Columnمحمد مبشر انوار

خواہشیں! .. محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

 

پاکستانی سیاسی افق اس وقت آڈیوز؍ویڈیوز کے بھونچال میں گھرا ہواہے ،کسی کو کچھ پتا نہیں کہ کس وقت ،کہاں اور کیسے کس کی نئی آڈیو یا ویڈیو سامنے آ جائے اور کسی بھی سیاستدان کا کیرئیر تباہ و برباد کردے۔ویسے حقیقت سیاستدانوں کے کیرئیر سے متعلق حقیقت ہمیشہ اس کے برعکس ہی رہی ہے کہ خال ہی ایسا ہوا ہے کہ ہمارے شخصیت پرست معاشرے میں کسی سیاستدان کے اعمال کے باعث،عوام نے اس سے ناطہ توڑا ہو،بلکہ یہاں کی مٹی کا خمیر ہی کچھ الگ ہے کہ جتنا کسی سیاستدان کی کردار کشی کی جاتی ہے،وہ اتنا عوام میں مقبول ہو جاتا ہے۔البتہ عوام سیاستدانوں کی کارکردگی اور رابطے کو ضرور اہمیت دیتی ہے اور جو سیاستدان اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر عوام میں نکلتا ہے،عوام اس کو اپنا مسیحا سمجھتی ہے۔ یہی صورتحال دہائیوں تک پیپلز پارٹی کی بھٹوز قیادت کے ساتھ رہی ہے اور عوام تمام تر مخالفت و رکاوٹوں کے باوجود آخر وقت تک پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ رہی تھی تاوقتیکہ راولپنڈی کے جلسہ میں محترمہ بے نظیر اپنی جان کی بازی ہار گئی،بعد ازاں پیپلز پارٹی کے چراغوں سے روشنی گل ہوتی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی سیاسی سوچ اور پیپلز پارٹی کے ’’طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں‘‘فلسفہ پر عمل پیرا رہتے ہوئے،واضح جان کی دھمکیوں کے باوجود ،بے نظیر نے عوامی رابطہ کو کبھی ختم نہیں کیا،گو کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی حکومت دوبارہ بننے نہ دی گئی لیکن قیادت نے کبھی ان خطرات کو اہمیت نہ دی۔البتہ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت اپنے سکیورٹی خول سے باہر نکلنے کو تیار نہیں اور نہ ہی اقتدار سے محروم رہنا چاہتی ہے لیکن اس کیلئے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ قطعاً پیپلز پارٹی کے منشور کے مطابق نہیں،جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ حالیہ سیلاب میں پیپلز پارٹی کی سندھ میں رہی سہی ساکھ بھی سیلاب برد ہوتی نظر آ رہی ہے۔بہرکیف موجودہ سیاسی بحران دن بدن نہ صرف سنگین ہو رہا ہے بلکہ پس پردہ سیاستدانوں کی کارروائیاں بھی منظر پر آتی نظر آ رہی ہیں لیکن ان کارروائیوں کے اصل کردار ہنوز پس پردہ ہیںاور صرف سیاستدانوں کو ننگا کر کے ،ان کی اہلیت کو سوالیہ نشان بنایا جا رہا ہے۔سیاسی تقسیم اس قدر گہری ہو چکی ہے کہ مخالفین ایک دوسرے سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور عام زندگی میں عدم برداشت اپنے عروج پر نظر آ رہی ہے۔ مخالفین ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کرنے کے ساتھ ساتھ،کسی بھی صورت حقیقی تجزیہ کرنے کی بجائے،ذاتی ناپسند کو بنیاد بنا کر ہی کردار کشی یا میسر آڈیوز یا ویڈیوز پر جھوٹے،بے ایمان یا سکیورٹی رسک تک کی باتیں کرتے نظر آتے ہیںاور یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ دوسرے بھی ان کی سوچ کے مطابق ان کی ہاں میں ہاں ملائیں بصورت دیگر وہ مخالف کے ترجمان اور قابل نفرت ہیں۔
تادم تحریر تین؍چار آڈیوز مارکیٹ میں میسر ہیں اور ان میں ایک سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے درمیان امریکی سائفر پر ہونے والی گفتگو ہے۔ جس میں دونوں خان سائفرپر گفتگو کرتے ہوئے اگلے لائحہ عمل کو ترتیب دینے کی بات کر رہے ہیں۔اس گفتگو میں عمران خان نے جو الفاظ استعمال کئے ہیں،ان کے مخالفین اس کی بنیاد پر یہ مؤقف اپنا رہے ہیں کہ سائفرکو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا ہے جبکہ امریکی مراسلے میںایسی کوئی بات نہیں لیکن عمران خان’’اس پر کھیل‘‘رہے ہیں۔ یہ وہ لفظ ہے جو عمران خان نے اس گفتگو میں استعمال کیا ہے جبکہ دیگر مندرجات جو عمران خان نے اپنے جلسوں میں بیان کئے ہیں بعینہ ان کی حکومت اسی طرز پر تبدیل ہوئی،لیکن مخالفین اس کو یوں ہضم کرتے ہیں کہ جیسے وہ اتنی اہم بات ہی نہیں۔درحقیقت ہر سیاسی جماعت اوراس کے کارکنان کی تربیت ہی اس طرز پر ہو رہی ہے کہ جو قیادت کہے،اس پر آمناً و صدقناً کہہ کر،مخالفین کی پگڑیاں اور دھجیاں بکھیر دو،یہی اس وقت سیاسی میدان میں ہو رہا ہے۔جو اہم ترین بات عمران خان کر رہے ہیں کہ امریکہ یا کسی بھی دوسرے ملک کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت یا حکومتیں گرانے کی سازش نہیں کرنی چاہیے،اس پر پی ڈی ایم اوران کے حمایتی کسی طور غور کرنے کیلئے تیار نہیں کہ ان کا اقتدار درحقیقت اسی چوردروازے سے حاصل کردہ ہے،وہ اس پر کیونکر بات کریں۔ یہ حقیقت تو اب واضح طور پر کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ جو باتیں عمران خان اپنے جلسوں میں کررہے ہیں،میڈیا گفتگو میں کر رہے ہیں،حکومت گرانے کا منصوبہ بعینہ ویسے ہی عمل پذیر ہوا ہے اور موجودہ حکومت،جسے عمران خان امپورٹڈ حکومت کہتے ہیں،بیرونی آقاؤں کے احکامات کی بجا آوری کرتی نظر آتی ہے۔
حیرت اس وقت ہوتی ہے کہ جب بالعموم احباب آپس میں گفتگو کرتے ہوئے انتہائی دانشمندانہ انداز میں غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح سمجھنے کو مسائل کا حل سمجھتے ہیں لیکن جب میزان ان کے ہاتھ آتا ہے تو اس اصول کی نفی کرتے واضح طور پر ذاتی پسند و ناپسند کو ترجیح دیتے ہیں۔ صرف پاکستانی ہی نہیں دنیا بھر کے ہر قوم اپنی خودمختاری پر انتہائی فکرمند نظر آتی ہے اوراس امر کی خواہاں بھی ہے کہ ان کی خودمختاری پر کوئی آنچ نہ آئے لیکن حکمرانوں کی ترجیحات ان خواہشات کے برعکس سمجھیں یا عالمی برادری کی نزاکتیں یا معاشی حالات کی کسمپرسی کہ اکثریت اس خودمختاری پر سمجھوتے کرتی نظر آتی ہیں۔ حتی کہ وہ قومیں جو معاشی اعتبار سے پاکستان کی نسبت کہیں زیادہ مستحکم ہیں،ان کو بھی اقوام عالم میں رہتے ہوئے کئی ایک مواقع پر مصلحتاً خاموشی اختیار کرنا پڑتی ہے لیکن یہ خاموشی دوطرفہ معاملات یا عالمی نظر کے حوالے سے زیادہ نظرآتی ہے جبکہ ملکی وقار و خودمختاری کے حوالے سے معاشی طور پر مستحکم ممالک کم ہی سمجھوتہ کرتے نظر آتے ہیں۔پاکستانی معیشت پر بغور نظر دوڑائیں تو یہ حقیقت واضح نظر آتی ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں میں بالخصوص اس کی معیشت کو دانستہ کمزور ہی نہیں کیا گیا بلکہ حقیقتاً معاشی شہ رگ کو ذاتی مفادات کے حصول میں ،بیرونی قرضوں میں یوں جکڑ دیا گیا ہے کہ اب سانس لینا بھی دشوار ہے اور بقول خواجہ آصف کہ پاکستانی معیشت امریکی وینٹی لیٹر پر ہے۔خودمختاری کے خواہشمنداس حقیقت سے نظریں چراتے ہوئے آج بھی فقط عمران خان سے ذاتی پرخاش کی بنا پر اس کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں ،تسلیم کہ معاشی صورتحال پاکستان جیسے ملک سے خودمختاری کی بات کرنا مصلحت کے خلاف ہے لیکن کیا پاکستان کو دوبارہ انہی عطار کے لونڈوں کے حوالے کرنا بھی مناسب ہے؟عمران خان کا قصور یہ ہے کہ وہ اس قوم کو کم از کم اس نقطہ پر اکٹھا کرنے میں دوبارہ کامیاب ہو گیا ہے کہ کوئی بھی بیرونی قوت پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے کی مجاز نہیں چہ جائیکہ اس کے خلاف سازشیں رچاتی پھرے۔یہی وہ نقطہ تھا کہ جس پر ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی نے دہائیوں اس قوم کے دلوں پر حکومت کی جبکہ امریکی زیر اثر قوتوں نے پیپلز پارٹی کو نہ صرف اقتدارسے دور رکھا بلکہ اس کو کچلنے کی کوشش بھی کی۔آج خودمختاری کا وہی علم عمران خان اٹھائے سڑکوں پر عوام کے ساتھ ہے جبکہ وہی داخلی و خارجی قوتیں عمران خان کے خلاف برسر پیکار ہیں،عمران خان کو بھی زندگی کا خطرہ ہے لیکن عمران خان بھی اس ملک وقوم کا وقار بحال کروانے کی جدوجہد کرتا نظر آتا ہے،عوام بھی اس کے ساتھ کھڑی ہے اور ثابت کر رہی ہے کہ وہ اپنی قومی خودمختاری کی بات کرنے والے ہر پاکستانی کے ہمرکاب ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
بطور لکھاری،ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس رائے کو معتبر سمجھتا ہے،اس کا اظہار کرے،اس کو پڑھنے والے اس کی رائے کے حامی بھی ہوتے ہیں اور مخالف بھی،حامی تو یقینی طور پر ایسی تحریر سے خوش ہوتے ہیں لیکن رائے کے مخالف یقینی طور پر اپنے دل کی بھڑاس مختلف طریقوںسے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ٹرولنگ تو ایک عام روٹین ہے جبکہ ذاتی تعلقات کی بنا پر رائے کے خلاف توہین آمیز تحاریر،خاکے،وغیرہ بھیج کر توجہ بھٹکانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں جبکہ عام نشستوں میں یہی احباب عدم برداشت پر انتہائی پرمغز لیکچر دیتے نظر آتے ہیں۔ واٹس ایپ پر ایسے میسجز بھیج کر یہ توقع کی جاتی ہے کہ لکھاری ان کی خواہشوں کے تابع ہو جائے،بصد احترام عرض ہے کہ لکھنے والے کی اپنی رائے ہوتی ہے،جس سے اختلاف بھی ممکن ہے اور رائے کے غلط ہونے کا احتمال بھی موجود ہے لیکن یہ ممکن نہیں کہ لکھاری کسی کی خواہشات کو اپنے قلم کی زینت بنائے۔آپ کو اگر تحریر پسند نہیں تو بے شک نہ پڑھیں،اور اگر پڑھ لیں تو خدارا اختلاف رائے کو برداشت کریں ،اپنی خواہشات کو قلمبند کرنے پر اصرار کرنے سے گریز کریں۔شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button