ColumnKashif Bashir Khan

عمران خان کی خطائیں! .. کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

 

اقتدار کھونے کے بعد عمران خان کو اب احساس ہو رہا ہو گا کہ جس قسم کی آزادی اور حسن سلوک وہ اپنے دور حکومت میں اپوزیشن جماعتوں سے کرتے رہے وہ پاکستان میں حکومت کرنے کیلئے ناکافی اورناکام ہے بلکہ آج وہ سب اس کی خطائیں دکھائی دے رہی ہیں۔جو کچھ 25 مئی کو نہتے شہریوں سے پنجاب کی وزارت داخلہ اور وفاقی وزیر داخلہ نے دیدہ دلیری سے کیا تھا وہ توعوام کو ان کے آئینی حق سے محروم کرنے کے تناظر میں کسی دشمن ملک کے عوام سے بھی نہیں کیا جا سکتا۔جب عمران خان اقتدار میں تھے تو مجھ جیسے بہت سے صحافی ان سے درخواست کرتے تھے کہ مافیاز اورماضی میں عوام پر ظلم کرنے والے اور ان کے وسائل کو وحشیانہ طریقے سے لوٹنے والے حکمرانوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے والا وزیر اعلیٰ پنجاب ہونا چاہیے کہ طویل عرصے تک ان حکمرانوں نے عوام کا نہ صرف استحصال کیا بلکہ ملک میں کرپشن کو عام کر کے اسے انڈسٹری کا نام دے دیا تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان کے عوام کی اکثریت خوش تھی کہ پاکستان کو طویل عرصے تک ایک سطحی قیادت جو کسی اور کے سہارے بار بار حکومت میں آتی رہی، سے جان چھوٹ گئی لیکن پھر تھوڑے ہی عرصے کے بعد وہ ہی سیاسی لیڈرشپ سیاسی منظر نامے پر اپنی تمام تر کرپشن کے باوجود واپس نظر آنے لگی اور پاکستانیوں نے یہ کمال بھی دیکھا کہ سپریم کورٹ سے سزا یافتہ سابق وزیر اعظم بیماری کا بہانہ کر کے بیرون ملک چلا گیا اور اس کی صاحبزادی بیمار باپ کی تیمار داری کیلئے چند ہفتوں کی ملنے والی ضمانت کے بعد جیل واپس ہی نہ گئی اور ملک بھر میں سیاست حصہ لینے پر عدالت عالیہ سے پابندی کے باوجود جلسے جلوس کر کے مقتدر حلقوں کے خلاف بیان بازی سمیت اعلیٰ عدلیہ وغیرہ
کو ویڈیوز لیک کرنے کی دھمکیاں دیتی سنائی دی۔ لیکن میرا استدلال اب بھی یہی ہے کہ 2018 میں عمران خان کو حکومت میں آتے ہی آرڈیننس کے ذریعے ان تمام بازی گروں کو پابند سلاسل کرنا چاہیے تھا(گو کہ عمران خان پر اپوزیشن کوکھیلانے والوں کا بہت پریشر تھا)لیکن یہ ان کے اس نظریہ سیاست کے عین مطابق ہوتا جس کا وہ پرچار پچھلے 26 سال سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔(ملکی دولت لوٹنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا)میں بطور صحافی اس حقیقت کو مانتا ہوں کہ مافیاز بہت طاقتور ہوتے ہیں اور اگر انہیں مقتدر طاقتوں کی آشیر باد بھی حاصل ہو تو پھر حکومت اور اپوزیشن میں ہونے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا(عملی ثبوت ہم عمران خان کے پونے چار سال کے دور حکومت میں دیکھ چکے)لیکن عظیم مقاصد کے حصول کے اپنے دور حکومت میں ان تمام طاقتور حلقوں اور مافیاز سے لڑنا عمران خان کی حکومت کا فرض تھا کہ عمران خان کو عوام نے مینڈیٹ انہی لوگوں کے خلاف شدید ری ایکشن کے طور پردیا تھا جنہوں نے اس ملک کی اساس کو کرپشن اور موروثیت کے ذریعے شدید نقصان پہنچا کر اپنے اپنے خاندانوں کی حاکمیت قائم کر رکھی تھی۔
جس ملک میں ایک سابق حکمران خاندان لندن کے مہنگے ترین علاقے میں اربوں پاؤنڈز کے اپارٹمنٹس کا ملک ہو اور وہ ان کی منی ٹریل اعلیٰ عدلیہ کے بار بار پوچھنے کے باوجود دینے سے انکاری ہو اور ٹھاٹھ سے اس میں رہ بھی رہا ہو تو پھر اگر عمران خان بطور وزیر اعظم پاکستان اسے باہر جانے دے اور اس کی صاحبزادی سزا یافتہ ہونے کے باوجود جلسے جلوس کر رہی ہو اور اس کی قیادت میں نیب لاہور کی عمارت پر شدید پتھراؤ کر کے نیب پر اتنا دباؤ ڈالا جائے کہ وہ انہیں دوبارہ نیب میں طلب کرنے کی ہمت ہی نہ کرے تو اس کی ذمہ داری تو اس وقت کی تحریک انصاف کی پنجاب میں موجود حکومت ہی کی تھی۔شدید مالی جرائم میں ملوث تمام سابق اراکین اسمبلی میں سے اگر کسی کو اصل جیل میں نہیں رکھا گیا اور سزا نہیں مل سکی تو اس کی ذمہ داری عدالتوں اور نا دیدہ ہاتھ پر نہیں ڈالی جا سکتی کہ جو دکھتا ہے وہ ہی بکتا ہے، کے مصداق ذمہ داری حکومت وقت پر ہی ڈالی جاتی ہے۔گزشتہ دور حکومت میں کھربوں روپے کے کرپشن کے کیس مختلف سیاستدانوں پر چلے اور اکثریت کی ضمانتیں عدلیہ نے لے لیں۔بطور صحافی ہمیں بھی تمام کرپٹ عناصر کے کچے چٹھے مقتدر حلقے اور نیب کے اعلیٰ حکام ہی دستاویزی ثبوت کے ساتھ دیتے رہے اور موجودہ وزیر اعظم اور ان کے صاحبزادے پر جو 16 ارب کی منی لانڈرنگ کا ناقابل تردید اور اوپن اینڈ شٹ کیس کیس ایف آئی اے میں اب رسماً چل رہا ہے اس کی تفصیلات بھی دینے والے تمام ارباب اختیار تھے۔لیکن میرا سوال آج مقبولیت کے سنگھاسن پر بیٹھے عمران خان سے ہے کہ اپنے دور حکومت میں خصوصی عدالتیں کیوں نہ بنائیں اور ملک دولت لوٹنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے کیوں نہ نبٹا گیا؟ آج پاکستان کے عوام حیران و پریشان بھی ہیں کہ وفاقی وزیر داخلہ جن کے
بارے بتایا گیا بلکہ انہیں اے این ایف نے گرفتار کر کے بتایا گیا کہ وہ منشیات فروش ہیں اور اسی طرح موجودہ وزیر خزانہ کے بارے بتایا گیا کہ وہ ملک کے خزانے کو لوٹ کر دبئی سمیت دنیا بھر میں کھربوں کی جائیدادیں کھڑی کر چکے ہیں اور پاکستان میں سابق حکمرانوں کی تمام کرپشن کو بھی منی لانڈرنگ کے ذریعے منتقل کرنے والے بھی وہ ہیں تو آج جب وہ مفروری سے واپس آ کر سیدھے وزیر خزانہ بن جاتے ہیں تو پاکستان کا ہر ذی شعور شخص یہ سوچ رہا ہے کہ جو تمام حلقے اسے ملزم و مجرم قرار دیتے تھے اگر آج وہ ہی اس کے سہولت کار ہیں تو ہم عوام اور ریاست پاکستان کہاں کھڑے ہیں؟سوال تو بہت بڑا ہے کہ اگر پاکستان کا کوئی عام شہری عدالتوں سے مفرور ہوکر بیرون ملک فرار ہو جائے تو کیا اس کے ساتھ بھی ریاست کی حکومت اور انصاف فراہم کرنے والے ادارے وہی سلوک کریں گے جو اسحاق ڈار وغیرہ کے ساتھ کیا گیا؟ دوسرا سوال جو عوام کی سوچوں کو منتشر کررہا ہے کہ اگر سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی اور داماد کو سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی میں دی جانے والی سزا غلط تھی تو پھر اس غلط سزا دینے والوں کو سزا کون دے گا؟بات عمران خان کی بطور وزیر اعظم دور حکومت کی ہو رہی تھی۔عمران خان اپنے دور حکومت میں مغربی ممالک میں موجود جمہوریت کی بات کرتے رہے اور اس مثالی مغربی جمہوریت کو پاکستان میں نافذ کرنے کی کوشش بھی کرتے رہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ان کی سب سے بڑی بھول اور ناکامی کی اصل وجہ تھی۔جس ملک میں 1993 میں ایک سابق وزیر اعظم کا شوہر کرپشن میں جیل سے سیدھا وفاقی وزیر سرمایہ کاری لگایا جاتا ہو اور ملک کے مرکز اور تمام صوبوں میں حق حکمرانی رکھنے والے سیاستدانوں کی اکثریت نیب و دوسرے انسداد کرپشن کے اداروں کو مطلوب ہوں وہاں کون سی جمہوریت اور کہاں کا انصاف؟جس ملک میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس اربوں کی کرپشن میں ملوث ملزم کے ہسپتال میں کمرے سے شراب کی بوتلیں خود برآمد کریں اور آج وہ ایک صوبے کی حکومت کا ترجمان بن کر دوسروں پر تنقید کرریا ہو وہاں کیسی جمہوریت اور کہاں کی جمہوری روایات اور انصاف۔
میں آج بھی عمران خان کو قصوروار ٹھہراتا ہوں کہ پنجاب میں تگڑا وزیراعلیٰ بنا کر ماضی کے چور ڈاکو لٹیروں کو سخت سزائیں نہ دلوا کر انہوں نے بہت بڑا موقعہ ضائع کردیا۔مجبوریاں بھی سمجھتا ہوں کہ کچھ حلقے ایسا نہیں کرنے دیتے تھے لیکن کاش کوئی سنجیدہ کوشش تو کی جاتی تو پھر عوام جیسے آج ان سے سوال کر رہے ہیں اس وقت بھی کر لیتے۔میں سمجھتا ہوں کہ جو کچھ آج وزیر داخلہ کر رہے ہیں وہ اقتدار سے چپکے رہنے کا طریقہ و کوشش ہے کیونکہ سیاست کے میدان میں تو ان کی سیاسی موت واقع ہو چکی ہے اور عمران خان کے خلاف پرانے بوسیدہ اور غلیظ ہتھکنڈوں کے علاوہ تمام اپوزیشن کے پلے کچھ بھی نہیں۔ آج مرکزی حکومت ہر دوسرے دن کسی نہ کسی ایشو کو بنیاد بنا کر عمران خان پر سنگین غداری کا مقدمہ بنانے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے۔ یقین جانیے کہ جس قوم کو ہم سوئی ہوئی قوم کہتے نہیں تھکتے تھے وہ آج اتنی بیدار ہو چکی ہے کہ ان تمام بازی گروںکیلئے ان کی آنکھوں میں خون بھرا ہوا ہے۔عمران خان کی مقبولیت کو ایک طرف رکھ کر دیکھیں تو بھی عوام کا حکمران طبقے اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں کی’’غیر معمولی خصوصی شفقت‘‘ عوام کے شدید غم و غصہ کا سبب ہے کہ عوام کے استحصال اور دبانے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button