Editorial

تاحیات نااہلی کا قانون

 

عدالت عظمیٰ میں پاکستان تحریک انصاف کے سابق رکن قومی اسمبلی فیصل واوڈا کی اراکین پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کوتاحیات نااہل قرار دینے کے الیکشن کمیشن کے اختیار کی تشریح سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کسی بھی عوامی نمائندے کی تاحیات نااہلیت ایک کالا قانون ہے، آرٹیکل 62ون ایف کے خلاف کیس محتاط ہو کر سنیں گے، الیکشن کمیشن ایسا حکم دے سکتا ہے یا نہیں، سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کے فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کا حکم کالعدم قرار دے بھی دے تو حقائق وہی رہیں گے، الیکشن کمیشن کو غلط بیان حلفی پر تحقیقات کا اختیار حاصل ہے، فیصل واوڈا کیس میں حقائق کا درست جائزہ لیا ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل تین رکنی بینچ نے منگل کے روز کیس کی سماعت کی۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت آج جمعرات 6 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔متذکرہ کیس میں درخواست گزار کے وکیل وسیم سجاد نے موقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن کو کسی منتخب رکن پارلیمنٹ کوتا حیات نااہل کرنے کا اختیارہی نہیں اور اُن کے موکل کے معاملہ میںالیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے تاہم فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ کسی امیدوار کی جانب سے غلط بیان حلفی کی صورت میںالیکشن کمیشن کو تحقیقات کا مکمل ا ختیار حاصل ہے۔اسی معاملے پر آئینی و قانونی ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ آئین کی شق میں کہیں نہیں لکھا کہ تاحیات نااہلی ہوگی، شق میں صرف ایک خوبی بیان کی گئی ہے کہ انسان کو صادق اور امین ہونا چاہیے اسی پر وزیردفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں کہا کہ سیاستدان کے لیے پانچ سال کی نااہلی کافی ہوتی ہے تاحیات نااہلی نہیں ہونی چاہیے۔ عدالت عالیہ میں زیر سماعت اس معاملے پر آج دوبارہ سماعت ہوگی اور یقیناً عدالت عظمیٰ کا اِس معاملے پر فیصلہ آنے کے بعد اِس تمام بحث کا اختتام ہوجائے گا جو حالیہ دنوں میں چھڑی ہوئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ملک و قوم کا مفاد اولین ترجیح ہو تو سیاست دانوں کو ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں کیونکہ سبھی خود کو ملک کو قوم کا خدمت گار کہلواتے ہیں لیکن سیاسی میدان میں فریق ثانی کو جگہ بھی نہیں دیتے اور کسی نہ کسی طریقے سے پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کوئی عوامی نمائندہ کسی معاملے میں آئین و قانون کی پکڑ میں آتا ہے اور عدالت انصاف کے تقاضے پوری کرکے اس کو کسی بھی طرح کی سزا دیتی ہے خواہ وہ چند منٹ کی ہی کیوں نہ ہو، وہ کافی ہوتی ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی مخالفین کے لیے بھی اپنی سوچ اور
میدان وسیع رکھنا چاہیے نہ کہ ایسے خاردار بچھادیئے ہیں جس میں مخالفین تو پھنسیں ، خود بھی کبھی پھنس جائیں، اِس لیے قانون سازی کرتے وقت ہماری سیاسی قیادت کو بڑی احتیاط لیکن وسیع القلبی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ سیاست دان ایک دوسرے کے لیے برداشت کا مظاہرہ کریں گے اور ایک دوسرے کے مینڈیٹ کو تسلیم کریں گے جبھی ملک و قوم کے لیے کچھ کرنے کا وقت ملے گا، اگر سیاست دانوں نے صرف سیاسی دائو پیچ ہی آزمانے ہیں تو ملک و قوم کے پلے کچھ نہیں پڑنے والا۔ دیکھاجائے تو صرف فیصل واوڈا ہی نہیں بلکہ تین باروزیراعظم رہنے والے میاں نوازشریف اور تحریک انصاف کے سابق رہنما جہانگیر ترین بھی مختلف معاملات میں تاحیات نااہل ہوچکے ہیں۔ اِس لیے اِس ہم سمجھتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ اِس معاملے پر نہ صرف درست رہنمائی کرے گی بلکہ سیاسی قیادت کو بھی اُس فیصلے سے سوچنے کا موقع ملے گا کہ ایسی قانون سازی کرتے وقت سوچا جانا چاہیے کہ کبھی خود بھی اِس کا شکار ہوسکتے ہیں۔ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے اور یقیناً اِس پر نہ تو کسی کو ابہام ہونا چاہیے اور نہ ہی کسی کو شک و شبہ ، اِس لیے اِس اہم معاملے پر سپریم کورٹ کی رہنمائی سبھی کیلئے مشعل راہ ہوگی کیونکہ عوامی نمائندے کو تاحیات نااہل کرنے کا مطلب بہت واضح ہے، عوامی نمائندے پر لوگ اعتماد کرتے ہیں جبھی اس کو اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں اور خصوصاً اگر وہ قومی سطح کی سیاست میں حصہ لیتا ہو تو اس پر ووٹ کے ذریعے اعتماد کرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے اِس لیے جو جتنا بڑا عوامی نمائندہ ہو بلاشبہ اُس کو اُتنی ہی زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے، پس اِس معاملے کو انتہائی سوچ و بچار سے دیکھا جانا چاہیے اور عدالت عظمیٰ کی جانب سے جو بھی رہنمائی کی جائے اُسی کی روشنی میں آگے چلنا چاہیے اور کوشش کی جانی چاہیے کہ ہم مخالفین کے لیے مسائل پیدا نہ کریں اور ان کا کسی بھی حربے کے ذریعے راستہ نہ روکیں ، ہمارے سامنے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی مثال موجود ہے جن کی سزا پر کمرہ عدالت میں عمل ہوا اور وہ نااہل ہوگئے۔ سنیئر وکیل اور قانون دان حامد خان کا کہنا ہے کہ تاحیات نااہلی کے فیصلے کو ری وزٹ کرنے کے لیے لارجر بنچ بنانا پڑے گا، یہ لارجر بنچ اس بنچ سے بڑا ہوگا جس نے تاحیات نااہلی کا فیصلہ دیا تھا۔ فیصل واوڈا کے وکیل نے عدالت عظمیٰ میں موقف اختیارکیا کہ ان کا موکل عام انتخابات 2018میں منتخب ہواتھا جسے دو سال بعد الیکشن کمیشن نے عوامی عہدہ کے لیے تاحیات نااہل قرار دے دیا۔ کسی عوامی نمائندہ کے منتخب ہونے کے بعد اہلیت جانچنے کا فورم الیکشن کمیشن نہیں ،اسی دوران فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آئین کا آرٹیکل 62 (1) (f) ایک ڈریکونین لا ء ہے ،ہم اس کیس کی انتہائی احتیاط کے ساتھ سماعت کریں گے۔ فاضل چیف جسٹس کے ریمارکس درحقیقت سیاسی قیادت کو اپنی ایک اور غلطی سدھانے کا موقع ہے جس سے یقیناً سیاسی قائدین کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button