ColumnDildar Ahmad Satti

ذہنی دباؤ کے صحت پر مضراثرات .. دلدار احمد ستی

دلدار احمد ستی

 

موجودہ دور میں منشیات کے استعمال اور دماغی امراض کے مریضوں میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے۔ذہنی دباؤ سے پیدا ہونے والی بیماری کا بروقت علاج نہ کروانے سے پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ہزارہ ڈویژن میں بھی منشیات استعمال کے بڑھتے ہوئے رحجان اور علاج کا مرکز نہ ہونے سے مریضوں کو بڑے شہروں پشاور ،اسلام آباد کا رخ کرنا پڑتا ہے ،جن میں اکثریت افراد مہنگا علاج برداشت نہ کرنے کی سکت پر اپنی اولاد اور پیاروں کا علاج نہیں کرواسکتے۔ جس سے متاثرہ مریض سسک سسک کر وبال جان اور ذہنی بیماری کا شکار رہتا ہے پاکستان میں قریباً 80 لاکھ افراد منشیات کے عادی ہیں ۔جن میں 78 فیصد مرد اور 22 فیصد خواتین شامل ہیں جو شراب ،ہیروئین ،چرس ،افیون، کرسٹل،آئس ،صمد بونڈ اور سکون آور ادویات کا استعمال کرتے ہیں ۔منشیات طرز زندگی نہیں بلکہ بیماری ہے۔جو بے شمار معاشرتی برائیوں اور خرابیوں کی جڑ ہے ۔2013 کی اقوام متحدہ کی سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ منشیات کا استعمال خیبر پختونخوا میں ہے اور ہزارہ کے 7 لاکھ افراد اس لت میں مبتلا ہیں۔ان میں بڑی تعداد سکول کالجز کے طلباء اور طالبات کی ہے۔جس میں کچھ عرصہ سے تیزی سے اضافہ ہونے سے تعداد دس لاکھ سے تجا وز کر چکی ہے۔جو معاشرے پر دن بدن بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔منشیات کے بڑھتے ہوئے رحجان کے ساتھ ذہنی دباؤ سے پیدا ہونے والے امراض کو بھی سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے۔ ذہنی بیماری سے اموات ہو رہی ہیں اس بیماری کا اختتام خودکشی کی صورت میں نکل رہا ہے۔دنیا میں دو ارب افراد اور ہر سو میں 25 افراد میں دماغی صحت کا فقدان ہے ۔کیونکہ سوچنے اور سمجھنے کا انداز جسم کے ہر اعضاء کو متاثر کرتا ہے۔اس میں جو مذہب سے لگاؤ رکھتے ہیں وہ ذہنی مسائل سے دور رہتے ہیں۔ موجودہ ٹیکنالوجی کے دور میں نوجوان نسل میں دماغی صحت کے مسائل تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں جس میں بنیادی وجوہات طرز زندگی ،موبائل فون ،لیپ ٹاپ کا زیادہ استعمال ،سونے اور جاگنے کے اوقات میں ردوبدل نے طلبہ کی ذہنی صحت اور ان کی تعلیم کو سخت متاثر کیا ہے۔بدقسمتی سے ذہنی صحت کا تعلق صرف پاگل پن سے جوڑا جا تا ہے جبکہ جسم کے اور دیگر اعضا ء کی بیماریوں کا علاج کروایا جا تا ہے۔ معاشرے میں ذہنی صحت کے حوالے سے طرح طرح کی تہمات بھی پائی جاتی جو اس کے بروقت علاج نہ کروانے سے پیچیدگیاں پیدا کرتی ہیں۔ اکثریت میں لوگ ذہنی صحت کے حوالہ سے لاعلم رہتے ہیں۔ذہنی دباؤ طلبہ کی زندگیوں میں بھی ہوتا ہے۔اساتذہ طلبہ کو محنت کرنے کی عادت ڈالیں پھر اس کے نتائج اللہ پر چھوڑ دیں۔ایسے بھی کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ جن میں طلباء و طالبات نے خودکشیاں کرلیں ۔جو ذہنی دباؤ کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں ان میں اکثریت کا انجام خودکشی کی
صورت میں ہی نکلتا ہے۔2019 کی عالمی وباء کرونا کے بعد طلبہ کی تعلیم کا معیار بھی پستی کی طرف آیا ہے ۔جس سے طلبہ کی ذہنی صلاحیتیں متاثر ہوئی ہیں ۔سالانہ امتحان کے نتائج میں قابل ذکر کامیابی نہ ملنے پر اکثریت نے خودکشیاں کرنے کی کوشش کی ہیں اور کچھ ذہنی دباؤ کے نتیجہ میں منشیات جیسی لعنت میں مبتلا ہو کر معاشرے کے ناسور بن رہے ہیں ۔طلباء و طالبات میں اس شعور کی آگاہی کیلئے کہ ذہنی دباؤ سے متاثرہ افراد کا علاج بات چیت اور ادویات سے ممکن ہے ۔ایبٹ آباد میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد سیمینار پرفضا مقام نتھیاگلی کے ڈگری کالج میں ہوا جس میں شعبہ نفسیات ایوب میڈیکل کمپلیکس کے سربراہ پروفسیر ڈاکٹر آفتاب عالم نے میڈیکل ٹیم اور میڈیکل کے طالب علموں کے ہمراہ میڈیکل کیمپ بھی لگایا ۔گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ کے تعاون سے ہونے والے سیمینار میں ڈگری کالج اور ہائی سکول کے پرنسپل اساتذہ اور طلباء بھی شریک ہوئے۔
ایوب میڈیکل کمپلیکس شعبہ نفسیات کے سربراہ ڈاکٹر آفتاب عالم نے ہائی سکول اور کالج کے طلباء ، علماء ،ویلج ناظمین اور سول سوسائٹی کے افراد کو بھی ذہنی امراض اور منشیات کے استعمال کے اثرات تدارک اور روک تھام کے حوالہ آگاہی دی اور میڈیکل کیمپ کا بھی انعقاد کرکے ذہنی مسائل سے دوچار طلبہ اور مقامی افراد کا معائنہ کرکے مفت ادویات بھی دی گئیں اپنی نوعیت کا پہلا آگاہی سیمینار منعقد کیا ۔جس میں ہائی سکول اور ڈگری کالج نتھیا گلی کے طلباء،اساتذہ کو ذہنی دباؤ کے نتیجہ میں مرتب ہونے والے اثرات اور اس کے فوری علاج کے متعلق آگاہی دی گئی۔پروفیسرڈاکٹر آفتاب عالم نے بتایا کہ ذہنی امراض کی علامات میں گھبراہٹ، بے چینی ،دل کی دھڑکن کا بڑھ جانا ،نیند میں بے قاعدگی سمیت دیگر عوامل شامل ہیں جس سے طلباء ذہنی دباؤ سے دوچار ہوتے ہیں۔اسی طرح طلبہ میں نشہ کے استعمال کی بڑھتی ہوئی عادت میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ایبٹ آباد میں سرکاری اور نجی سکولز ،کالجز میں منشیات کا سونامی ہے جس سے میڈیکل کالجز کے طلباء و طالبات بھی محفوظ نہیں ۔بچوں میں ذہنی دباؤ سے ان کی زندگی متاثر ہوتی ہے اس کا بروقت علاج نہ کرنے سے انجام خودکشی ہوتا ہے ۔انہوں نے زور دیا ہے کہ ذہنی امراض کی بیماریوں کا باقاعدہ علاج موجود ہے اس کو صرف پاگل پن سے تشبیہ دینا درست نہیں۔ایوب میڈیکل کمپلیکس میں شعبہ نفسیات میں ڈاکٹرز ایسے متاثرہ بچوں اور بڑی عمر کے افراد کا بات چیت اور ادویات سے علاج کرتے ہیں ۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ رات کو سونے اور جاگنے کا وقت مقرر کریں ۔تعلیم کے ساتھ کھیل کیلئے وقت مختص کریں ۔ذہنی دباؤ طلبہ کی ذندگی میں ہوتا ہے اس کی دیکھ بھال نہ کرنے سے مسائل پیدا ہو تے ہیں۔اساتذہ بھی طلبہ میں محنت کرنے کی عادت ڈالیں ان پر نتائج کا بوجھ نہ ڈالیں ۔ڈاکٹر آفتاب عالم نے نتھیاگلی کے عمائدین چیئرمین ڈی آر سی مولانا عبد الشکور ،چیئرمین ویلج کونسل تتریلہ حافظ شبیر،چیئرمین ملاچھ سردار مشتاق ،مولانا امجد ، سردار ظہیر سمیت اساتذہ دیگر سے بھی ذہنی امراض کے تدارک کے حوالے سے گفتگو کی اور بتایا کہ ذہنی امراض کے علاج کیلئے ایوب میڈیکل کمپلیکس میں 25 بیڈ کا شعبہ نفسیات کا وارڈ موجود ہے اور ماہانہ 13 اوپی ڈی میں مریضوں کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ منشیات کے مریضوں کا علاج بھی شعبہ نفسیات کرتا ہے لیکن اس کیلئے ایوب میڈیکل کمپلیکس میں کوئی سنٹر موجود نہیں ۔نشے کے عادی افراد کو کم از کم تین ماہ نگرانی میں رکھا جاتا ہے۔عمائدین نے بھی منتخب ارکان اسمبلی سے ایوب میڈیکل کمپلیکس میں ترک منشیات کے سنٹر کے قیام کا بھی مطالبہ کیا کیونکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہزارہ کے منتخب ارکان اسمبلی ایوب میڈیکل کمپلیکس میں ترک منشیات سنٹر کے قیام کے سنجیدہ کوشش کریں اور اس کو اپنی ترجیحات میں رکھیں۔ہزارہ میں نشے کے عادی افراد کے علاج کی صحت میسر نہیں ہے ۔جبکہ نشہ گھروں تک پہنچ چکا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button