Editorial

آڈیو لیکس کی تحقیقات کا آغاز!

 

پاکستان میں سیاسی یااہم سرکاری شخصیات کی ویڈیوز اور آڈیوز منظر عام پر آنا اور اُن کو مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کرنا اب نئی بات نہیں رہی اور خصوصاً چند سالوں میں تو وقفے وقفے سے ایسی ویڈیوز اور آڈیوز منظر عام پر لاکر اُن سے مقاصد حاصل کئے جاتے رہے ہیں لیکن حال ہی میں وزیراعظم ہائوس سمیت اہم مقامات سے کی گئی خفیہ ریکارڈنگ منظر عام پر لانا انتہائی تشویش ناک ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے اِس معاملے پرقومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیاہے ۔ جس میں آڈیو لیک، ملکی سلامتی اور دیگر امور پر بات کی جائے گی۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج بدھ کو وزیراعظم ہاؤس میں طلب کیا گیا ہے جس میں اعلیٰ عسکری اور سول قیادت شریک ہوگی۔ اجلاس میں سیلاب کی صورتحال، سکیورٹی اور دیگر معاملات پر مشاورت ہو گی ساتھ ہی وزیراعظم آفس میں ہونے والی گفتگو کی آڈیو لیک کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا اور یہ معاملہ اِس لحاظ سے بھی تشویش ناک ہے کہ اِس میں وزیراعظم پاکستان سمیت اہم شخصیات کی ریکارڈنگز ہیں اور یہ ریکارڈنگز ڈارک ویب پر فروخت کے لیے رکھی ہیں۔ اِس بات سے قطع نظر کہ گفتگو کن معاملات پر ہوئی، تشویش ناک امر اِن کا ریکارڈ کرنا اور پھر ڈارک ویب پر فروخت کے لیے پیش کیا جانا ہے، جس پریقیناً ایسی ہی تشویش لاحق ہونی چاہیے جیسی تشویش ظاہر کی جارہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اِس معاملے کی نہ صرف صاف اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں بلکہ قومی اداروں کی جانب سے ایسے اقدامات کئے جانے چاہئیں جن کے بعد ایسا کوئی تشویش ناک واقعہ دوبارہ رونما نہ ہو۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے وفاقی وزير داخلہ رانا ثنا اللہ کا اِس معاملے پر موقف سامنے آیا ہے کہ تحقیقات شروع ہو چکی ہیں اور اگر وزیرِ اعظم ہاؤس میں جاسوسی کی غرض سے کوئی آلہ فٹ ہوا تھا تو یہ حساس معاملہ ہوگا لیکن انکوائری میں ہی معلوم ہو گااور نتیجہ آنے تک کسی بات کو سنجیدہ نہ لیا جائے۔ انکوائری ایسی ٹیم سے چاہتے ہیں جس میں تمام ایجنسیوں کے اعلیٰ سطح کے لوگ شامل ہوں۔ ان آڈیوز سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ وزيراعظم ہاؤس کی سکیورٹی بریچ ہوئی ہے، یہ طے نہیں کہ یہ گفتگو وزیرِ اعظم ہاؤس میں ہوئی یا ہو سکتا ہے کسی اور جگہ ہوئی ہو۔ وفاقی وزیر داخلہ کا موقف سامنے آنے سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت اِس معاملے کی وسیع پیمانےپرتحقیقات کے لیے سنجیدہ ہے، مگر تشویش تو اپنی جگہ برقرار رہنی چاہیے کہ ہماری ریاست کے سربراہ کی خفیہ ریکارڈنگ کی گئی اور پھر اِس کو فروخت کے لیے ڈارک ویب سائٹ پر ڈال دیاگیا ہے اور بلاشبہ وزیراعظم ہائوس انتہائی اہم مقام ہے جہاں ملکی سالمیت سے متعلق اہم
اجلاسوں کا انعقاد اور اہم فیصلے ہوتے ہیں اور مستقبل کی منصوبہ بندی اور اُس کا لائحہ عمل بھی طے کیا جاتا ہے، اس لیے اِس آڈیو لیکس کا معاملہ باعث تشویش ہے اوراِس موقف یا اِس سوچ کو قطعی تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ امریکہ اور دیگر ممالک کے سربراہان کی بھی ریکارڈنگز کی جاتی رہی ہیں یا کی جاتی ہیں، ہمیں اپنی ریاستی سلامتی کے معاملات سے متعلق تشویش ہونی چاہیے کہ ہمارے سربراہ مملکت کے ساتھ ایسا کیونکر ہوا ہے اور مستقبل میں ایسا نہ ہو اور ہماری قومی سلامتی اور قومی مفادات سے متعلق اہم فیصلے ہمیشہ کی طرح محفوظ رہیں۔ ہمیں اس واقعے کے بعد سمجھنا چاہیے کہ دنیا کی تیزی سے بدلتی صورت حال کے پیش نظر ملک کی سائبر سکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت ہے، ہمیں اِس محاذ پر بھی بھرپور توجہ دینی چاہیے کیونکہ ہماری قومی سلامتی اور مفادات کا معاملہ ہے، ریاست کی اہم شخصیات کی سائبر سکیورٹی کے لیے خصوصی اور فول پروف انتظامات ہونے چاہئیں اِس کے لیے جلد ازجلد ہمیں متحرک ہونا چاہیے کیونکہ صرف ترقی اور خوش حالی ہی میں ہم ترقی یافتہ ممالک سے بہت پیچھے نہیں بلکہ سائبر ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی ہمیں ان کے ہم پلہ ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ آج انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مثبت اور منفی استعمال اپنے عروج پر ہے۔ پوری دنیا سمٹ کر ایک موبائل فون اور کمپیوٹر میں سما چکی ہے اور ان دونوں آلات کے ذریعے ہر طرح کے مقاصد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ ہمارا اہم ڈیٹا ڈارک ویب تک کیسے پہنچا یقیناً ہمارے اداروں کے پاس یہ سب جاننے کی صلاحیت موجود ہے اور جلد ہی یہ معاملہ بھی کھل کر سامنے آجائے گا لیکن مستقبل میں ایسی تشویش ناک صورت حال پیش نہ آئے اِس کے لیے انتہائی موثر اقدامات کی ضرورت ہے اور مستقبل کے سلامتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ جتنی تیزی کے ساتھ ٹیکنالوجی کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہے اُتنی ہی تیزی سے اُس کا مثبت اور منفی استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر ممالک بھی اپنی سائبر سکیورٹی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں اوربلاشبہ ہماری سائبر سکیورٹی بھی موثر ہے لیکن حالیہ واقعے کے بعد ہمیں اِس جانب مزید توجہ دینا ہوگی کیونکہ سائبر سکیورٹی کے ذریعے یقینی بنایاجاتا ہے کہ کوئی بھی اُن معلومات تک رسائی حاصل نہ کرے جو رسائی حاصل کرنے والے کے لیے نہیں ہوتیں یا قومی سلامتی سے متعلق ہوتی ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ قومی ادارے جلد ازجلد اِس معاملے کی تہہ تک پہنچ جائیں گے اور آئندہ ایسا نہ ہو، اِس کے لیے بھی خصوصی انتظامات کرتے ہوئے سائبر سکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button