Editorial

وزیراعظم کی مذاکرات کیلئے آمادگی

 

وزیراعظم شہبازشریف نے ایک روز قبل کہا تھا کہ انہوں نے عمران خان کی آرمی چیف کی تقرری اور الیکشن کی تاریخ کی شرط پر مذاکرات کی پیش کش پر انکار کردیا تھا تاہم اتوار کے روز وزیراعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان سے مذاکرات کے لیے تیار ہوں، لیکن آرمی چیف کی تعیناتی پر بات نہیں ہوگی لیکن دوسری طرف عمران خان نے تردید کی ہے کہ انہوں نے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق مشترکہ دوست کو وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف کے پاس بھیجاتھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم پاکستان کی طرف سے سابق وزیراعظم عمران خان سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار نہایت خوش آئند ہے اور اِس موقعے سے لازماً فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ سیاسی عدم استحکام اور عوام پاکستان کی بے چینی کا جلد ازجلد خاتمہ ممکن ہوسکے۔ ذرائع ابلاغ سے معلوم ہوا ہے کہ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی بھی مذاکرات کی کامیابی کے لیے کوشاں ہیں ، صدر مملکت کے متعلق تو ذرائع ابلاغ کئی روز سے بتارہے ہیں کہ ایوان صدر سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوشش کررہا ہے اور اس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے متعلق بھی معلوم ہوا کہ وہ سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کے لیے کوششیں کررہے ہیں جیسی ایوان صدر میں ہورہی ہیں اور اب وزیراعظم پاکستان محمد شہبازشریف نے بھی مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی ہے تو اس موقعے کا فائدہ اٹھاکر جلد ازجلد معاملات کو سلجھانے کی طرف آنا چاہیے تاکہ کئی ماہ سے جاری سیاسی کشیدگی کے نتیجے میں بے سکونی اور بے یقینی کی فضا کا خاتمہ ہو اور ہر طبقہ سکون کا سانس لے سکے۔ جیسا کہ وزیراعظم شہبازشریف نے بتایا ہے کہ سعودی ولی عہد جلد پاکستان تشریف لانے والے ہیں اور پاکستان آمد پر ان کا شاندار اور پرتپاک استقبال کیا جائے گا، اسی طرح وزیراعظم پاکستان چین کے دورے کی تیاریوں میں مصروف ہیں اِس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ ان دونوں اہم مواقعوں سے پہلے سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ لازماً ہوجانا چاہیے کیونکہ بصورت دیگر ہمارے سیاسی عدم استحکام کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ حالیہ دنوں میں وفاقی دارالحکومت لانگ مارچ اور متوقع دھرنے کی وجہ سے کنٹینرز کا شہر بنا ہوا ہے، بھلے دعویٰ کچھ بھی کیا جائے لیکن وفاقی دارالحکومت کے متذکرہ مناظرملک و قوم اور معیشت کے لیے ہی نہیں نقصان دہ اور افسوس ناک نہیں بلکہ اقوام عالم کےسامنے بھی شرمندگی کے باعث ہیں کیا سعودی ولی عہد کو اِس ماحول اور صورتحال میں خوش آمدید کہا جائے گا؟ کیا متذکرہ مناظر دیکھتے چینی اداروں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کیا جاسکے گا؟ لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات ضد اور قیادت کا دل جیتنے کے نہیں بلکہ
حالات کی سنگینی کا ادراک کرنے کے ہیں۔ ان حالات میں دانا وہی ہوگا جو افہام و تفہیم کی راہ تلاش کرے گا جیسا کہ ایسی کوششیں سننے میں بھی آرہی ہیں اور وزیراعظم شہبازشریف کی گفتگو سے بھی یہی اشارہ ملتا ہے پس اِس صورت حال میں ذمہ داراور سنجیدہ حلقوں اور طاقتوں کو چاہیے کہ وہ حالات کو خرابی کی طرف لے جانے کی ہر کوشش کو ناکام بنائیں اور ایسے عناصر پر بھی کڑی نظر رکھیں جو صلح جوئی اور تحمل کی بجائے اشتعال انگیزی کے ذریعے حزب مخالف کو گرما رہے ہیں جو قطعی دانش مندی نہیں ہے۔ بلاشبہ ہم ہر لانگ مارچ کو جمہوریت کا حصہ اور آزادی اظہار اور ایسے کتنے ہی نام دیتے ہوئے اُن کے وسیع نقصانات پر پردہ ڈال دیتے ہیں کیونکہ ہمیں اُن کی ناراضگی مول نہیں لینا ہوتی لیکن تسلیم کرنا چاہیے جتنے لانگ مارچ اور دھرنے اور جتنی گرما گرمی ہماری سیاست میں ہوتی نظر آتی ہے اِس کی مثال شاید ہمارے خطے میں کوئی اور نہ ملے۔ جتنے زور سے سیاست اور سیاست پر توانائی صرف کی جاتی ہے اُتنا ہی زور ملک و قوم کی بھلائی اور بہتری کے لیے صرف کیا جاتا نظر کیوں نہیں آتا؟ ہم سال کے 365دن سیاست کو عروج پر رکھتے ہیں جبکہ اس کے نتیجے میں معیشت اور عوام زوال کا شکار رہتے ہیں ۔ حصول اقتدار کے لیے کونے کھدروں سے جو طریقے نکال لیے جاتے ہیں اسی نوعیت کے حربے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کیوں نہیں نکالے جاتے؟ پس مزاج کے خلاف کوئی بات گراں گزرے تو سیاست نیا رخ اختیار کرلیتی ہے۔ عوام نے تو یہیں رہنا ہے ، عوام بے چارے کیا کریں، کس سے کہیں کہ ملک کے حالات دیکھیں اور انہیں ٹھیک کرنے کے لیے بڑے فیصلے کریں، مگر اُن پر متفق کون ہوگا یہ بھی مسئلہ ہے، لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ پہلے پہل تو موجودہ سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کے لیے کوششوں کی مکمل حفاظت کی جائے اور کوئی ان کو سبوتاژ کرنے کی مذموم کوشش کرے اِس کو روکا جائے۔ ملک بدامنی اور مزید انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا، عوام پہلے ہی مہنگائی سے مررہے ہیں لیکن جب وہ اوپر دیکھتے ہیں تو سیاسی قیادت اپنے مسائل میں الجھی نظر آتی ہے۔ پس ملک و قوم کے ساتھ محبت اور وطن پرستی کا تقاضا یہی ہے کہ حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ کیا جائے اور آئندہ ’’کھیلنے کو چاند مانگنے‘‘کی روش کو بھی ذہنوں سے نکال دیا جائے ۔ عوام آج باشعور ہیں اور وہ تمام حالات و واقعات کو دیکھ بھی رہے ہیں اور سمجھ بھی رہے ہیں اِس لیے اب غلطی کی گنجائش باقی نہیں ہے۔ سیاسی قیادت کوملک وقوم کے بہترین مفاد میں اب ثالثی کی جانب آنا چاہیے تاکہ معاملات مزید گمبھیر ہونے کی بجائے سلجھنے کی طرف جائیں اور عوام کا بھی جمہوریت اور جمہوری اداروں پر اعتماد برقرار رہے بصورت دیگر سیاست دان اپنی اور ماضی کے سیاست دانوں کی غلطیوں اور اُن کے نتائج سے بخوبی واقف رہے ہیں۔ ہم
وزیراعظم پاکستان کی مذاکرا ت کے لیے رضامندی پر اُن کے شکر گزار ہیں اور دعا گو بھی ہیں کہ جلد ازجلد سیاسی عدم استحکام اور بے یقینی کا خاتمہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button