ColumnKashif Bashir Khan

نوشتہ دیوار۔۔۔۔ کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

 

پاکستان کی سیاست میں انہونی ہو چکی، سپریم کورٹ سے مریم صفدر اور صفدر اعوان کو ملی سزا اسلام آباد ہائی کورٹ نے نہ صرف ختم کر دی بلکہ وہیں مریم صفدر کو خاوند سمیت بری بھی کر دیا۔ بریت کی وجہ نیب کی جانب سے ٹھوس شواہد نہ پیش کرنا اور مجرموں کی مددکرنا بتایا جا رہا ہے۔کہا تو یہ ہی جا سکتا ہے کہ ترمیم شدہ نیب ترامیم کے بعد نیب ایسا ادارہ بن چکا کہ جس کی لگام ارباب اقتدار (حکومت) کے ہاتھ آ چکی اور اس کے پر کاٹ کر اسے بیکار ادارہ بنا دیا گیا ہے،لیکن مریم صفدر کی سزائیں ختم کرنے اور پھر لاہور ہائی کورٹ سے ان کا پاسپورٹ واپس ملنے کو ڈیل کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے جس کے تحت سزا یافتہ اور تاعمر نااہل نواز شریف کو واپس لانا بھی مقصود ہے،لیکن نیب قوانین میں ترامیم کے بارے سابق وزیر قانون مفتاح اسماعیل کے اس بیان نے ملکی سیاست میں ارتعاش پیدا کر دیا ہے کہ نیب قوانین میں ترامیم مقتدر حلقوں کی خواہش پر کی گئی ہیں۔ایسے میں جب عمران خان کی جانب سے نیب کی متنازعہ ترامیم پر ادھوری قومی اسمبلی سے کی گئی ترامیم کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کیا جا چکا ہے اور تین رکنی بنچ اس کی سماعت بھی شروع کر چکا ہے مفتاح اسماعیل کایہ بیان معنی خیز ہے۔ سابق اور موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار جو مختلف عدالتوں سے مفرور تھے، کا موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف کے سرکاری جہاز میں پاکستان واپس آنا اور کسی عدالت میں پیش ہوئے بغیر سنیٹ آف پاکستان کے رکن کا حلف اٹھانا بھی نظام قانون اور آئین پاکستان پر بہت بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے،لیکن میرے لیے مفتاح اسماعیل کا وزارت سے ہٹانے جانے کے بعد یہ بیان کہ اسحاق ڈار کی جانب سے یکم اکتوبر کو پٹرولیم پر لیوی نہ لگانے پر عالمی مالیاتی ادارے کا شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے، نہایت تشویش ناک ہے اور یہ بیان عندیہ دے رہا ہے کہ موجودہ حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے سے جو معاہدہ کیا ہے وہ عوام کے معاشی قتل عام کی شقوں پر مشتمل ہے۔ معلوم تو یہ بھی ہو رہا ہے کہ اس مرکزی حکومت کے دن گنے جا چکے
ہیں اور پاکستان کی تاریخ بلکہ دنیا کی تاریخ کی متنازعہ ترین نیب ترامیم کہ جن کے سہارے موجودہ حکومت کے وزیر اعظم و وزراء کی اکثریت کرپشن کے کیسوں سے بری ہو چکی یا ہو رہی ہے، مستقبل کی پاکستانی سیاست میں بہت بڑا بگاڑ پیدا کرنے جا رہی اور اسی لیے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کہ جس سے شدید مصنوعی مہنگائی اور بلوں اور پٹرولیم کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کا طوفان کھڑا کروا کر عوام کا معاشی قتل عام کروایا گیا اب اپنی جان بچانے کیلئے ایسے بیانات دے رہے ہیں۔مفتاح اسماعیل چونکہ کراچی میں گولیاں ٹافیاں بنانے کی ایک بڑی فیکٹری چلاتے ہیں اس لیے وہ وقت سے پہلے ہی اپنا بچاؤ کرنا چاہ رہے ہیں اور مرکزی حکومت کی ڈوبتی ہوئی اقتدار کی کشتی سے چھلانگ لگاتے نظر آ رہے ہیں۔مصنوعی مہنگائی میں نے اس لیے لکھا کہ اسحاق ڈار کی واپسی کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جو150سے 250 تک پہنچائی گئی تھیں کواونٹ کے منہ میں زیرہ، کے مصداق 12 روپے فی لیٹر کم کر کے عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی گئی جبکہ آج عالمی منڈی میں پٹرولیم کی قیمتیں پچھلے 10 ماہ کی نچلی
ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں،لیکن قارئین میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس کمی سے عوام میں ذرا سا بھی اطمینان نہیں پایا جاتا اور نہ ہی عمران خان کی غیر معمولی مقبولیت میں رتی بھر کمی آئی ہے۔اتحادی جماعتوں بالخصوص نون لیگ کا سیاسی مستقبل تباہ حال دکھائی دے رہا کہ مریم صفدر کی سزا ختم ہونے اور سیاست میں حصہ لینے پر پابندی کے خاتمے کے باوجود ملک بھر میں کہیں سے بھی کسی صوبائی یا قومی اسمبلی کی سیٹ پر الیکشن لڑ کر جیتنے کی کوئی امید نہیں اور ان کے مشیروں نے ان کو مشورہ دیا ہے کہ اگر اسوقت وہ کسی بھی نشست سے الیکشن لڑیں گی تو ان کی جیت مشکل بلکہ ناممکن ہے اور سننے میں آ رہا ہے کہ انہیں کسی مخصوص نشست کو خالی کروا کر اسمبلی میں پہنچانے کی بات ہو رہی ہے۔پاکستان کا میدان سیاست اس وقت اپوزیشن کی تمام ہی سیاسی جماعتوں کیلئے بنجر میدان بن چکا اور ماضی میں ان کے محفوظ کہلائے جانے والے حلقے بھی اب غیر محفوظ ترین ہو چکے اور عمران خان کی صورت میں ایسا شخص انہیں نہ صرف سیاسی میدانوں بلکہ راتوں کو بھی آ کر ڈراؤنے خواب کی مانند ڈراتا ہے۔سائفر کی پیداوار حکومت کی عمران خان کو گرفتار کرنے کی ہر ایک کوشش ناکام ہو چکی اور توہین عدالت کی کارروائی کے خاتمے نے بھی سیاسی طور پر مایوس اتحادی حکومت اور جماعتوں کی امیدوں پر منوں ٹھنڈا پانی ڈال دیا ہے۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہو رہا ہے کہ جس وزیر اعظم کی حکومت ختم کی گئی اس کے خلاف کرپشن تو نہ ملی لیکن اسے جعلی مقدمات درج کر کے گرفتار کرنے کی پے درپے کوششیں کی جارہی ہیں۔ کاش کہ حکومت رجیم چینج کے طفیل ملی ہوئی حکومت
کے اقدامات عوام کی زندگیوں آسان بنانے کی کوئی ایک کوشش کرتی لیکن ایسا ممکن نہیں تھا کہ اس مرکزی حکومت کے آنے کے مقاصد صرف استعماری قوتوں کے ایجنڈے کی تکمیل اور ملکی دولت کا لوٹا ہوا کھربوں ڈالر معاف کروانا تھا۔میرے لیے تو تشویش کا باعث عالمی مالیاتی ادارے کا وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی اپنے بہت بڑے ماہر معاشیات ہونے کی بڑھک کے جواب میں اعلامیہ بھی ہے جس میں یکم اکتوبر کو پٹرولیم مصنوعات پر لیوی نہ بڑھانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے سے کئے گئے معاہدے پر عمل درآمد ہر قیمت پر کرنا ہو گا اور آئی ایم ایف معاہدے پر حکومت پاکستان سے اس معاہدے پر سختی سے عملدرآمد کروائےگا۔سیلاب زدگان کے بارے میں آئی ایم ایف کا بیان کہ ان کے بارے میں بعد میں سوچا اور بات کی جائے حالت کی سختی اور مرکزی حکومت کو عوام کو عالمی مالیاتی ادارے کے شکنجے میں بری طرح پھنسانے کا عندیہ دے رہا ہے۔اس وقت پاکستان میں ایک طرف کمزور ترین اقلیتی مرکزی حکومت جس پر بیرونی مداخلت کے ذریعے برسر اقتدار آنے کے سنگین الزامات ہیں اور مریم صفدر کی سائفر کو پہلے کاغذ کا ایک ٹکڑا قرار دینے اور اب اس کے غائب ہونے کے ڈرامے کی بنیاد پر عمران خان پر مقدمہ درج کرنے کی خواہش نے گویا عمران خان کے سائفر پر تحقیقات کروانے کے مطالبے کو شدومدسے زندہ کر دیا ہے۔سیاست ذاتی خواہشات کے تابع نہیں ہوتی اور سیاست کرنے کیلئے تعلیم، ویژن اور حکمت عملی درکار ہوتی ہے۔ اپنی رہائی کے جوش میں مریم نے جو رویہ اختیار کیا اور جو زبان پریس کانفرنس میں بولی وہ نہ صرف انہیں بلکہ وفاقی کابینہ اور اتحادی لیڈرشپ کو بھی بڑی الجھن میں پھنسا چکی اور ایف آئی اے جو اس وقت حکومت کی بی ٹیم ہے، کو سائفر کی تحقیقات کرنے کی کابینہ نے منظوری دے ڈالی۔
عمران خان بھرپور تیاری کے ساتھ لانگ مارچ کا اعلان کرنے جا رہے ہیں اور مرکزی حکومت رینجرز اور اسلام آباد پولیس کے سہرے پھر سے عوام پر فسطائیت اور جبر کی دھمکیاں دیتی نظر آ رہی ہے لیکن اس مرتبہ وزیر داخلہ کے یہ ہتھکنڈے کامیاب ہوتے نظر نہیں آ رہے اور قوی امکان ہے کہ عمران خان کی کال سے قبل ہی یہ کمزور حکومت خود ہی گرجائے کہ اس وقت مجلس عمل اور متحدہ کے دو دو ارکان کے استعفوں کی گونج ملک بھر میں سنائی دے رہی ہے۔موجودہ اتحادی کمزور حکومت کو اس حقیقت سے بھی مکمل آگاہی ہو چکی ہے کہ بیرون ملک مقیم ایک کروڑ پاکستانیوں کی اکثریت ان کے خلاف غم و غصے کی کیفیت میں ہیں اور جب بھی انتخابات ہوئے وہ پاکستان آ کر نون لیگ اور دوسری سیاسی جماعتوں کے خلاف ووٹ کاسٹ کر کے ان کو منطقی انجام تک پہنچانے کو بیتاب ہیں جبکہ پاکستان میں پہلے ہی ان کے امیدواروں کا حلقوں میں نکلنا مشکل ہو چکا ہےاس ملک میں ایسی حکومت بھی کبھی نہیں آئی تھی جس نے نہ صرف معیشت کو تباہ و برباد کر دیا ہے بلکہ اپنے ذاتی مالی مفادات کیلئے اسمبلی کو استعمال کر کے ایسی قانون سازی کی کہ جس نے پاکستان کو اقوام عالم میں شرمسار کر دیا۔بہرحال ایک بات طے ہے کہ خلاف فطرت اور مذہب کوئی بھی قانونی اور آئینی ترامیم زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتیں اور عام انتخابات وقت پر ہوں یا پہلے (جس کے امکانات 100فیصد ہیں)ان ترامیم کو نئی آنے والی اسمبلیاں اٹھا کر باہر پھینک دیں گی اور ملکی سرمایہ لوٹنے والے جو مرکزی حکومت کا ڈھال بنا کر ملک واپس آ جا رہے ہیں، انہیں پھر بھاگنے کا موقعہ بھی نہیں ملے گا۔کیونکہ ان کو انتخابی اور سیاسی میدان میں ہونے والی عبرتناک شکست نوشتہ دیوار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button