ColumnImtiaz Ahmad Shad

عیب جوئی ایک فیشن .. امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد

 

اللہ تعالی سورۃ حجرات کی گیارہویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے: ایمان والو خبردار کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے اور دیکھو آپس میں ایک دوسرے کی عیب جوئی بھی نہ کرنا اور نہ بُرے بُرے القاب سے یاد کرنا۔ ہر مسلمان کا فریضہ ہے کہ جب بھی اپنے دینی بھائی کی خطاؤں اور کوتاہیوں کا مشاہدہ کرے تو خاموشی کے ساتھ اس سے بیان کرے اور نصیحت کرے تاکہ وہ اپنی غلطیوں پر نادم ہوکر دوبارہ انہیں انجام دینے سے پرہیز کرے مگر اس نصیحت آمیز اقدام میں جس چیز کا سب سے زیادہ خیال رکھنا چاہیے وہ لوگوں کی عزت و آبرو کی حفاظت ہے۔
بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ کسی کے عیبوں کو سرِعام نہ اچھالو کیونکہ دنیا میں ایسا کوئی انسان نہیں جو عیبوں سے پاک ہو، کوئی پوشیدہ طریقے سے گناہ کرتا ہے تو کوئی کھلے عام لیکن گنہگار تو ہر کوئی ہے چاہے وہ گناہ چھوٹا ہو یا بڑا ۔سماج کے لیے خطرہ ایسے گناہوں سے ہے جو جان بوجھ کر کھلے عام کئے جائیں جس کے دیکھا دیکھی آگے چل کر سماج پہ غلط اثرات پڑیں، ان حالات میں ہر مسلمان کا فرض بنتا ہے کہ ایسے گناہوں کر روکنے کی کوشش کریں لیکن خیال رکھیں کۃ ہماری اس کوشش میں کسی کو تکلیف نہ پہنچے کیونکہ کسی کو سرِعام شرمندہ، رسوا و ذلیل کرنا بھی گناہ ہے۔ اگر کسی کی اصلاح کرنی ہے کسی کو راہِ راست پہ لانا ہے تو سب سے پہلے انہیں پوشیدہ طریقے سے سمجھائیں، انہیں ان کی غلطی کا احساس دلائیں کیونکہ اللہ نیک بندوں کا حساب پردے میں کریں گے اور نیک لوگوں میںشمار ہونے والے وہ لوگ ہیں جو دنیا میں دوسروں کے عیب چھپایا کرتے تھے اور ایسا گناہ چھپانا واجب بھی ہے جس سے کسی قسم کا نقصان ہونے کا خدشہ نہ ہو لیکن جہاں پہ کھلے عام گناہ یا غلط کام ہوتے ہوئے دیکھیں جسے دیکھا دیکھی معاشرہ میں بگاڑ آنے کی گنجائش ہو تو اس کو روکنا بھی ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے مگر حکمت سے ورنہ خود بھی گنہگاروں کہ فہرست میں شامل ہوجائیں گے۔جب اللہ نے ہمارے بے شمار عیبوں پر پردہ ڈال رکھا ہے تو کیا ہمیں یہ بات زیب دیتی ہے کہ ہم دوسروں کی جاسوسی کرتے پھریں۔ ان کے نقص اور عیب تلاش کریں اور پھر انہیں معاشرے میں بے عزت کریں۔ذرا سوچئے! اگر عزت و ذلت کا معاملہ اللہ نے انسانوں کے ہاتھ میں دیا ہوتا تو ہم میں سے کوئی بھی شخص اپنے مقابل کسی کو کبھی باعزت زندگی گزارنے ہی نہ دیتا اور شاید ہر شخص ذلت کی زندگی گزار رہا ہوتا۔
اس ربِ کریم کی شان ہے کہ اس نے عزت اور ذلت اپنے ہاتھ میں ہی رکھی ہے۔ آج ہمارا حال یہ ہے کہ کسی کے اخلاق و عادات سے متعلق اگر کوئی بری یا غلط بات ہمیں معلوم ہوتی ہے تو ہم اسے فوراً پورے معاشرے میں پھیلا دیتے ہیں۔ اگر اس شخص نے کوئی غلطی کی ہے تو اس کی غلطی کا پرچار کرکے ہم بھی تو گناہِ عظیم کررہے ہیںاور یہ تو ایسا عمل ہے کہ اس کا عذاب آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی ملتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دوسروں کے عیب تلاش کرنے اور جاسوسی کرنے سے ہماری شریعت میں سختی سے منع کیا گیا ہے۔ اپنے اعمال کو صحیح کرنے کی بجائے ہم دوسروں پر انگلیاں اٹھانے اور دوسروں کے گریبانوں میں جھانکنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ دوسروں کے عیبوں کو جان کر انہیں سامنے لانا، انہیں اچھالنا تو ایک شعوری کوشش ہوتی ہے جس کا گناہ واجب ہے اور عبرتناک سزائیں ہیں، مگر آج کل تو سوشل میڈیا نے غیبت، چغلی اور لوگوں کی عیب جوئی کو الگ رنگ میں ہی پیش کردیا ہے۔ اب تو غیر محسوس طریقے سے وہ تمام کام ہم کرجاتے ہیں جن کے کرنے سے اسلام نے منع فرمایاہے اور ہمیں اس کا پتا بھی نہیں چلتا بلکہ محسوس بھی نہیں ہوتا کہ ہم سے کتنی بڑی غلطی ہوگئی ہے۔دراصل سوشل میڈیا کی وجہ سے بے شمار غیر اہم افراد بھی اپنے آپ کوسماج کا اہم حصہ سمجھنے لگے ہیں۔ رات دن سوشل میڈیا سے جڑے رہنا، ہر اہم غیر اہم بات کو پھیلانا، لوگوں کے بیچ اہم بننے کے چکر میں بلا سوچے سمجھے کچھ بھی ایک دوسرے کو میسج بھیج دینے کے عمل نے سماج میں انتشار پیدا کردیا ہے۔ ہمیں تو حکم ہے کہ بلا تحقیق کسی بھی موضوع پر بات بھی نہ کریں اور کہاں یہ کہ دماغ کی بتی بجھا دی گئی ہے اور کی پیڈ پر انگلیاں چل رہی ہیں۔ کچھ سوچ سمجھ نہیں رہ گئی کہ کون سی بات پیش کرنی چاہیے یا کون سی بات آگے بڑھانی چاہیے۔ سچ ہے کہ آجکل سوشل میڈیا پر خبریں پھیلانے یا شیئر کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ کوئی بھی خبر سامنے آئے تو ہر کوئی اسے اپنے اپنے طریقے سے پیش کرنے اور جلد سے جلد سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا چاہتا ہے۔ کچھ دنوں سے ایک عجیب بات اور بھی نظر آئی، بچوں کو سوشل میڈیا کے توسط سے درس دینا۔ اگر بچے غلطیاں کرتے ہیں تو ہمیں انہیں اکیلے میں سمجھانا چاہیے،ان کی غلطی کا احساس دلانا چاہیے نہ کہ ان کی تصویریں ان کی غلطیاں سرعام کرکے انہیں رسوا کرتے ہوئے باغی بنادیا جائے۔ ایسا ایک بار نہیں بار بار ہو رہا ہے۔
نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ماں باپ سے بغاوت پراتر آئے ہیں۔ہم کہتے ہیں، لکھتے ہیں،سنتے ہیں کہ ماں باپ کو اپنے بچوں کو صحیح تعلیم و تربیت دینی چاہیے۔ ضرور دینی چاہیے اور ذمہ دار والدین دیتے بھی ہیں، کوئی بھی ماں باپ اپنے بچوں کو غلط راہ پر نہیں دھکیلتے یا بری تربیت نہیں دیتے، لیکن جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو ہر وقت ماں باپ ساتھ تو نہیں رہتے! باہر بچے دوستوں سے ملتے ہیں،ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔دوستی ہو جاتی ہے۔ یہاں بچوں کو بھی سمجھنا چاہیے حد سے زیادہ آگے نہ بڑھیں۔ بچے اپنے فرائض کو سمجھیں۔ غلطیاں بچوں سے ہوتی ہیں الزام ماں باپ پر آتا ہے کہ ماں باپ نے صحیح تربیت نہیں کی۔ لوگوں کو بھی سمجھنا چاہیے کہ آج ہم کسی کی عزت اچھالیں گے تو کل یہ ہمارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔نوجوانوں کی اکثریت سوشل میڈیا پر ہمہ وقت مشغول رہتی ہے۔ مدر پدر آزاد سوشل میڈیا نے ہمارے معاشرے کو بھی مدر پدر آزاد بنا دیا ہے۔گلیوں ،بازاروں اور تعلیمی اداروںمیں خواتین کی راہ چلتے ایسی ایسی واہیات تصاویر اور ویڈیوز اپلوڈ کر دی جاتی ہیں جن کا ان بیچاری خواتین کو علم تک نہیں ہوتااور پھر ہمارے سوشل میڈیائی مجاہد ان پر تبصرے کرکے عیب جوئی کی تمام حدیں پھلانگ جاتے ہیں اور خود کو اصلاح کرنے والے کے طور پر اس قدر وائرل کرتے ہیں کہ وہ ٹرینڈنگ میں آجاتی ہے۔افسوس اس ریٹنگ نے ہمیں عیب جوئی کے عمل میں اس حد تک داخل کردیا ہے کہ اب معاشرے کی اکثریت اس کو جہاد سمجھ بیٹھی ہے، حالانکہ کسی کے عیب پر پردہ ڈالنا حکم خدا وندی ہے۔ان حالات میں جب ملک کے کرتا دھرتا طاقت کے حصول کے لیے عیب جوئی کے عمل کو اپنا چکے ہوں،اصلاح کرنے والے فکر معاش میں پڑ چکے ہوں اور تعلیمی ادارے اخلاقی قدروں سے ناواقف ہو چکے ہوں اور مین اسٹریم میڈیا جس کی ذمہ داری تھی ، وہ بھی سوشل میڈیا کی لپیٹ میں آچکا ہو تب والدین کی ذمہ داریوں میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button