ColumnZameer Afaqi

دھویں کی نذر ہوتی زندگی ! ۔۔ ضمیر آفاقی

ضمیر آفاقی

 

نہ جانے انسانی سرشت میں ہے کہ اسے جس بات سے منع کیا جائے اسی جانب دوڑتا ہے پابندیاں لگائی جائیں تو انہیں توڑتا ہے، اس گتھی کا حل ابھی تک حضرت انسان تلاش نہیں کر سکا اور نہ ہی سائنس اس گتھی کو سلجھا سکی ہے۔اب یہی دیکھیے موت کو دلکش بنا کر جب پیش کیا جاتا ہے تو جانتے بوجھتے بھی کہ اس دلکشی کے پردے میں موت چھپی ہے، انسان پھر بھی اسے نہ صرف منہ لگاتا ہے بلکہ اپنے سینے کے اندر انڈیلتا بھی ہے۔ قاعدے اور قانون انسان کو ’’کینڈے‘‘ میں رکھنے کیلئے بنائے جاتے ہیں لیکن جب ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا یا لچک دکھائی جاتی ہے تو یہی قاعدے و قانون صرف کتابوں کی حد تک رہ جاتے ہیںاور پھر موت بانٹنے والے کاموں میں حکومتیں معاشرے اور بڑے بڑے مافیا شامل ہوں وہاں قاعدے قانون صرف دکھاوے کیلئے بنائے جاتے ہیں ان پر عملدرامد نہیں کیا جاتا۔
کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں اسلحہ سازی، منشیات سے جڑی ہوئی تمام چیزیں اور جنس کی خرید فروخت اتنے منافع بخش کاروبار ہیں کہ جنہیں ختم کرنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ جو کوئی ان کے انسداد کے خلاف کام کرنا چاہے اسے نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں، معاشرے اور افراد یہ جانتے ہیں کہ تمباکو نوشی نہ صرف پینے والوں کیلئے مضر صحت ہے بلکہ اس سے متاثروہ افراد بھی ہوتے ہیں جنہوں نے کبھی ’’سوٹا ‘‘ لگایا نہیں ہوتا مگر پھر بھی اس کا استعمال بڑھتا ہی جارہا ہے حالانکہ اس کے خلاف قانون بھی موجود ہے اور اس کے مضر اثرات سے بچاو کے خلاف مہم بھی چلائی جاتی ہے، یہاں تک کہ عالمی دن بھی منائے جاتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ سے زائد اموات کی وجہ تمباکو نوشی کے باعث پیدا ہونے والی بیماریاں ہیں جبکہ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر دنیا بھر میں ساٹھ لاکھ افراد کی ہلاکت کا سبب تمباکو نوشی ہے۔
تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والے اداروں کے مطابق اس وقت ملک میں ایک اندازے کے مطابق 22 سے 25 ملین افراد تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ ان اعداد وشمار کے مطابق قریباً 36 فیصد مرد جبکہ 9 فیصد خواتین تمباکو نوشی کرتی ہیں۔ ایک اور اندازے کے مطابق ملک میں سالانہ ایک لاکھ سے زائدافراد کی موت تمباکو نوشی کے باعث ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہے اور پاکستان کا شمار ان 15 ممالک میں ہوتا ہے، جہاں تمباکو کی پیداوار اور استعمال سب سے زیادہ ہے۔ غیر سرکاری تنظیموں کی رپورٹ بتاتی ہیں کہ ملک بھر میں پانچ لاکھ سے زائد دکانیں اور پان کے کھوکھوں پر سگریٹ با آسانی دستیاب ہیں اور سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ملک میں روزانہ قریباً 1200بچے سگریٹ نوشی کا آغاز کر رہے ہیں یعنی تمباکو نوشی کی جانب قدم بڑھانے والے ہر پانچ میں سے دو کی عمر دس سال ہے۔
انسانی صحت کے شعبے کے ساتھ جڑے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی کے باعث بڑھتی اموات اور بیماریاں بے حد تشویش کا باعث ہیں،نہ صرف دل کا دورہ، اسٹروک، ہائپرٹینشن، پھیپھڑوں کے متعدد امراض بلکہ بیس اقسام کے کینسر بھی تمباکو نوشی کے باعث لاحق ہو رہے ہیں۔ اگر تمباکو نوشی کو قابو نہ کیا گیا تو یہ صرف صحت ہی نہیں بلکہ ملکی معیشت کیلئے بھی تباہی کا باعث بن سکتا ہے اور ان کے مطابق، ملک میں سن 2015 کے دوران قریباً 250 بلین روپے کی سگریٹ خریدی گئی جبکہ قریبا اتنی ہی لاگت میں نسوار، گٹکا، پان، شیشہ غرض کسی نہ کسی شکل میں تمباکو کا استعمال کیا گیا۔
صرف تمباکو نوشی ہی کم نقصان دہ نہیں لیکن اس کے عادی افراد کی اکثریت دیگر علتوں کا بھی شکار ہوجاتی ہے جس میں منشیات سر فہرست ہے ۔پاکستان میں منشیات کی بھی کئی اقسام ہیں اور یار لوگوں نے ان میں بھی دو نمبری شروع کر رکھی ہے جس کا نقصان انسانی جان کیلئے شدید تر ہے مگر ہمارے ہاں تو خوراک خالص نہیں ہے منشیات تو دور کی بات ہے ،یہ الگ موضوع ہے اس پر کسی اور کالم میں تفصیل سے بات ہو گئی فی الحال یہ موضوع بھی کئی کالموں کا متقاضی ہے۔ دنیا بھر میں سگریٹ فٖروخت کرنے والی کمپنیاں اپنے اپنے برانڈ کو جاذب نظر اور فروخت کرنے کیلئے اتنے دلکش انداز میں ایڈورٹائز کرتی ہیں کہ اچھا خاصا ذہن اسے پینے کی طرف راغب ہو جاتا ہے اور بچے تو کچھ زیادہ ہی متاثر ہوتے ہیں، جس طرح اسے فروخت کرنے کے حوالے سے اس کے اندر دلکشی پیدا کی گئی ہے اسی طرح اس سے دور رکھنے کیلئے اس کے نقصان دہ پہلوئوں کو اجاگر کرنے سے اس بلائے جان سے چھٹکارا تو نہیں مگر کمی واقع ہو سکتی ہے۔
گو کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت کی جانب سے یہ زور دیا جا رہا ہے کہ تمباکو نوشی کی جانب راغب کرتے رنگوں اور برانڈ ناموں کو سگریٹ کی ڈبیوں سے ہٹا دیا جائے تاکہ ان سے ’گلیمرائزیشن‘ کو کم کیا جا سکے، جسے ایک اچھی کوشش قرار دیتے ہوئے اس کی بھر پور تشہیر کی جانی چاہیے اس کے ساتھ باور کرانا چاہیے کہ زندگی صرف ایک بار ملتی ہے جسے صحت مند طریقے سے گزارنا ہر انسان کا بنیادی حق اور ذمہ داری ہے جو فرد اپنے اس حق اور ذمہ داری کو نہیں پہچانتا وہ دیگر ذمہ داریوں سے کیسے عہدہ براہ ہو سکتا ہے؟
تمباکو نوشی کے خلاف ایک اچھی کوشش یہ سامنے آئی ہے کہ ملک میں تمباکو نوشی کو قابو کرنے کیلئے حال ہی میں ملک کے کئی بڑے ہسپتالوں کے معروف ڈاکٹروں نے کچھ عرصہ پیشتر ایک پٹیشن پر دستخط کیے ، جس میں زور دیا گیا ہے کہ ملک میں تمباکو نوشی کی تیزی سے پھیلتی لت پر قابو پانے کیلئے انسداد تمباکو نوشی قوانین پر عمل درآمد کروایا جائے اس کوشش کا کیا بنا اس پر بھی خاموشی ہے لیکن اس طرح کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔فوری ضرورت اس امر کی ہے کہ صحت آرڈیننس کے مطابق عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی اور تمباکو نوشی نہ کرنے والے افراد کی صحت کی حفاظت کیلئے بنائے گئے بل پر سنجیدگی سے عمل درآمد کیا جائے۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ تمام عوامی مقامات اور ذرائع آمدورفت میں تمباکو نوشی کی سخت ممانعت کی جائے اور اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو کسی بھی طرح کا تمباکو نہ فروخت کیا جائے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سگریٹ نوشی کا رجحان یونہی بڑھتا رہا تو دنیا بھر میں 2030ء تک تمباکو نوشی کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد سالانہ 60 لاکھ سے بڑھ کر 80 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔حرف مکرر کے طور پر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ زندگی ایک ہی بار ملتی ہے اور صحت مند طریقے سے گزارنا بہرحال ہمارے اپنے اختیار میں بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button