CM RizwanColumn

سازشوں اور مکروفریب کی سیاست .. سی ایم رضوان

سی ایم رضوان

 

جھوٹ، مکر و فریب، منافقت، دھوکہ دہی، دغا اور چالبازی پر مبنی چانکیائی سیاست کا بانی، چانکیہ ٹیکسلا کا رہنے والا ایک انتہائی شاطر و چالاک برہمن شخص تھا، اُس کی انہی خوبیوں کو دیکھ کر چندرگپت موریہ نے اسے اپنا وزیر اعظم بنایا تھا اور چانکیہ نے اپنی چالاکی اور عیاری سے چندر گپت موریہ کی چھوٹی سی حکومت کو پورے ہندوستان میں پھیلا کر برصغیر میں پہلی ہندو سلطنت کی بنیاد رکھی تھی۔ چانکیہ نے ہندوستان کے بادشاہوں کو حکومت کرنے کے اسرار و رموز سکھانے کیلئے ایک کتاب ’’ارتھ شاستر‘‘ بھی لکھی تھی، منافقت، مکروفریب اور دغابازی کے اصولوں پر مبنی یہ کتاب دہائیاں گزرنے کے بعد آج بھی بھارتی سیاست کا مرکزو محور ہے اور بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو سے لے کر موجودہ وزیر اعظم نریندرا مودی تک ہر بھارتی حکمران کی بنیادی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے، لیکن یہ امر ذہن میں رہے کہ وہ اس چانکیائی سیاست کا عملی مظاہرہ اپنے عوام کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خلاف بھی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل میں بھارت ہمیں چانکیائی سیاست پر پوری طرح عمل پیرا نظر آتا ہے۔ چانکیہ کی کتاب ارتھ شاستر کا ایک اصول ہے کہ’’دشمن کو کبھی اعتماد میں نہ آنے دو، کہو کچھ، کرو کچھ، جب دباؤ آئے تو وعدہ کرلو، جب دباؤ ہٹے تو مکر جاؤ۔‘‘ چانکیہ کا یہ گُر ہمارے قریباً تمام سیاستدانوں کی حقیقی پالیسی ہے لیکن باعث صد افسوس امر یہ ہے کہ وہ یہ انداز سیاست اپنے ہی عوام اور اپنے ہی ملک کے خلاف اپنائے ہوئے ہیں۔ عام دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ جو اعلان کرتے ہیں بعد ازاں وقت آنے پر اُس سے بھاگ جاتے ہیں۔ وہ جو وعدہ کرتے ہیں اس سے مکر جاتے ہیں اور جو بیانیہ بناتے ہیں اسی کے سب سے زیادہ مخالف خود ہوتے ہیں لیکن ان کے انہی 72 سالہ لچھنوں کی وجہ سے اب جبکہ گھٹتے گھٹتے ملکی معیشت، وقار اور استحکام اس قدر گھٹ گیا ہے کہ مہنگائی، لاقانونیت، خارجہ پالیسی کی ناکامی اور معاشرتی افراتفری نے عام پاکستانی کا جینا حرام کر دیا
ہے۔ سیاسی جنگ وجدل اور اقتدار کی ہوس سے متعلقہ متنازعہ، دیرینہ اور سلگتے مسائل کو حل کرنے کی بجائے ملکی سیاست دان آخری تیر تک چلانے پر آمادہ نظر آرہے ہیں۔ آخری تیر سے مراد یہ ہے کہ یہ اب اپنے سیاسی مفادات کیلئے ملکی مفادات تک کو داؤ پر لگانے پر تل گئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اہم ترین قومی ریکارڈ کا ہیک ہوجانا اور دونوں فریقوں کا اس حساس نوعیت کے قومی رازوں کے ساتھ کھیلنا اس کا واضح ثبوت ہے۔ حالانکہ اس وقت کے سنگین معاملات کے حل کیلئے کھلے دل کے ساتھ ہر سیاسی جماعت کو مخالف سیاسی طاقت کے وجود کو تسلیم کرنا ہوگا اور یہ تب تک ممکن نہیں جب تک کہ مکروفریب، منافقت، دغا اور چالبازی پر مبنی چانکیائی سیاست کے دائرے سے ہماری سیاسی قیادت باہر نہیں نکلتی۔ جس کے فی الحال دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔
ہماری سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ ہمارے علمائے دین نے بھی اپنے ذاتی، فرقہ جاتی اور گروہی مفادات کیلئے قوم کو ملت اسلامیہ کے پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور متحد کرنے کی بجائے اسے بے شمار گروہوں
اور فرقوں میں تقسیم کرکے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ اور ہمارے صلحائے عظام کی وہ باتیں ہمیں بتانے سے گریز کیا ہے جو مسلم معاشرے کے معاشرتی، معاشی اور سیاسی پہلوؤں کو اجاگر کرنے والی تھیں اور جو ایک منصفانہ اور عادلانہ نظام کے قیام کا ذریعہ بن سکتی تھیں۔ اس کے برعکس وہ ان باتوں کو اچھالتے رہے جن کا تعلق فروعی مسائل یا جزوی اخلاق سے تھا اور جن کا اسلام سے دور دور کا بھی کوئی واسطہ نہ تھا۔ اس کے نتیجے میں ہماری قوم سرمایہ داروں کی معاشی غلامی میں مبتلا اور غیر پختہ افکار و نظریات کا شکار ہوکر اپنے آپ سے بیگانہ ہوگئی اور اپنے شاندار ماضی سے کٹ گئی۔ حالانکہ کسی بھی معاشرے میں اس وقت تک تعاون اور اعتماد کی فضا پیدا نہیں ہوسکتی اور کوئی قوم اس وقت تک حقیقی طور پر ترقی نہیں کرسکتی جب تک کہ اس معاشرے میں معاشی انصاف اور معاشرتی عدل قائم نہ کردیا جائے۔ جب تک کسی قوم میں معاشی ناہمواری اور سماجی اونچ نیچ کو بڑی حد تک دور نہیں کیا جاتا اور لوگوں کی آمدنیوں میں فرق کو خاطر خواہ کم نہیں کیا جاتا۔ اس وقت تک نہ تو زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے کی ہوس اور معاشی دوڑ میں دوسروں کو پیچھے چھوڑ جانے کے رحجان کو کم کیا جاسکتا ہے اور نہ افراد قوم میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون و اشتراک اور ایک دوسرے کے معاشی استحکام اور اخلاقی ترقی کیلئے ہاتھ بٹانے کے جذبہ ہی کو فروغ دیا جا سکتا ہے موجودہ معاشی و معاشرتی ناہمواری کا خاتمہ اسی صورت ممکن ہے کہ قوم کا اجتماعی ضمیر انہیں رد کردینے کیلئے آمادہ ہوجائے اور قوم اجتماعی ارادے سے کام لیتے ہوئے اس ناانصافی کے خلاف اٹھ کھڑی ہو۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ کوئی بھی قوم
خودبخود اور کسی قیادت کے بغیر میدان عمل میں نہیں اترا کرتی۔ اس کیلئے ایسی قیادت کا میسر آنا ضروری ہوا کرتا ہے جو خود غرضی کے مرض میں مبتلا نہ ہو جو اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینے والی نہ ہو جو انسان دوست ہو اور قومی مقاصد کو اچھی طرح سمجھتی ہو جس کے قول اور عمل میں واضح تضاد موجود نہ ہو جو جان و مال، وقت اور آرام و آسائش کی قربانی دینے پر قدرت رکھتی ہو جس میں صبرو تحمل اور سنجیدگی و بردباری کوٹ کوٹ کر بھری ہو جو قوم کے مختلف عناصر میں اختلاف اور نفرت و حقارت کے بیج بونے کی بجائے ان میں موجود اختلافات کی خلیج کو پاٹنے اور رفاقت و ہمدردی، محبت و یگانگت اور تعاون و اشتراک پیدا کرنے پر قادر ہو جو قیادت یا حکومت کو مالی منفعت اور عزت و شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنانے کی بجائے اسے اہم ذمہ داری اور اپنی نجات دارین کا ذریعہ جان کر خدا و خلق کے سامنے جوابدہی کے احساس کے ساتھ اور خدمت عوام کے جذبے سے کام کرسکتی ہو، جو عوامی خدمت کے اس میدان کو اپنے اور اپنی اولاد کیلئے کچھ حاصل کرنے کا ذریعہ بنانے کی بجائے جو کچھ اس کے پاس موجود ہو، اسے بھی اس راہ میں صرف کردینے کی ہمت رکھتی ہو اور جسے اس بات کا کامل شعور حاصل ہو کہ ان کی اپنی بھلائی کی ضمانت دوسروں پر خرچ کرنے اور ان کی خاطر قربانی دینے ہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔ ہمیں واضح اصول مرتب کرنے ہوں گے جن کی پابندی ہر اس شخص کیلئے لازم قرار دی جانی چاہیے جو عوامی قیادت کیلئے اپنے آپ کو پیش کرے۔ مثلاً ہمیں اس اصول کو قومی سطح پر اپنانا ہوگا کہ ہر شخص کے سپرد وہی کام کیا جائے جس کا وہ اہل ہے۔ نااہل کو اہل پر ترجیح دینے کو قوم سے غداری قرار دیا جائے اور پوری قوم میں اس جذبے کی پرورش کی جائے کہ ہر شخص خود اپنے اندر بہتر سے بہتر صلاحیتیں ابھارنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے بہترین افراد کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر آگے لائے اور ان کی طرف اپنا دست تعاون بڑھائے۔ قوم کو اقتدار کی جنگ کا تماشا خاموش تماشائیوں کی طرح دیکھنے کا مشغلہ اب ترک کردینا ہوگا۔ اسے اپنے قائدین کا اس لحاظ سے جائزہ لینا ہوگا کہ ان میں کون ایسا ہے جو عوام کی حقیقی خدمت میں مصروف ہے اور کون ہے جو محض لیڈر بننے کی شوق میں دیوانہ ہورہا ہے اور اس غرض سے اپنے پاس نہ جانے کس کس طرح سے جمع شدہ دولت کو بے دریغ لٹاتے ہوئے اصول و نظریات کو بالائے طاق رکھ کر اپنے سے اہل تر افراد کو پیچھے دھکیل رہا ہے اور خود آگے بڑھنے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ دوسری جانب ہر سیاسی قائد بھی عوامی خدمت کے میدان میں قدم رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے پاس موجود اثاثوں کا اعلان کرے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوسکے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں کمی ہورہی ہے یا اضافہ اور اگر کچھ اضافہ ہوا ہے تو وہ کہاں تک جائز اور مناسب ہے۔ یہ باطل تصور بھی یکسر بدل دینا ہوگا کہ حکومت کا کاروبار چلانے والے حاکم ہیں اور عوام (جو ان کے ہاتھ میں حکومت کو اختیار دیتے ہیں) محکوم ہیں۔ یہ اصول اپنانا ہوگا کہ حکومت کا اختیار ایک بہت بڑی ذمہ داری اور عوام کی طرف سے اس کے ہاتھوں میں ایک امانت ہے۔ حکومت کرنے والے کی حیثیت حاکم کی نہیں بلکہ ایک منتظم اور عوامی خادم کی ہے۔ وہ حکومت کے اختیارات کے استعمال کے بارے میں عوام کے سامنے جوابدہ ہے اور یہ جواب دہی مسلمہ جمہوری اصولوں کے مطابق عوامی اداروں اور عوامی احتساب کے ذریعے مسلسل ہوتی رہے گی۔ اگر ہمیں پاکستان کو ایک مثالی فلاحی مملکت بنانا ہے اور دنیا کی دوسری قوموں کے مقابلے میں کوئی قابل رشک کردار اداکرنا ہے تو پھران اصولوں کو اپنائے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button