ColumnMazhar Ch

سعودی عرب بدل رہا ہے .. مظہر چودھری

مظہر چودھری

 

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030کے تحت سعودی معاشرے میں برپا ہونے والی سماجی و ثقافتی اور معاشی و سیاسی تبدیلیوں کا احوال تو گذشتہ کئی سالوں سے پڑھتے اور سنتے آ رہے تھے لیکن اپنی آنکھوں سے ان تبدیلیوں کا مشاہدہ کرنے کا موقع عمرہ کی ادائیگی کیلئے کیے جانے والے دوہفتوں کے سعودی عرب کے وزٹ کے دوران ملا۔سعودی وژن 2030بنیادی طور پر توتیل پر بتدریج انحصار کم کرتے ہوئے سعودی معیشت میں تنوع لانے کا جامع اور جرأت مند تعمیراتی منصوبہ ہے لیکن اس منصوبے کے تحت شروع کیے گئے درجنوں منصوبوں اورمختلف شعبوں میں متعارف کرائی جانے والی ان گنت اصلاحات سے نہ صرف سعودی معیشت میں تنوع پیدا ہو رہا ہے بلکہ قدامت پسند سعودی معاشرہ ہر پہلو سے تبدیل ہو رہا ہے۔ملک بھر میں جاری میگا پراجیکٹس کی بدولت جہاں ایک طرف سعودی خواتین سمیت نوجوانوں کوروزگار کے وسیع مواقع میسر آ رہے ہیں وہیں حکومت کی جانب سے تعلیم، صحت ، ثقافت، سیاحت اور کھیل کے شعبوں میںکیے جانے والے انقلابی اقدامات سے سعودی معاشرے میںتیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔
اس وقت سعودی عرب میں حج اور عمرہ سمیت سیاحت کے شعبے سے حاصل ہونے والی آمدنی مجموعی ملکی پیداوار کا تین فیصد ہے لیکن سعودی حکومت وژن 2030کے تحت اسے جی ڈی پی کے دس فیصد تک لے جانے کی خواہاں ہے۔ٹورازم کے سعودی وزیر احمد الخطیب پر عزم ہیں کہ 2030کے آخر تک سعودی عرب دنیا کے دس سب سے زیادہ سیاحتی مقامات والے ممالک میں شامل ہو جائے گا۔ان کے مطابق پچھلے سال 65ملین مقامی سیاحوں نے سعودی عرب میں سیاحتی مقامات کا وزٹ کیا۔سعودی حکومت 2030تک سالانہ بنیادوں پر سو ملین یعنی دس کروڑ سیاحوں کو اپنے ہاں لانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔سعودی حکومت ملکی و غیر ملکی عام سیاحوں اور حج و عمرہ زائرین کیلئے بحیرہ احمر میں کثیر الجہتی سیاحتی منصوبے کو اگلے سال کے آخر تک جزوی طور پر کھولنے جا رہی ہے۔28ہزار مربع کلومیٹر پر محیط یہ سیاحتی میگا پراجیکٹ متعدد جزائراور ساحلوں سمیت صحرائی اور پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے۔تمام فیزز کی تکمیل کے بعد یہ منصوبہ سعودی جی ڈی پی میں سالانہ بنیادوں پر 5.86 بلین ڈالر کے اضافے کا موجب ہو گا۔اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف ایشیائی اور یورپی ممالک کے سیاح سعودی عرب کا رخ کریں گے بلکہ تعطیلات میں دبئی اور بحرین جانے والے سعودی سیاحوں کی اکثریت بھی اپنے ملک کے سیاحتی مراکز کا رخ کرنے کو ترجیح دے گی۔سعودی حکام کے مطابق موسم گرما میں مقامی وغیر ملکی سیاح دبئی جیسے گرم مقام کا رخ کرنے کی بجائے بحیرہ احمر جیسے پرفضا مقام پر سیاحت کو ترجیح دیں گے۔اس میگا سیاحتی منصوبے کے علاوہ سعودی عرب میں سمندر کے بیچ وبیچ تیل کے کنویں کو تفریحی مقام میں تبدیل
کرنے اور صحرائے عرب میں سرسبز جدید ترین سہولیات سے آراستہ شہر بسانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔صحرا میںسو میل طویل ماحول دوست جدید شہر بسانے کے اس منصوبے کی مالیت لگ بھگ 500 ارب ڈالر ہے اور اس کا رقبہ کویت یا اسرائیل کے انفرادی رقبے سے بڑا ہے۔اس شہر کے منصوبہ سازوں کا دعویٰ ہے کہ اس شہر میں سعودی قوانین لاگو نہیں ہوں گے کیوں کہ یہ ایک خود مختار علاقہ ہوگا جس کے نظام کو سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے ڈیزائن کیا جائے گا۔اس جدید ترین شہر میں جہاں ایک طرف اڑنے والی ٹیکسیاں چلانے کا منصوبہ ہے تو دوسری طرف گھریلو کام کاج کیلئے روبوٹس کی خدمات لی جائیں گی۔سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس شہرمیں قابل تجدید توانائی کے زریعے توانائی کی ضروریات پوری کی جائیں گی جس کے لیے یہاں دنیا کے سب سے بڑے گرین ہائیڈروجن منصوبے پر کام جاری ہے۔
سعودی ویژن کے تحت سیاحتی وتعمیراتی شعبوں کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں میںبھی انقلابی اقدامات اور اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔سعودی ویژن 2030کے تحت حکومت ثقافتی وتفریحی شعبوں میں اخراجات کو تین فیصد سے چھ فیصد تک بڑھانے کی خواہاں ہے۔اس مقصد کیلئے ملک بھر میں نئے سینما کھولنے کے علاوہ کنسرٹ، کھیلوں اور دیگر سہولیات کیلئے نئے مقامات بھی کھولے گئے ہیں۔ کھیلوں کے بڑے عالمی ایونٹس کی میزبانی نے سعودی عرب میں سرمایہ کاری اور
روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔’’ارنسٹ اینڈ ینگ‘‘ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں کھیلوں کی صنعت کی مالیت آٹھ فیصدسالانہ بڑھ رہی ہے۔وژن 2030کے اصلاحاتی ایجنڈے کا ایک اور اہم ستون خواتین کے سماجی وثقافتی اور معاشی وسیاسی کردار کو تبدیل کرنا ہے۔سعودی عرب نے کھیلوں میں خواتین کو شامل کرنے کیلئے کئی حکمت عملیاں تیار کی ہیں جن کے نتیجے میں فٹ بال سمیت مختلف کھیلوں میں خواتین کی شرکت 2015 کے مقابلے میں 150فیصد بڑھ گئی ہے۔وژن 2030 کے تحت خواتین کو ڈرائیونگ کرنے، غیر محرم کے ساتھ نوکری کرنے، ماڈلنگ و اداکاری کرنے اور فیشن ویکس میں شرکت کی اجازت ملنے سے سعودی معاشرے میں خواتین کا مقام اور کردار تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ سعودی دارالحکومت ریاض کے علاوہ اب مکہ اور مدینہ جیسے مذہبی تقدس کے حامل شہروں میں بھی خواتین دکانوں کا انتظام سنبھالتے اور ہوٹلز میں بطورمنیجر کام کرتی دکھائی دیتی ہیں۔واضح رہے کہ وژن2030کے تحت 2030 تک دس لاکھ سعودی خواتین کو مختلف شعبوں میں ملازمتوں کی فراہمی یقینی بنائی جانی ہے۔سعودی حکومت کام کی جگہوں پر خواتین پرتشدد اور ہراسانی ختم کرنے کیلئے موثر قوانین بنا چکی ہے۔
دیکھا جائے تو سعودی ولی عہد کا وژن 2030 آنے والے وقت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ سعودی ولی عہد ایک دودہائیوں بعد کے عالمی حالات سے نبرد آزما ہونے کیلئے سعودی معیشت کوتیل کی بیساکھیوں کی بجائے اپنے پائوں پرمضبوطی سے کھڑا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ گرین ہائوس گیسوں کے اخراج کے نتیجے میں ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں میں آنے والی شدت کو دیکھتے ہوئے مستقبل میں پٹرول کی بجائے بجلی سے چلنے والی ٹرانسپورٹ عام ہونے کے امکانات ہیں۔ ایسے امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے اگر آنے والی دہائیوں میں پٹرول کی معاشی قدر کم ہوتی ہے تو تیل پر انحصار کرنے والی سعودی معیشت کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ولی عہد محمد بن سلمان کی پالیسیاں ملک کے بہترین معاشی مفاد میں ہیں۔انہوں نے تیس سے پچاس سال بعد کے عالمی حالات کا ادراک کر کے خود کو دور اندیش سیاسی رہنما ثابت کیا ہے۔آخر میں بس اتنا ہی کہ ایک طرف سعودی عرب کے حکمران ہیں جو ایک دو دہائیوں بعد کی ممکنہ مشکلات کاادراک کرتے ہوئے ملک وقوم کے مفاد میںجانے والے منصوبوں پر عمل پیرا ہیںاور دوسری طرف ہماری حکمران اشرافیہ ہے جو معیشت کا دیوالیہ نکلنے کے خدشات کے باوجود سنجیدہ ہونے کو تیار نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button