ColumnImtiaz Ahmad Shad

ریاست ذمہ داری نبھانے سے قاصرکیوں؟ ۔۔ امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد

 

کسی بھی فلاحی ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم، صحت، انصاف، جان و مال کا تحفظ، روزگار اور دیگر ضروریات کی فراہمی شامل ہیں۔ اس تناظر میں ہم اپنے ملک کی بات کریں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستان کو بنے 75 سال ہوگئے، آزادی سے لے آج تک ہم بے شمار مسائل کا شکار ہیں۔ ابتداء سے اب تک جو بھی حکومت آئی، وہ یہی کہتی رہی ہے کہ ملک اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے، لیکن کسی نے بھی مسائل کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی، ہر کوئی اقتدار کے حصول کی سیاست کرتا رہا، عوامی مسائل پر کسی نے توجہ ہی نہیں دی۔ برسوں بیت گئے لیکن ہم آج بھی اپنے چند بنیادی مسائل ہی کو حل نہیں کر سکے۔ اس وقت بھی ملک بہت سے مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ جہاں نظام تعلیم اور صحت کا برا حال ہے، وہیں مہنگائی میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے، اشیائے ضرورت کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔مہنگائی کا یہ طوفان رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ہر طرف افراتفری اور بے چینی ہے ۔ان حالات میں ریاست بھی اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آرہی ہے۔
مشکل حالات میں ریاست کا کیاکردار ہوتا ہے اور وہ کسی طر ح سے اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے؟ اور حاکم وقت کی کیا ذمہ داری ہے؟ اسلامی ریاست میں حکمرانوں کی ذمہ داریاں ہی اس نوعیت کی ہیں کہ ہر ذمہ داری کو پورا کرنے کے بعد معاشرہ خود بخود پرسکون ہوتا چلا جاتا ہے۔ دینِ اسلام کے مطابق حکمران، حکمران نہیں ہوتے بلکہ قوم کے خادم ہوتے ہیں، ان کے لیے اقتدار عیش و عشرت کا ذریعہ نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسی ذمہ داری ہوتا ہے جس کے لیے وہ اپنے آپ کو عوام سے پہلے اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ سمجھتے ہیں۔ وہ اپنی ذمہ داریوں میں سب سے زیادہ لوگوں کی جان و مال، عزت و آبرو کی حفاظت کو ہی اہمیت دیتے ہیں، یہ ان کا بنیادی فریضہ ہے جسے پورا کیے بغیر لوگ معاشرے میں اپنے فرائض کو ادا کرنے کی پوزیشن میں ہی نہیں رہ سکتے جو ریاست یا پھر حکومت کی طرف سے ان پر عائد کیے جاتے ہیں۔ حضرت عمرؓ کی مثال سے بات واضح ہو جاتی ہے وہ رات کو رعایا کے حالات معلوم کرنے کو نکلتے تھے،تاکہ لوگوں کی پریشانیوں کا خود جائزہ لے سکیں۔ آپؓ نے اپنی پیٹھ پر غلہ رکھ کر خود لوگوں تک پہنچایا۔ حضرت عمرؓ نے بوڑھے، اپاہج لوگوں اور حاجت مندوں کی فہرستیں بنا کر انہیں وظائف دیے۔ اس کام کے لیے ایک الگ شعبہ قائم کیا جس کے ذریعے قومی بیت المال سے مستحق لوگوں کو ہر قسم کی امداد مہیا کی جاتی تھی۔ اس حوالے سے خود حضور اکرمﷺکا ارشاد مبارک ہےکہ کوئی حاکم جو مسلمانوں کی حکومت کا منصب سنبھالے پھر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے محنت اور دیانت سے کام نہ لے وہ مسلمانوں کے ساتھ جنت میں داخل نہ ہو گا۔دین اسلام میں ذمیوں یعنی غیر مسلموں کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔ اسلامی ریاست میں اُن کے حقوق کا تذکرہ موجود ہے کہ ان کی جان و مال، عزت و آبرو کی، ان کی عبادت، ان کے مذہبی تہواروں کے تحفظ کی ذمہ دار اسلامی حکومت ہے اور غریب غیر مسلموں کو بھی اسی طرح بیت المال سے مدد مہیا کی جائے گی جس طرح مسلمانوں کو مہیا کیے جانے کے احکامات ہیں۔ حضرت عمر فاروقؓ کا یہ قول بھی موجود ہے کہ اللہ کی قسم! ہم انصاف پر نہیں اگر ہم لوگوں کے ایّامِ ضعیفی میں انہیں بے سہارا چھوڑ دیں جبکہ اس سے پہلے ہم نے ان کی خدمات سے فائدہ اٹھایا ہو۔آپؓہی نے ارشاد فرمایا تھا کہ اگر مجھے زندگی نے مہلت دی تو میں ایسا نظام قائم کروں گا کہ ’’مزما‘‘کی پہاڑیوں میں رہنے والا گڈریا بھی اجتماعی دولت میں حصہ دار بن جائے اور آپ نے ایسا کر کے دکھا بھی دیا تھا۔
اسلام دولت کی منصفانہ تقسیم کا علمبردار ہے اور امیر اور غریب کے درمیان وحشیانہ امتیاز کو ختم کرنے کے لیے مخیر حضرات پر زکوٰۃ، صدقات، خیرات کے ذریعے دولت کو غریب لوگوں کی طرف لوٹانے کا باعث بنتا ہے۔ اسلامی ریاست کا تصور عدل و انصاف کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اسلامی ریاست میں عدل و انصاف کا معیار اس لیے بھی بلند ہے کہ خود حضورِ اکرم ﷺ نے اپنی ذات کو لوگوں کے سامنے پیش کیا اورفرمایاکہ اگر میں نے کسی سے زیادتی کی ہے تو وہ مجھ سے اس کا بدلہ یہیں اس دنیا میں لے لے، میں ایسا نہیں چاہتا کہ اس طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں پیش ہوں کہ کسی پر زیادتی کا بوجھ میری گردن پر ہو۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اپنے آپ کو قاضی کی عدالت میں پیش کیا اور عدالت کے فیصلہ کو قبول کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے قاضی حضرت زید کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ زید تم اس وقت تک قاضی نہیں کہلا سکتے جب تک عمر بن خطاب کو ایک عام مسلمان کے برابر نہیں سمجھتے۔ آپ نے یہ بات اس وقت کہی جب آپ کسی مقدمہ کے سلسلے میں قاضی کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ حضورﷺنے فرمایاکہ قومیں اس وقت ذلیل ہوئیں کہ جب ان کا قانون صرف کمزور اور ناتواں لوگوں تک کے لیے تھا۔آج کے اس متمدن و مہذب دور میں جس کا دعویٰ اہل مغرب کو ہے، امریکہ اور برطانیہ سمیت سبھی جدید ریاستی سربراہوں کو قانونی طور پرعدالتی استثناء حاصل ہوتا ہے۔ ہمارے ملک کو بھی یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں پر جو جتنا بڑا ڈاکو ہوتا ہے اسے اتنا بڑا عہدہ مل جاتا ہے اور قانون اسے تحفظ فراہم کرتا ہے۔یہی وہ نقطہ ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا ناممکن ہے۔ جب تک ہم اسلام کی اصل روح کو سمجھ کر ریاستی امور کو سر انجام نہیں دیتے اس وقت تک یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی مجبور کو انصاف مل پائے گا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ریاست پاکستان اپنے شہریوں کو تحفط فرہم کرنے سے قاصر ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عدل و انصاف کے معیار کو اسلامی احکام کی روشنی میں زیادہ سے زیادہ معیاری بنایا جا سکے۔ اس کے بعد ہی اُن مسائل سے نجات حاصل ہو سکتی ہے جن میں آج ہمارا ملک مبتلا ہے کہ حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس تک نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button