ColumnZameer Afaqi

انا ونڈے شرینیاں تے مڑُ مڑُ اپنیاں نوں .. ضمیر آفاقی

ضمیر آفاقی

 

ایک طرف پاکستان کی عوام بدترین مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ،بجلی کے بلوں نے متوسط طبقے تک کوذہنی مریض بنا دیا ہے، غریب کا تو حال ہی کوئی نہیں اسی طرح پٹرول کی قیمتوں نے عوامی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں، جبکہ کھانے پینے کی اشیاء جن میں آٹا، گھی، چاول دالیں ،چینی اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں نے بھی پاکستانی عوام کی ہنسی مسکراہٹ اور قہقہے تک چھین لیے ہیں ،بچے دودھ دہی جس کی ان کی اشد ضرورت ہوتی ہے جو غذایت کی کمی دور کرنے کا باعث ہیں، کی ’’عیاشی‘‘ اب افورڈ نہیں کر سکتے، نیشنل نیوٹریشن سروے (این این ایس) کے مطابق پاکستان کے ہر دس میں سے 6بچوں میں وٹامن ڈی کی کمی پائی جاتی ہے۔ یوں لاغر پن کے شکار یہ بچے ہی اب اس ملک کا مستقبل ہوں گے۔ دوسری جانب اس طرح کی خبریں کہ پارلیمنٹ نے امیروں کو مزید امیر کرنے کا بل منظور کر لیا ہے، عوامی غم وغصے اور نفرت کا موجب بنتا ہے۔ چند دن پیشر پاکستان کے ایوان بالا نے ایک بل منظور کیا ہے جس میں سینیٹ کے چیئرمین اور قومی اسمبلی کے سپیکر کی مراعات میں اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔ بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کے بیرونی دوروں کے موقع پر ان کے رتبے کے لحاظ سے انہیں ڈپٹی ہیڈ آف دی اسٹیٹ کے لحاظ سے پروٹوکول دیا جائے۔ واضح رہے کہ اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے کیے گئے ایک مطالبے کے بعد 21 ستمبر کو ایک حکومتی فیصلے میں ان کیلئے موٹر وے ٹیکس کو بھی ختم کر دیا گیا تھا۔
انسانی دکھوں پر کُڑھنے والے دانشوروں کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب کروڑوں لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں ارکان سینیٹ کا اس طرح کا بل منظور کرنا انتہائی شرمناک ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کے پاس کھانے کیلئے روٹی نہیں ۔ ان کے گھر بار تباہ ہوگئے، مویشی مر گئے، ان کا روزگار ختم ہو گیا ہے جبکہ شہروں میں رہنے والے لوگ بھی اس وقت انتہائی مشکل ترین وقت گزار رہے ہیں۔ ایسے موقع پر اراکین پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام مراعات سے دستبردار ہوں اور اپنی تنخواہ اور مراعات کو سیلاب زدگان کی مدد کیلئے وقف کریں لیکن ایسے وقت میں جب ملک ڈوبا ہوا ہے، یہ انتہائی شرم کا مقام ہے کہ سینیٹ کے ارکان قومی اسمبلی کے چیئرمین اور سینیٹ کے چیئرمین کی مراعات میں اضافہ کررہے ہیں۔ ڈپٹی ہیڈ آف سٹیٹ کا پروٹوکول دینے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر مزید پیسے خرچ کیے جائیں۔ان کیلئے مزید گاڑیوں کا انتظام کیا جائے۔ سیکورٹی سخت کی جائے اور ان کیلئے مزید پر تعیش ہوٹلوں میں قیام کا انتظام کیا جائے۔ دانشوروں نے ٹول ٹیکس کے خاتمے پر بھی اراکین اسمبلی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ اسمبلیاں یہ تاثر دے رہی ہیں کہ یہ عوام کیلئے نہیں بلکہ اپنی مراعات میں اضافہ کرنے کیلئے ہیں۔ ایک طرف انہوں نے عوام پر بے تحاشہ ٹیکسز لگائے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ جو تنخواہ دار طبقہ ہے اس کی تنخواہ سے بھی سیلاب زدگان کیلئے پیسے کاٹے گئے ہیں لیکن جب اراکین اسمبلی کی مراعات کی بات آتی ہے تو وہ اپنی مراعات کم کرنے کے بجائے اس میں اضافے کی بات کرتے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس بل پر سینکڑوں کے حساب سے اراکین پارلیمنٹ میں صرف ایک رکن قومی اسمبلی کشور زہرہ کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب ملک معاشی طور پر بہت مشکل صورتحال کا سامنا کر رہا ہے اس طرح کے بل کو منظور کرنا مناسب نہیں۔انہوں نے میڈیا کو بتایاکہ سینیٹ کے چیئرمین اور سپیکر قومی اسمبلی کی پہلے ہی بہت ساری مراعات ہیں۔ میرا تو خیال یہ ہے کہ مالدار اراکین اسمبلی کو نہ صرف اپنی تنخواہیں سیلاب زدگان کیلئے وقف کرنی چاہیے بلکہ انہیں خود رضا کارانہ طور پر اپنی مراعات سے بھی دستبردار ہو جانا چاہیے۔کشور زہرہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ صرف اراکین اسمبلی کے حوالے سے ہی بات نہیں کی جانی چاہیے۔ہمارے افسر شاہی کے لوگوں کو بھی بہت ساری مراعات ملتی ہیں۔ایک رکن اسمبلی کو تنخواہ قریباً ایک لاکھ اسی ہزار ملتی ہے جس میں سے بہت ساری کٹوتیاں بھی ہوتی ہیں اور اس سے بہت سارے بلوں کی ادائیگی بھی اس کو کرنی پڑتی ہے لیکن ہمارے افسر شاہی کے ارکان کو سات سے آٹھ لاکھ روپے تنخواہ ملتی ہے۔ ان کو پلاٹ ملتے ہیں۔ ان کا علاج پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی ہوسکتا ہے جبکہ ارکان اسمبلی کیلئے سرکاری ہسپتال مختص ہیں۔ تو صرف ارکان اسمبلی کو ہی اپنی مراعات سے دستبرداری نہیں کرنا چاہیے بلکہ بیوروکریسی کے افراد پر سادگی کے اصولوں کا اطلاق ہونا چاہیے۔
وی آئی پیز کی مراعات میں اضافے کے اس عمل میں عوام کے تن پر کوئی کپڑا بھی رہ پاتا ہے یا نہیں، انہیں سکھ کا سانس مل بھی پاتا ہے یا نہیں، ان کے جسم کے ساتھ تنفس کا سلسلہ برقرار رہ پاتا ہے یا نہیں اور ان کا آبرومندی کے ساتھ زندگی گزارنے والا چلن قائم رہ پاتا ہے یا نہیں، ان وی آئی پیز کو ایسے کسی معاملے میں قطعاً دلچسپی نہیں ہوتی۔ یہ تو موجودہ حکومت کے سوچنے کا مقام ہے کہ ان عیاشیوں کیلئے عوام کا خون کب تک نچوڑنا ہے، پٹرولیم، بجلی، گیس اور ادویات کے نرخوں میں بے مہابہ اضافہ کرکے عوام کو بے رحمی کے ساتھ مہنگائی کے عفریت کے آگے ڈالا جا رہا ہے اور کبھی یہ احساس تک نہیں کیا گیا کہ یوٹیلٹی بلوں میں اضافہ اور نئے ٹیکسوں کے ذریعے اٹھنے والے مہنگائی کے طوفان کا سامنا کرنے کی عوام میں ہمت بھی رہی ہے یا نہیں۔وی آئی پی کلچر جس میں ایک طرف پر تعیش لائف سٹائل اور عیاشیاں عوا م کے ٹیکسوں سے ہیں تو دوسری طرف لنگر خانوں پر ایک وقت کی روٹی کیلئے ذلیل ہوتے لوگ بھی اسی حکومت کے ان مراعات یافتہ لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہیں۔
اگر معیشت کو سنبھالنے کیلئے ’’ سخت‘‘ فیصلے کرنا مقصود ہے تو ان فیصلوں کا رخ پسے پسماندہ عوام کے بجائے حکمران اشرافیہ طبقات کی جانب کیا جائے اور انہیں زیادہ سے زیادہ ٹیکس نیٹ میں لا کر ان سے واجب الادا ٹیکسوں کی وصولی یقینی بنائی جائے یا ملکی پیدوار میں اضافے کیلئے اقدامات کے ساتھ ہمسایہ ممالک سے تجارت کھولی جائے۔ یہ سوچنا اب حکومت کا کام ہے کہ اس نے اپنی بہتر حکمت عملی سے عوام کے گلے کاٹ کر باوسیلہ اور مراعات یافتہ طبقات کی جیبیں بھرنی ہیں یا عوام کو زندہ درگور ہونے سے بچانا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button