Columnعبدالرشید مرزا

ٹرانس جینڈر ایکٹ عالمی تناظر میں .. عبدالرشید مرزا

عبدالرشید مرزا

(گزشتہ سے پیوستہ)
قدیم اسرائیل میں ہم جنس پرستی محض اس لیے موجود تھی کہ یہ بائبل میں ممنوع ہے، جبکہ یہ قدیم یونان میں مردوں اور عورتوں دونوں کے درمیان پروان چڑھی۔ ایسے افراد کے لیے بھی ٹھوس ثبوت موجود ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا کم از کم حصہ پیدائش کے وقت تفویض کردہ جنس سے مختلف جنس کے طور پر گزارا۔ ساتویں صدی قبل مسیح میں سیفو کے لکھے ہوئے ہم جنس کی خواہش کے بول سے لے کر البانیہ سے لے کر افغانستان تک کی ثقافتوں میں جنس مخالف کے طور پر پرورش پانے والے نوجوانوں تک، کینیا کے خواتین شوہروں سے لے کر مقامی امریکی ’’دو روح‘‘ تک، مغربی مرد و خواتین اور ہم جنس پرست بائنریز کے متبادل ہزاروں سال اور ثقافت میں پروان چڑھے ہیں۔ یہ حقیقتیں رفتہ رفتہ مغرب کو مسافروں کی ڈائریوں، مشنریوں کے چرچ کے ریکارڈ،سفارت کاروں کے جرائداور طبی ماہرین بشریات کی رپورٹوں کے ذریعے معلوم ہوئیں۔ دوسرے ذرائع ابلاغ سے پہلے کے زمانے میں اس طرح کے عینی شاہدین کے بیانات یقیناً مغربی یا سفید فام مبصرین کے تعصبات سے چھلنی ہوتے تھے، اور ان عقائد میں اضافہ کیا جاتا تھا کہ ہم جنس پرستانہ طرز عمل دوسرے، غیر مل جن کی، وحشی، طبی مسئلہ، یا کم نسلی کے ثبوت تھے۔ درجہ بندی مختلف مقامی تہذیبوں میں ابتدائی ٹرانس یا ابیلنگی قبولیت کے پرامن پھولوں کو یورپی اور کرسٹیوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
اس ایکٹ کا معاملہ عدالت میں بھی ہے جس میں گزشتہ حکومت کی وفاقی وزارت انسانی حقوق نے جواب داخل کرواتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ہم نے یہ بل اسلامی نظریاتی کونسل سے مشاورت کرکے بنایا ہے جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل نے واضح طور پر اس سے انکار کردیا اور اس بل کی جنس تبدیلی کے طریقہ کار کی کھل کر مخالفت کی۔ وزارت نے یہ بھی کہا کہ یہ بل حکومت نے یوگیا کارٹا
پرنسپلز (Yogyakarta Principles) کے اصولوں کے تحت بنایا ہے۔ یاد رہے یوگیا کارٹا پرنسپلز میں ہم جنس پرستی کو مکمل قانونی حمایت حاصل ہے۔سوال یہ ہے کہ ہم نے قانون سازی اپنے معاشرے، مذہب اور قوم کو سامنے رکھ کر کرنی ہے یا یوگیا کارٹا پرنسپلز کو؟
ٹرانس جینڈر ایک مغربی اصطلاح ہے اور یہ ایک پوری کمیونٹی کی نمائندگی کرتی ہےجسےعرفِ عام میں LGBT یعنی لیزبیئن، گے، بائی سیکسوئل اور ٹرانس جینڈرکہتے ہیں۔اس کمیونٹی کو خواجہ سراؤں سے کوئی ہمدردی نہیں۔ 2018ء کے ایکٹ میں جنس کے تعین یا جنس کی تبدیلی کا اختیار خود فرد کو دے دیا گیا ، اس میں خواجہ سرا کی قید بھی نہیں۔ یعنی کوئی بھی مرد نادرا کو درخواست دے کر اپنی جنس عورت کروا سکتا ہے اور کوئی بھی عورت مرد بن کر اپنا نادرا کارڈ بنوا سکتی ہے اور یہ محض خدشات نہیں بلکہ سینیٹر مشتاق احمد خان کے ایک سوال کے جواب میں سینیٹ کو بتایا گیا کہ 2018ءکے بعد سے تین برسوں میں نادرا کو جنس
تبدیلی کی قریباً 29ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ان میں سے سولہ ہزار پانچ سو تیس مردوں نے اپنی جنس عورت میں تبدیل کروائی جب کہ 15154عورتوں نے اپنی جنس مرد میں تبدیل کروائی۔ خواجہ سراؤں کی مجموعی طور پر 30درخواستیں موصول ہوئیں جن میں 21نے مرد کے طور پر اور 9 نے عورت کے طور پر اندراج کی درخواست کی۔
پاکستانی عوام کی لبرل بنانے کے لیے بہت ساری این جی اوز کام کر رہی ہیں جس میں ٹرانس ایکشن الائنس اور بلیو وینز نے دعویٰ کیا کہ صرف خیبرپختونخوا میں ہی بیس سے پچاس ہزار تک خواجہ سراء ہیں، جبکہ کراچی کی اسی طرح کی ایک اور این جی او جینڈر انٹرایکٹوالائنس نے بتایا کہ کراچی میں پندرہ سے بیس ہزار خواجہ سراء ہیں۔ مختلف سائنسی جرنلز میں مضامین لکھوائے گئے اور ہر مضمون میں خواجہ سرائوں کی آبادی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا رہا۔ اقوام متحدہ کا ایڈز کے خاتمے والا ادارہ ان کی مدد کو بیچ میں کود پڑا اور اس نے دعویٰ کر دیا کہ پاکستان میں52،400خواجہ سراءہیں، جبکہ 2017ء کی مردم شماری میں صرف 10،418 افراد ایسے تھے جنہوں نے خود کو خواجہ سراء ظاہر کیا ہے۔
یہ وطن عزیز علامہ محمد اقبالؒ ، قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ اور سید ابوالاعلی مودودی ؒکی کاوش اور لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں سے وجود میں آیا تھا، لیکن بدقسمتی سے ہمارے حکمران جو مغرب کو خوش کرنے کے لیے کبھی سودی معاشی نظام، میاں نواز شریف جو کہتے تھے پاکستان کو ایک سیکولر ملک ہونا چاہیے۔ آج مدینہ کے بعد بننے والی ریاست میں ہمارے حکمران جن میں مسلم لیگ نون، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ نام نہاد مذہبی جماعتیں ہم جنس پرستی کا واویلا کرکے مغرب کو خوش کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کو حکومت کرنے کا لائسنس مل سکے لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ایسے قوانین کے نتیجے میں ملکوں پر عذاب آتے ہیں کبھی زلزلے، سیلاب اور ڈینگی جیسی بیماریوں کی شکل میں، علامہ محمد اقبالؒ نے جس مغربی تہذیب کے ہم دلدادہ ہیں اس کے بارے میں یوں فرمایا۔
دیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم عیار ہو گا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کریگی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہوگا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button