان کے تابع ہے لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ عالمی میڈیا جس میں الجزیرہ، سی این این،بی بی سی وغیرہ بنیادی انسانی حقوق اور پاکستان میں وفاقی حکومت کے فاشسٹ اقدامات کے بارے کیا کہہ رہا ہے۔سینیٹر اعظم سواتی کے گزشتہ دن کی پریس کانفرنس نے آج دنیا بھر میں ہمارے شرم سے نہ صرف جھکا دیئے ہیں بلکہ ہمارے اداروں پر بہت بڑے سوالیہ نشانات کھڑے کر دیئے ہیں کہ ایسے اقدامات تو نازی حکمران بھی نہیں کیا کرتے تھے کہ جس سے کسی کی خاندانی زندگی کی بے پردگی ہو۔ اسلام آباد پولیس اور ایف سی کی فیض آباد جو پنجاب پولیس کی حد میں ہے آ کر احتجاج کرنے والی عوام پر تشدد اور ان کی گرفتاری نے ملک میں آئین و قانون کی دھجیاں اڑانے کی ایسی مثال پیدا
کی ہے جس کے تانے ماضی میں ڈھاکہ میں عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم سے مختلف ہرگز نہیں ۔مقتدر حلقوں اور عدالتوں کو فوری طور پر ملک میں آئین و قانون کی عملداری کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی آئینی حدود کا احترام کرتے ہوئے ریاست پاکستان کے باشندوں کو ان کا حق دینا ہو گا کہ موجودہ آئین پاکستان تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں اس زنگ آلودہ نظام کو بدلنے میں ناکام ہو چکا ہے اور معاشی بدحالی کے شکار عوام کی اگر زبانوں پر بھی تالے لگائے جائیں تو پھر عوام دوآتشہ تلوار بن جایا کرتے ہیں اور ہم یہ سب 1971 میں سابقہ مشرقی پاکستان میں دیکھ اور سہہ چکے ہیں لیکن افسوس یہ ہے جن طبقات کو اس وقت کی صورتحال کا ذمہ دار گردانا گیا تھا آج 51 سال بعد بھی انگلیاں ان کی جانب ہی اٹھ رہی ہیں۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ وفاقی حکومت کو روز اول سے عوام نے نہ قبول کیا ہے اور نہ ہی قبول کرنے پر تیار نظر آ رہی ہے۔جبر کا نظام آج نہیں چل سکتا اور پاکستان کی موجودہ صورتحال میں ایسی وفاقی حکومت جس پر رجیم چینج اور کرپشن کا گہرا داغ ہے، کو اقتدار میں مزید رکھنے کی ہر کوشش ملک میں بدامنی کے علاوہ پاکستان کی سلامتی کو خطرے میں ڈالے گی۔آج سوشل میڈیا پر مشہور انقلابی کیمونسٹ لیڈر لال خان کی ویڈیوز اور فیض احمد فیض کی انقلابی نظمیں بہت تیزی سے عوام کو گرما رہی ہیں۔آج عوام کی اکثریت ریاست پاکستان کو اداروں،اشرافیہ اور طاقتور طبقات کے تسلط سے آزاد کروانے پر بضد نظر آرہی ہے جو ان کا آئینی ،قانونی و معاشرتی حق ہے۔پاکستان کو بچانا ہے تو تمام ہی اداروں کو اپنے اپنے آئینی خول میں واپس جانا ہو گا تاکہ جمہور جو اصل مالک ہیں اس ملک پر حکومت کر سکیں۔جمہور کو عزت دینی ہو گی۔جمہور کو عزت دو ۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button