تازہ ترینخبریںپاکستان سے

توانائی کی فراہمی کے لیے متبادل ذرائع کے حصول کے حوالے سے اہم اجلاس

پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی کے سی ای او امجد علی اعوان کی زیرِ صدارت لاہور میں ایک مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں نیشل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا)، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو)، پنجاب پاور ڈویلمپنٹ بورڈ، واسا لاہور، قائداعظم تھرمل پاور پلانٹ پرائیویٹ لمیٹڈ اور پرائیویٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس میں بنیادی طور پر سرکاری اداروں میں توانائی کی فراہمی کے لیے متبادل ذرائع یعنی شمسی توانائی، بائیو ماس کے ممکنات کا جائزہ لینا تھا تاکہ پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک سے ان اداروں کو جزوی یا مکمل طور پر سستی بجلی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے گی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امجد علی اعوان نے بتایا کہ پنجاب پی پی پی ایکٹ 2019کا نفاذ ایک اہم سنگِ میل رہا ہے۔

اتھارٹی پائپ لائن کے منصوبہ جات کے علاوہ معشیت کے مختلف شعبوں پر کام کر رہی ہے جیسے پانی، ٹرانسپوٹ، توانائی، سیاحت اور ہاوسنگ کے شعبہ جات شامل ہیں۔ اس وقت 50ارب مالیت کے منصوبہ جات کامیابی سے مکمل کئے جا چکے ہیں جبکہ 200ارب روپے کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔

سی ای او پنجاب پی پی پی اتھارٹی امجد علی اعوان نے مزید بتایا کہ متبادل توانائی کی پیداوار بالاآخر کاربن کے کم اثرات کی صورت میں نکلے گی جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حالات سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کو اہم خطرات کا سامنا بھی ہے۔

بجلی کی مارکیٹ لبیرلایزیشن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے مارکیٹ میں متعدد خریدار اور سرمایہ کار شامل ہیں۔ انہوں نے CTBCMکی شکل میں ملک میں متعارف کرائی جانے والی ریگولیٹری اصلاحات پر نیپرا کے اقدامات کو سراہا اور مزید کہا کہ اگلے اقدامات یہ ہونے چاہئیں کہ B2BاورB2Gکے انتظامات کو Retailسطح پر restructure کرنے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے پی پی پی انتظام کے تحت وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ واسا جیسے سرکاری ادارے کی90 میگا واٹ بجلی کی موجودہ ضرورت کو گرین انجرجی پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح دیگر سرکاری اداروں اور صنعتوں کو گرین انجرجی پروگرام کے تحت سستی بجلی مہیا کرنے کے منصوبہ جات پر کام کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے ممالک نے متبادل توانائی کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے نجی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھایا ہے اور اس ضمن میں نجی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے قوانین اور پالیسی کا اجراء بھی کیا ہے۔اپنی تجویز پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہااگرچہB2Gآپشن کے تحت نجی شعبے کے اشتراک سے سرکاری اداروں کو توانائی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکتی ہے تاہم Wheeling regulationپر کام کرنے کی ضرورت ہے جو پہلے نیپرا کی طرف سے جاری کئے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ نجی سرمایہ کاری کے اشتراک سے سستی شمسی توانائی کا حصول واسا کی جزوی بجلی کی طلب کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

نیپرا کے نمائندہ جناب گل حسن بھٹو نے امجد علی اعوان کی کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ پنجاب پی پی پی اتھارتی توانائی سے متعلق تمام اداروں کو قریب لانے میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ توانائی سیکٹر کی مارکیٹ میں سرکاری اور نجی شراکت داری ایک حوصلہ افزاء قدم ہے جس میں تمام متعلقہ اداروں کو بھر پور ساتھ دینا چاہیے۔

جناب گل حسن بھٹو نے اس بات سے بھی آگاہ کیا کہ مستقبل یقینا توانائی کی retailمارکیٹ کا ہی ہے جس کے لیے نیپرا اپنے قوانین اور پالیسیاں وضع کر رہی ہے جو نجی سیکٹر کو توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں مددگار ثابت ہوں گے۔

جناب امجد علی اعوان نے اظہار کیا کہ اس اہم موضوع پر مزید منصوبہ بندی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ ایک مربوط نظام تشکیل دینے کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔ آخر میں تمام شرکا ء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امجد علی اعوان نے کہا کہ پاکستان کے توانائی کے بحران کو ختم کرنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button