ColumnNasir Sherazi

کچھ سمجھ آئی! .. ناصر شیرازی

ناصر شیرازی

 

چین اورکوریا کو گدھوں اور کتوںکی برآمد کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد دونوں برادریوں کی طرف سے ملا جلا ردعمل سامنے آیاہے، گدھوں کے یہاں خوشی کے شادیانے بجائے جارہے ہیں جبکہ کتوں میں پریشانی کی لہر دیکھنے میں آئی ہے، صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے دونوںجانوروں نے علیحدہ علیحدہ اپنے کل پاکستان کنونشن منعقد کئے۔
گدھوں کا کنونشن ایک بہت بڑے سٹیڈیم میں منعقد ہوا جس میں ملک بھر کے دیہی اور شہری علاقوںسے آئے ہوئے گدھوں نے شرکت کی۔ بیشتر گدھے اپنے اہل و عیال سمیت شریک ہوئے جبکہ گدھوں میں بڑی تعداد ایسے گدھوں کی بھی تھی جن کے اہل و عیال نہیں تھے، آپ انہیں نااہل گدھے بھی کہہ سکتے ہیں تاہم انہوں نے کنونشن میں شرکت کے دوران اصل مسئلے پر توجہ دینے کی بجائے پچ ڈھونڈنے پر زیادہ توجہ دی، کمسن گدھے پک نک موڈ میں تھے، وہ ادھر سے اُدھر اسی طرح بھاگے پھرتے تھے جیسے شادی بیاہ کے موقعے پر انسانوں کے بچے اپنے والدین کو دوسروںکے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف دیکھ کر شادی ہال کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک بھاگے پھرتے ہیں اور خوشی سے پھولے نہیں سماتے، کنونشن میں موجود تمام میل اور فی میل اپنے قدرتی لباس میں تھے یعنی اس حمام میں اسی طرح ننگے تھے جیسے انسان ہوتے ہیں، کچھ شرکا نے سکہ رائج الوقت کے طور پر رنگین باگیں ڈال رکھی تھیں اور آنکھوں پر جدید فیشن کے کھوپے چڑھارکھے تھے۔
مہمان خصوصی کی آمد پر تمام گدھوں نے ہنہناکر اور دولتیاں جھاڑ کر ان کا استقبال کیا، ایک نوجوان گدھے نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے اپنے بزرگوں کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی تربیت اور ان تھک محنت کرنے کی نصیحت پر عمل کرنے کی وجہ سے انہیں اس قابل سمجھا گیا کہ ملک بھر میں ہزاروں قسم کے خشکی کے اور آبی جانوروں میں سے جن دو جانوروں کو برآمد کرنے کا فیصلہ ہوا ہے، ان میں وہ بھی شامل ہیں۔ فیملیز کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک نوجوان گدھی نے اپنے خصوصی ٹیمپرامنٹ کا ذکرکرتے ہوئے اہل دانش کو بتایا کہ تمام جانوروں میں گدھی کو سب سے زیادہ شریف سمجھا جاتا ہے، اس کے صبر اورتحمل مزاجی کے دنیا بھر میں چرچے ہیں، یہ ان کے صبر اور شرافت کا انعام ہے کہ آج انہیںیہ اعزاز حاصل ہورہا ہے، ایک عمر رسیدہ گدھی یعنی سنیئرسیٹزن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گدھی کو ایک اور بھی اعزاز حاصل ہے وہ یہ کہ کوئی گدھی ہائوس وائف نہیں ہوتی، وہ گھر بیٹھ کر نہیں کھاتی بلکہ تمام گدھیاں ورکنگ گدھیاں ہوتی ہیں، وہ ہر موسم میں اپنی جاب کے ساتھ انصاف کرتی ہیں، بچے پیدا کرتی ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتی ہیں، اپنے خاوند سے بے جا
فرمائشیں نہیں کرتیں اور جاب کے ساتھ ساتھ بچے پیدا کرنے، ان کی تربیت کرنے کے حوالے سے اپنے گدھے شوہروں پر احسان نہیںجتلاتیں اور سب سے بڑھ کریہ کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوںپر بہانے بہانے پر روٹھ کر اپنے میکے نہیںجاتیں، یہ باتیںسن کر کنونشن میں موجود تمام گدھیوں نے زمین پر لوٹنیاں لگاکراور ڈھینچوں ڈھینچوں کرکے ان کے تعریفی کلمات پر خوشی کا اظہار کیا۔ ایک ننھے گدھے نے بچوں کی ترجمانی کرتے ہوئے حکومتی فیصلے پرخوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بزرگوں کی دعائوں سے اب وہ وقت دور نہیں جب ہمارا شمار بھی خوشحال جانوروں میں ہوگا ہم بھی گھوڑوں کی طرح پائوں میںکھریاں لگواسکیں گے اور گلے میں گائے بھینسوں کے بچوں کی طرح گھنٹیاں باندھ سکیں گے، ہمارا معیارزندگی بلند ہوگا ہم روکھی سوکھی گھاس کی بجائے تروتازہ گھاس کھایا کریں گے، ہمارے گھروں میں خوشحالی آنے کا سب سے بڑا فائدہ ہوگا کہ ہمیں کھیلنے کودنے کے زمانے میں جو چائلڈ لیبر کرنا پڑی ہے، یعنی ابوجی یاممی کی ریڑھی کے پیچھے باندھ کر ہمیں جو آن جاب ٹریننگ بچپن میں شروع کرادی جاتی تھی، اس سے ہماری جان چھوٹ جائے گی، اب ہمارے ابو، چاچو، ماموں یا بڑے بھائی چین یاکوریا جاکر خوب کمائی کریں گے اور اپنی کمائی کا بیشتر حصہ اپنے اہل خانہ کے لیے بھیجا کرینگے جس سے ہمیں بھی مناسب پاکٹ منی ملا کرے گی، مزید برآں ہم بھی اپناذاتی ٹچ
موبائل رکھنے کا شوق پورا کرسکیں گے، جو پاکستان کی کمائی اورہرروز کی بنیاد پربڑھتی ہوئی مہنگائی میں پورا نہیں ہوسکتا، ننھے گدھے نے بھولپن میں یہ بھی کہہ دیا کہ ٹچ موبائل خریدنے کے بعد ہم بھی انسان کے بچوںکی طرح اپنے واہیات اور سیکسی کلپ بناکر روزانہ کی بنیاد پر سوشل میڈیا پرڈالا کریں گے جس پر بزرگ گدھوں نے یک زبان ہوکر کہا، وے کنجرا تیرا در فٹےمنہ، تو نے یہ بیہودہ شوق فون سیٹ خریدنے سے پہلے ہی کیسے پال لیا۔
آخرمیںگدھا کنونشن کے مہمان خصوصی خطاب کے لیے تشریف لائے، انہوں نے بتایا کہ انکی طبیعت ناساز تھی لیکن وہ معاملے کی اہمیت و نزاکت کے پیش نظر طویل سفر کرکے حاضر ہوئے ہیں، انہوں نے بتایا کہ موسم کی تبدیلی کے سبب انہیں ہلکا ہلکا بخار محسوس ہورہا ہے، انہوں نے اپنا کھیس کھول کر اپنے اوپر پھیلالیا لیکن اس کے باوجود انہیں ٹھنڈ محسوس ہوتی رہی، سرد ہوا کے جھونکوں کے باوجود کسی بھی گدھی نے سردی کی شکایت نہ کی جبکہ زیادہ تر شرکا نے موسم کو خوشگوار قرار دیا، مہمان خصوصی نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے اپنی برہمی کا اظہارکیا اور کہا کہ انہیں کنونشن میں کی گئی گفتگو سن کربہت افسوس ہوا ہے، بالخصوص وہ شرکا جنہیں وہ بہت عقل مند اور تجربہ کار سمجھتے تھے، ان کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ سب عقل سے بھی پیدل ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ یہ سوچ کر کنونشن میں آئے تھے کہ ملک کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے گدھے کوئی کام کی بات کریں گے، کوئی ڈھنگ کا مشورہ دیں گے لیکن مندوبین کی باتیں سن کر اندازہ ہوا کہ وہ جس بات پر خوش ہورہے ہیں وہ مقام آہ و فغاں ہے، اس تمام معاملے میں خوشی و مسرت کا کوئی پہلو نہیں، انہوں نے کہاکہ گدھا برادری نے بھی انسانوں والا کام کرکے گدھوں کی ناک کٹوادی ہے، انسان بھی اپنی حکومتوں میں عدالتوں کے فیصلے آنے کے بعد اسے بغیر غورسیپڑھے اور بغیر سمجھے لڈیاں ڈالنے لگتے ہیں، مٹھائیاں بانٹنے لگتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ فیصلہ ان کے حق میں آیا ہے، تین روز کے بعد انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ فیصلہ درحقیقت ان کے خلاف آیا ہے، مہمان خصوصی نے مزید کہا کہ آپ نے آج جس طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے، اس کی بڑی وجہ ناخواندگی ہے، آپ لوگوں نے خودتعلیم حاصل کی نہ اپنے بچوں کو حصول تعلیم کی ترغیب دی، اس کے علاوہ آپ سب لوگ ان پڑھ افراد کی ریڑھیوں میں جتے رہے، ایسے لوگوں کی صحبت میںرہ کر آپ لوگ کوئی ڈھنگ کی بات سیکھ سکتے تھے نہ کسی بات کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرسکتے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آپ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ آپ کو آزادی اورامیگریشن دی جارہی ہے، بعد ازاں آپ کو چین اور کوریا کی گدھیوں سے شادی کرکے وہاں کی نیشنیلٹی حاصل ہوجائے گی اور آپ لوگ باقی زندگی عیش و عشرت میں گذارو گے تو ایسا نہیں ہے، وہاں جاتے ہی آپ کوذبح کرکے آپ کی کھال سے جوتے، بیگ اور دستانے بنائے جائیں گے جبکہ آپ کا گوشت وہاں کی ریسپی کے مطابق شوارمے اورکھوتا کڑاہی میں استعمال ہوگا، کچھ سمجھ آئی کھوتے کے پترویاا ہل پاکستان کی طرح تمہاری عقل بھی گھاس چرنے گئی ہوئی ہے۔ (جاری ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button