Ali HassanColumn

عمران خان کا لانگ مارچ ۔۔ علی حسن

علی حسن

خان عبد القیوم خان جو مسلم لیگ کے صدر تھے، ایک جلوس نکالنے کا اعلان کیا۔ یہ جلوس 7 اکتوبر 1958کو نکالا گیا ۔ جہلم سے گجرات تک 32میل لمبے اس جلوس میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ان کے ہمراہ تھا۔ خان عبدالقیوم خان نے جلوس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب قوم کی سوچ میں تبدیلی پیدا ہو چکی ہے۔ اور اندھوں کو بھی ملک میں ذہنی انقلاب آتا دکھائی دے رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ فوج اور بیورو کریسی عوامی کے جذبات اور خواہشات کا احترام کرتے ہوئے اپنے فرائض آئین اور قانون کے مطابق ادا کریں گے مگر اس رات ملک میں شب خون مار کر مار شل لاء نافذ کر دیا گیا اور جنرل ایوب خان ملک کے چیف ماشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن گئے، حالانکہ 19 جولائی 1958کوملک میں آئندہ انتخابات کا اعلان ہوا تھا کہ ملک کے آئندہ عام انتخابات فروری 1959منعقد ہوں گے۔ اس وقت پاکستان کے پہلے صدر اسکندر مرزا ان انتخابات کے بعد بننے والی حکومت میں بھی اپنے لئے محفوظ اور مضبوط حیثیت کے متمنی تھے جبکہ عوام کی اکثریت کیلئے وہ نا پسندیدہ شخصیت ہو چکے تھے ۔ ملک میں مارشل لاء نافذ کر کے عوام کی اس خواہش کو کچل دیا گیا جس کی نتیجے میں عوام اس ملک میں تبدیلی چاہتے تھے۔ 1958 سے لے کر 1969 تک ایوب خان بر سرا اقتدار رہے ۔ ایوب خان کو بے دست و پا کر کے جنرل یحییٰ خان نے ان سے خط لکھوا لیا کہ پاکستان میں مارشل لاء نافذ کر دیا تھا ۔ پھر انہوں نے ملک میں پہلے عام انتخابات کے انعقاد کا اہتمام کیا لیکن اسکندر مرزا کی طرح وہ بھی انتخابات کے بعد بننے والی حکومت میں بھی اپنے لیے محفوظ اور مضبوط حیثیت کے متمنی تھے ۔ انہیں مستقبل میں محفوظ حیثیت کی یقین دہانی ذوالفقار علی بھٹو نے کرائی تھی لیکن شیخ مجیب الرحمان ان کے ساتھ کوئی واضح وعدہ کر نے پر آمادہ نہ تھے۔ اپنی اپنی خواہشات کو پایہ تکمیل پہنچانے کیلئے جنرل یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو نے ایسی اقدامات کئے کہ ملک خانہ جنگی کا شکار ہو گیا، حالانکہ عوامی لیگ بھاری اکثریت سے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے قومی اسمبلی کی اکثریتی جماعت تھی۔ اسی دوران بھارت نے پاکستان پر جنگ تھونپ دی اور پاکستان کو دو لخط کر دیا ۔ وہ انتخابات جو ملک کو استحکام دینے کی خاطر کرائے گئے تھے، ملک کو دو لخط کرنے کا سبب بن گئے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان ملک میں فوری طور پر صاف شفاف انتخابات کرانے کا اپریل کے مہینے میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد سے مطالبہ کر رہے ہیں ۔ اپنے مطالبہ کو موثر بنانے کیلئے انہوں نے ایک بار پھر 28 اکتوبر سے لونگ مارچ شروع کیا ہواہے لیکن انہیں جس تحریک عدم اعتماد کے بعد وزیراعظم کی حیثیت سے معزول کیا گیا تھا اور ان کے ہی دور حکومت میں ان کے خلاف سیاسی جماعتوں کے بننے والے سیاسی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں شامل سیاسی عناصر پر مشتمل حکومت عام انتخابات کی مدت پوری ہونے کے بعد ہی انتخابات کرانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ عمران خان کی تیزی سے بڑھتی ہوئے مقبولیت کے سبب نون لیگ انتخابات فوری طور پر کرا دینا چاہتی ہے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی، پی ڈی ایم اورجمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن عام انتخابات حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد ہی کرانے کو اپنے حق میں بہتر سمجھتے ہیں۔ سیاسی عناصر کا خیال ہے کہ عمران خان سمجھتے ہیںکہ اس وقت عام انتخابات کا انعقاد ان کی جماعت کیلئے اس لیے فائدہ مند ثابت ہوگا کہ اپنی مقبولیت کے سہارے قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کر سکیں گے۔ نون لیگ کو خطرہ یہ نظر آتا ہے کہ عمران خان کی مقبولیت میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو نون لیگ کی اسمبلی میں حیثیت متاثر ہو سکتی ہے جبکہ پیپلز پارٹی ،جمعیت علما اسلام یا پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتوں کو پنجاب میں بہت ہی مختصر ووٹ اور حامیوں کی حمایت حاصل ہے ۔ موجودہ حکومت کے دور میں کسی قسم کا معاشی استحکام بھی پیدا نہیں ہو سکا۔ ملک کی معیشت دن بدن زوال پزیر ہے۔ عمران خان کا خیال ہے کہ نئے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت ملک میں معاشی استحکام پیدا کر سکے گی، حالانکہ پاکستان میں معاشی استحکام پیدا کرنے کیلئے آئندہ حکومت میں شامل افراد کو کولہو کو بیل بننا پڑے گا۔ یوں ہی بیٹھے بٹھائے میں کوئی پاکستان کی بر آمدات میں اضافے میں مدد نہیں دے گا۔ پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر میں کچھ کئے بغیر اضافہ کیوں کر ممکن ہو سکے گا۔ ملک میں پیدا واری صلاحیت میں اضافہ ہی پاکستان کی معیشت کی ضمانت ہو سکتا ہے۔ایڈ نہیں ٹریڈ کا نعرہ لگانے والے درست سمجھتے ہیں کہ ٹریڈ ہو گی تو معیشت بہتر ہو سکے گی۔ آئندہ انتخابات کے بعد قائم ہونے والی عمران خان کی حکومت ہو یا نون لیگ کی حکومت، کیلئے جان جو کھم ذمہ داری ہوگی۔ سیاسی عدم استحکام ، نہایت کمزور معیشت اور کسی بھی وقت زمین بوس ہونے والے بوسیدہ دیمک زدہ انتظامی نظام کے سہارے حکومت کرنے سے تو بدرجہ بہتر ہوگا کہ حکومت ہی نہ کی جائے۔ انتخابات کے جھنجٹ میں پڑے بغیر یہ کیوں نہیں بہتر ہوگا کہ کم از کم پانچ سال کی مدت کیلئے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ لوگوں پر مشتمل مکمل غیر سیاسی حکومت قائم کی جائے۔
پاکستان کے عوام ایک بار پھرسٹیٹس کوسے نجات حاصل کر نا چاہتے ہیں۔ عوام 1958میں بھی سٹیٹس کو، کو ختم کرنا چاہتے تھے اسی لیے تو انہوں نے 32میل لمبا جلوس نکالا تھا۔ 1970میں تو عام انتخابات میں انہوں نے پرچی کا استعمال کر کے بڑے بڑے سیاسی برج الٹ دیئے تھے لیکن ان کی خواہش پوری نہیں ہو سکی کیوں کہ حکومت کرنے والوں کی یہ رضا ہی نہیں تھی، انہیں تو صرف اقتدار حاصل کرنے میں دلچسپی تھی ۔ عوام نے دوبارہ انگڑائی لی تھی اور 2018 میں اقتدار میں رہنے والی جماعتوں کے خلاف ووٹ دیا تھا لیکن قومی اسمبلی میں عمران خان کی اکثریت نہیں تھی جس کی وجہ سے انہیں مانگے تانگے کی بنیاد پر بھان متی کا کنبہ جوڑنا پڑا تھا اور حکومت قائم کی تھی۔ اسٹیبلشمنٹ بھی اعتراف کرتی ہے کہ اسے ’’سلیکٹر‘‘ کا طعنہ سننے کو ملا لیکن اب انہوں نے طے کر لیا ہے کہ سیاست میں کوئی مداخلت نہیں کریں گے ۔ پاکستان کے حق میں یہی بہتر ہوگا کہ سیاست اور سیاست دانوں کو آزادانہ طور پر اپنی سیاسی حکمت عملی بنا کر ان کے ڈگر پر ہی چلنے دیا جائے۔ اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے باوجود عمران خان کی حکومت پاکستان میں کوئی ایسی با مقصد تبدیلی نہیں لا سکی تھی جس کی وجہ سے پاکستان کا انتظامی ڈھانچہ میں تبدیلی آئی ہوتی، پاکستان میں عام لوگوں کو انصاف کی فراہمی کو آسان بنایا جاتا، پاکستانی کی سماجی زندگی بہتر ہوئی ہوتی، پاکستان کی معیشت کو استحکام حاصل ہوا ہوتا یا کوئی اور معاملہ جسے یاد رکھا جا سکے۔ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے طریقہ کار کو عوام نے پسند نہیں کیا تھا اسی لیے ان کا جھکائو پہلے سے کہیں زیادہ عمران خان کی طرف ہو گیا اور انہوں نے ایک بار پھرسٹیٹس کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وہ عمران خان کی محبت سے کہیں زیادہ موجودہ حالات اور اپنے ذاتی حالات میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ قومی وسائل میں اپنی شراکت کے خواہش مند ہیں اور تمام سیاسی اور معاشی مواقعوں میں اپنا حصہ چاہتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button