ColumnImtiaz Ahmad Shad

فیصلہ ہو چکا۔۔۔ امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد

 

کرہ ارض پر قدرت نے بہت سے لوگوں کو حکمرانی کا موقع فراہم کیا ،تاریخ عالم نے ہر طرز کے حکمران دیکھے،کسی کو مال جمع کرنے کی حرص نے گھیرا تو کسی کو شہرت کے حصول کی لت پڑی۔کوئی طاقت کے نشے میں بدمست ہاتھی کی طرح فصلیں اور نسلیں اجاڑتا رہا تو کوئی اپنی فرعونیت میں انسانی گردنو ںکو کاٹ کر کھوپڑیوں کے مینار بناتا رہا۔ تاریخ نے ایسے کرداروں کو حکمران بنتے بھی دیکھا جن کی عیاشیوں کی شاموں میں کبھی سورج کی کرنیں داخل نہ ہو پائیں۔ بعض حاکم ایسے گزرے جن کی عجب فرمائشوں کی تکمیل کیلئے ریاست دائو پر لگا دی جاتی۔ ہر دور میں فقط وہ لوگ مال ومتاع حاصل کرنے میںکامیاب رہے بلکہ ایسے حکمرانوں کے ہاتھوں نوازے جاتے رہے جو جی حضوری میں مہارت رکھتے اور حکمرانوں کے مزاج کے مطابق ماحول مزین و مرتب کرنے کے فن سے آشنا تھے۔ہم پاکستانی وہ خوش قسمت قوم ہیں جن کے حکمرانوں میں وہ تما م باتیں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں جو تاریخ نے مختلف ادوار میں مختلف حکمرانوں بارے بیان کی ہیں۔اور ماشا ء اللہ ہماری قوم میں جی حضوری کی مہارت رکھنے والوں کی بھی بہتات ہے۔اس بادشاہ کے بارے میں توآپ نے سناہی ہوگاجس نے ایک جلاہے کو حکم دیاتھا کہ ’’میرے لیے ایک ایسی دستار تیار کروجو ’’میری ریاست‘‘کی طرح نہ اس سے پہلے کسی نے دیکھی ہو، نہ سنی ہواورنہ اس کے بعد کوئی ایسی دستاربناسکے اوراگر اتنے دنوں میں دستار تیارنہیں ہوئی تو تمہارے سارے خاندان کوکولہو میں پلواکرجنت رسید کر دیاجائے گا۔جلاہا بیچارا بھاگ بھی نہیں سکتا تھا۔آخر مقررہ دن وہ دربار میں آتادکھائی دیا، وہ اپنے دونوں ہاتھ یوں آگے کیے ہوئے تھا جیسے بہت ہی نازک اورقیمتی چیزاٹھائے ہوئے ہو۔ آتے ہی وہ بادشاہ سے عرض گزارہواکہ آپ کی خواہش کے مطابق بے مثل وبے مثال اورحد درجہ کمال وجمال دستارتیارہوگئی ہے اوراس کی خوبی یہ ہے کہ اسے صرف ’’حلالی لوگ‘‘ دیکھ سکیں گے، حرامی لوگوں کو یہ کبھی دکھائی نہیں دے گی، پھر آگے بڑھ کر بادشاہ کے سرپر پگڑی باندھ بھی دی، بادشاہ سمیت سارا دربارعش عش کراٹھا،دستارکی خوبیوں، حسن اور کمالات کی تعریفیں کرنے لگاکیوں کہ کسی کواپنی ولدیت مشکوک کرنا منظورنہ تھا۔
گذشتہ دنوں حکمران خاندان کی سربراہ مریم نواز صاحبہ نے خواہش کا اظہار کیا کہ فوری طور پر عمران خان کو سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے، حکم کی تعمیل کرنے والوں نے شاید جلد بازی میں حکم بجا لاتے ہوئے اس کیس میں ورنٹ گرفتاری جاری کر دیئے جس میں عدالت پہلے ہی بے معنی ڈالی گئی سخت شقوں کو نکالنے کا حکم صادر فرما چکی۔ اس کے بعد مریم نواز نے عمران
خان پر الزام لگایا کہ جب عمران خان وزیر اعظم ہائوس سے روانہ ہونے لگے تو اپنے ساتھ وہاں موجود منرل واٹر کی بوتلیں بھی اٹھا کر لے گئے۔عمران خان کے وارنٹ گرفتاری سے لے کر منرل واٹر کی بوتلیںچوری کرنے کی عرق ریز تحقیقاتی تفتیش تک کا یہ سفر واضح کر رہا ہے کہ حکمران طبقہ چاہتا ہے کہ مخالفین نیست و نابود ہوں اور عوام ہر حال میں ان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے بلند و بالا الفاظ کے ساتھ ان کی تعریف میں دن رات مگن دکھائی دے۔ان کی خواہش ہے کہ عوام پرانی باتوں کو بھول جائے اور ہمارے حق حکمرانی کو تسلیم کر لے۔جوں جوں حکمران اپنے کیسز معاف کروا رہے ہیں اور انہیں یقین ہوتا جا رہا ہے کہ ہم آسمانی مخلوق ہیں کوئی ہمارا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا ، ان کے حوصلے بلند ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے دماغوں میں یہ سوچ بھی پیدا ہو چکی کہ پاکستان میں حکمرانی کرنے کیلئے 22 کروڑ لوگوں کے دل جیتنا ضروری نہیں بلکہ ان چند دروازوں پر سجدہ ریز ہو لیا جائے جو حق حکمرانی عطا کرتے ہیں تو سب کا سب معاف بھی ہو جاتا ہے اور نئے کرتوتوں کا حساب بھی دینے کی ضرورت نہیں رہتی۔شاید یہی وجہ ہے کہ کل تک وہ جن اداروں کے خلاف بات کرتے تھے آج ان کے سب سے بڑے سپوکس پرسن بنے دکھائی دیتے ہیں۔
موجودہ حکمران پرانے کھلاڑی ہیں وہ عوام کی نبض سے واقف ہیں، انہیں معلوم ہے کہ پاکستانی قوم تھوڑے عرصہ بعد بھول جاتی ہے،اسے نئی ڈگڈگی بجا کر بہلایا پھسلایا جا سکتا ہے۔ مگر انہیں یہ معلوم نہیں کہ بیس بائیس سالوں میں ایک ایسی نئی پود تیار ہو چکی جس کی ذہنی آبیاری عمران خان نے کی ہے اور سوشل میڈیا کی مدد سے وہ روزانہ ان کے دلوں اور دماغوں میں ان حکمرانوں کے پرانے اور نئے سب کارنامے دن میں کئی بار دہراتا رہتا ہے۔اب یہ قوم نہ تو ایسی دستاریں بنانے کے موڈ میں ہے جو حاکم وقت کو خوش کر سکیں اور نہ ہی اس خوف میں مبتلا ہے کہ دستار تیار نہ ہوئی تو حاکم وقت اس کا سر قلم کر دے گا۔عوام کو معلوم ہے کہ موجودہ حکمران کس طرح اور کس کی مدد سے حکمرانی پر براجمان ہیں۔زمینی حقائق واضح ہیں کہ عوام باشعور ہو چکے۔جس عمران خان کو تانگے کی سواری کہا جاتا رہا آج وہ جس طرف نکلتا ہے عوام کا جم غفیر اس کا منتظر دکھائی دیتا ہے۔میرا خیال ہے آخری معرکے کی فائنل کال سے پہلے نظام میں تبدیلی ہو جائے گی۔جس تیز رفتاری سے معاملات کو نمٹایا جارہا ہے، اس سے واضح ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس وقت کم ہے۔سیلاب سے ماری قوم، بھوک سے ستائے کسان اور بے روزگاری کی بھینٹ چڑھے نوجوان اب یہ فیصلہ کر چکے کہ ان حکمرانوں کو کسی صورت برداشت نہیں کرنا۔ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفا دار بے معنی راگ آلاپ رہے ہیں۔ تاریخ انسانی گواہ ہے کہ خلق خدا جب فیصلہ کر لیتی ہے تو پھر اس کا راستہ روکنا ناممکن ہو جاتا ہے۔اس وقت پاکستانی عوام یہ فیصلہ کر چکی کہ اب غلامی نہیں آزادی چاہیے تو پھر یقیناً انہیں ایسے آقائوں سے آزادی مل جائے گی جو خود اغیار کے غلام ہیں۔ابن العربی لکھتے ہیں سب سے مشکل کام فیصلہ کرنا ہوتا ہے جب مصمم ارادہ اور فیصلہ کر لیا جائے تو پھر طوفان بھی رخ نہیں بدل سکتے۔مجھے یقین ہے کہ فیصلہ ہو چکا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button