ColumnQadir Khan

پاکستان پاپولسٹ اور آمرانہ بنے گا ؟ .. قادر خان یوسف زئی

قادر خان یوسف زئی

 

آپ نے اونٹ اور بدو کی کہانی تو سنی ہوگی۔ ایک شب، بدو اپنے خیمہ کے اندر سو رہا تھا کہ باہر سے کسی اونٹ نے اندر جھانکا اور نہایت لجاجت سے کہا کہ باہر سردی بڑی بلا کی ہے، میں ٹھٹھرے جا رہا ہوں، اگر اجازت ہو تو میں ذرا اپنا سر خیمہ کے اندر کرلوں، تاکہ کچھ تو سردی سے بچاؤ ہو سکے۔ بدو نے اس کی حالت پر رحم کھایا اور اس کی درخواست منظور کرلی، کچھ وقت کے بعد، اونٹ نے کہا کہ اگر اجازت ہو تو میں اپنی گردن بھی خیمہ کے اندر کرلوں، باہر سخت سردی ہے، بدو نے اس کی بھی اجازت دے دی، قصہ مختصر، آدھی رات کے قریب دیکھا گیا کہ بدو خیمہ سے باہر تھا اور اونٹ خیمہ کے اندر۔ جذبات کے بجائے حقائق کا سامنا کرنا چاہیے کہ ہمیں بھی بعض اوقات سیاسی مصالح کو پیش نظر رکھ کر دیگر ممالک سے تعلقات کے فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بجا کرتی۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اس وقت مقبولیت کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا جیسا بھی بیانیہ ہو، ان کے پرستار اس پر بحث کئے بغیر من و عن تسلیم کرنے میں وقت نہیں لگاتے اگر ان سے تقاریر میں دانستہ یا غیر دانستہ کوئی غلطی ہو بھی جائے تو اس کی تاویلیں تراش کر مخالفین کو ہی غلط ثابت کر دیتے ہیں۔ عمران خان کو جب پارلیمنٹ سے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا تو اس وقت کسی کے گمان میں نہیں تھا کہ ایک جوہری ہتھیار رکھنے والا ملک سیاسی عدم استحکام کے اس دھانے پر پہنچ جائے گا جس کو درست کرنے کے لیے جتنی بھی تدبیریں کرلی جائیں وہ ناکامی کا شکار ہوں گی،جس طرح سابق وزیر اعظم نہیں جانتے تھے کہ ان کے اقتدار میں اختیارات کسی دوسرے کے پاس تھے، اسی طرح پاکستان مسلم لیگ نون اور ان کے اتحادیوں نے بھی اندازہ لگانے میں جلد بازی کی اور اونٹ کو اپنے خیمے میں جگہ دینے کی غلطی کر بیٹھے۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین سوشل میڈیا کا استعمال کرنا خوب جانتے ہیں، مجھے ان کی شخصیت میں مار کوس جونیئر کی جھلک با اتم نظر آتی ہے، فرڈینینڈمار کوس جونیئر فلپائن کے صدر اور سابق آمر مار کوس کے صاحبزادے بھی ہیں اور ہم نام بھی۔ فرڈینینڈمار کوس نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اور ماحول بنانے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا زبردست استعمال کیا۔ مار کوس جونیئرنے اقتدار کے منصب کو حاصل کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کو اس طرح استعمال کیا کہ انہیں کبھی قومی میڈیا یا عالمی ذرائع ابلاغ کی ضرورت ہی نہیں پڑی، واضح رہے کہ فلپائن کو دنیا کے سوشل میڈیا کا دارالحکومت سمجھا جاتا ہےجہاں 80ملین سے زائد افراد روزانہ اوسطاً چار گھنٹے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ مار کوس خاندان پر کرپشن اور انسانی بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کی سنگین الزامات عائد ہیں۔ امریکہ میں قائم تھینک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق فرڈینینڈمارکوس 1965 میں فلپائن کے پہلے منتخب صدر تھے، جنہوں نے سات سال بعد ہی مارشل لا لگا دیا تھا۔ ان کی حکومت نے ہزاروں لوگوں کو قید کیا،اذیتیں دیں اور ہلاک کیا اور 1986 میں ایک انقلاب کے نتیجے میں وہ اقتدار سے محروم ہوئے۔تھنک ٹینک کے مطابق بیٹے نے انتخابی مہم میں اپنے باپ کے دور حکومت اور مارشل لا کے برسوں کو نسبتاً امن اور خوشحالی کے دور کی حیثیت سے پیش کیا اور انہوں نے مسائل کے بارے میں مباحثوں یا انٹرویوز میں بات کرنے سے انکار کر دیا۔ یہاں حیران کن طور پر آمریت پسند حکمران کے بیٹے کو عوام کی بڑی تعداد کی جانب سے ووٹ دئیے جانے کی گتھی سلجھاتے ہوئے فلپائن یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ایریز آرو گے نے خدشہ ظاہر کیا کہ آمریت مزید مضبوط ہوتی جائے گی، مارکوس جونیئرملک کو لبرل جمہوریت سے مزید دور لے جانا چاہتے ہیں، اسے مزید پاپو لسٹ اور آمرانہ بنانا چاہتے ہیں، یہ بالکل واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ممکنہ وضاحت بھی ہے کیوں کہ اتنے زیادہ ووٹروں نے مارکوس جونیئر کو ووٹ دیا ان میں بہت سے لوگ ابھی بہت چھوٹے ہیں اور انہیں آمریت کے سال یاد نہیں۔مارکوس جونیئر نے ٹک ٹاک اوریو ٹیوب پر ایک کامیاب سوشل میڈیا مہم بھی چلائی اور انٹرویوز اور عوامی مباحثوں سے گریز کیا تھا۔
اب اسے اتفاق سمجھئے یا منظم منصوبہ بندی کہ پی ٹی آئی جس طرح اپنے بیانیہ کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتی ہے اس کا مقابلہ ذرائع ابلاغ بھی نہیں کرپا رہے بلکہ ان کی میڈیا مینجمنٹ نے قومی نیوز چینلز میں بھی گروپ بندی پیدا کردی ہے کہ کوئی بھی ناظر کسی بھی چینل کا نام سن کر ہی بتا سکتا ہے کہ یہ کس سیاسی جماعت کا ترجمان ہو سکتا ہے، ‘بونگ بونگ مارکوس نے ایسی انتخابی مہم چلائی تھی جو خاص طور پر غریب اور کم تعلیم یافتہ لوگوں میں مقبول ہے۔ عمران خان کا سیاسی انحصار بھی ملک کی کثیر آبادی رکھنے والا نوجوان طبقہ ہے۔مارکوس جونیئراور عمران خان دونوں سوشل میڈیا پر انحصار کرتے ہیں جو معلومات کا سب سے موثر اور طاقت ور ذریعہ ہے، کیونکہ یہ کسی بھی وقت، کہیں بھی آزادانہ طور پر با آسانی دستیاب ہے۔ مارکوس روایتی میڈیا سے اجتناب کرتے، کئیں دور کی بات چیت کو چھوڑ دیتے ہیں اور آزاد صحافیوں کے سوالات کا شاذ و نادر ہی جواب دیتے ہیں۔ عمران خان کے متعلق بھی یہی تاثر عام ہے کہ وہ اپنے مخالف اینکر اور صحافیوں کو مدعو نہیں کرتے بلکہ ان کے پرستار ٹرولنگ میں انہیں بدترین طریقے سے نشانہ بناتے ہیں۔ جب CNN مارکوس سے ایک انٹرویو کے لیے کامیاب ہوئی تو اس نے موقع کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے اپنی والدہ امیلڈا کی ایک ‘فرسٹ کلاس سیاستدان کے طور پر تعریف کی اور اپنے والد کوسیاسی با صلاحیت کہاکہ جن پر مبینہ طور ہزاروں سیاسی قتل کے الزامات ہیں۔
عمران خان اپنی جماعت میں آنے والوں کو ضمیر کی آواز اور جانے والوں پر لعن طعن کرتے ہیں۔ یہاں موازنہ صرف سیاسی حکمت عملی کا ہے، عدالتوں سے عمران خان پر کوئی سنگین الزام ابھی تک ثابت نہیں ہو سکا، اس لیے مارکوس جونیئر سے موازنہ محض سیاسی حکمت عملی میں سوشل میڈیا کے استعمال تک ہے۔ دیگر سیاسی جماعتوں کے بھی سوشل میڈیا ونگ موجود ہیں لیکن ان کے بیانیہ کو دبانے میں ناکامی کا شکار ہیں۔ غلط یا صحیح کا فیصلہ کرنا عوام کا کام ہے لیکن اطلاعات تک درست رسائی ایک تشویش ناک مسئلہ بن چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button