ColumnImtiaz Ahmad Shad

نئی غلطیوں سے اجتناب کریں .. امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد

ہماری زندگی وعدوں سے بھری ہوتی ہے۔ ہمیں ہر قدم پر وعدوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اللہ کریم کا ارشاد ہے کہ ہم سے ہمارے وعدوں کے بارے باز پرس ہو گی۔ وعدہ ہمیشہ حال میں ’’مستقبل‘‘ کے بارے میں کیا جاتا ہے اور جب مستقبل حال بنتا ہے تو وعدہ کرنے والا ’’حال‘‘ ماضی بن چکا ہوتا ہے۔ اس طرح بات آئی گئی ہو کر رہ جاتی ہے۔ ہمیشہ عظیم لوگ وہی کہلاتے اور شمار ہوتے ہیں جو اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے ہیں وہ ہر حال میں اپنے دئیے ہوئے الفاظ کو عملی جامہ پہناتے ہیں۔ انسان کی زبان سے نکلا ہوا لفظ ہمیشہ اس کے باطن کا اظہار ہوتا ہے۔ اسی طرح نیات اعمال سے اور اعمال نیابت سے ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ اس سے انسانوں کی پہچان بھی ہوتی رہتی ہے اور ان کی عاقبت بھی مرتب ہوتی جاتی ہے۔اللہ کریم نے اپنے نیک صالح اور راست باز بندوں کی صفت یہ بتائی ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے کرتے ہیں اور جب وہ وعدہ کرتے ہیں تو اسے پورا کرتے ہیں۔جو اپنے وعدوں قول و قراروں کا خیال نہیں کرتے ان میں دین نہیں ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وعدے کی پابندی دین داری کی علامت ہے لہٰذا وعدہ کی خلاف ورزی کرنا دین میں کمزوری کی علامت ہے۔
تخلیق پاکستان بھی ایک وعدہ تھا، خدا کے ساتھ نہ صرف مسلمانان ہند کے ساتھ بلکہ مسلمانان عالم کے ساتھ یہی وعدہ ہمارا آئین ہے بلکہ ہمارا دین ہے۔ اللہ کی دی ہوئی زمین پر، اللہ کے بندوں پر، اللہ کے دین کا نفاذ ہی وہ وعدہ تھا جو پورا ہونا چاہیے تھا۔ اس سے عوام کی زندگیاں بھی کامیاب ہوتیں اور عاقبت بھی سنور جاتی۔ حکمرانوں کا اولین فرض تھا کہ وہ غریب کو مایوس نہ ہونے دیتے اور امیر کو مغرور نہ ہونے دیتے۔تخلیق پاکستان کا مقصد ہی یہ تھا کہ اسلام کے تمام اصولوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ریاست بنیادی کردار ادا کرے گی اور ظالم کو کیفر کردار تک پہنچائے گی جب کہ مظلوم کا سہارا بنے گی۔ ہر شخص کو انصاف ملے گا،کوئی مجرم قانون کی گرفت سے نہیں بچ پائے گا۔ افسوس قرآن کے پیغام اور آئین پاکستان کا ہمیں کوئی پاس نہیں۔سیاست کے میدان میںایسے لوگ اُترے جو قرآن کے پیغام سے بے خبر اور آئین شکنی ان کا مشغلہ تھا۔پاکستانی قوم سے آئین پاکستان میں وعدہ کیا گیا ہے کہ ریاست ہر لحاظ سے شہریوں کے حقوق کی پابند رہے گی، اندرونی اور بیرونی سازشوں سے ملک کو بچانے میں ریاستی مشینری اپنا کردار ادا کرے گی۔آئین میں وعدہ موجود ہے کہ کرپشن،چوری اور ریاست کو نقصان پہنچانے والوں کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔اس وقت ریاست پر سخت معاشی امتحان ہے۔گزشتہ پانچ سالوں سے تواتر کے ساتھ تمام ریاستی مشینری بشمول انصاف کے ادارے واضح کررہے ہیں کہ یہ عناصرملک دشمن ہیں، انہوں نے لوٹ مار کے ذریعے حاصل شدہ دولت بیرون ممالک بھیجی اور وہاں بڑے بڑے محلات تعمیر کئے لہٰذا ایسے افراد کی کوئی معافی نہیں ،انہیں ہر حال میں قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔
بطور ریاست یہ وعدہ کیا گیا کہ قانون اپنا رستہ بنائے گا۔مگر ہوا کیا؟ یا تو یہ عناصر اتنے طاقتور ہیں کہ دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ،طاقتور فوج، آزاد عدلیہ اور تمام ریاستی ادارے ان کے سامنے ہیچ ہیں،یا پھر یہ ماننا پڑے گا کہ ریاست اس قدر مجبور ہو چکی کہ اس کی بقا انہی کے ہاتھوں میں ہے جن کو ملزم سے مجرم اور سزایافتہ سے مفرور ہونے کے باجود باعزت طور پر اسی مقام پر بٹھایا گیا ہے جہاں سے انہیں اتارا گیا تھا۔قوم سے تو ریاست نے وعدہ کیا تھا کہ ان مفروروں کے ہاتھ باندھ کر ،گھسیٹتے ہوئے واپس لایا جائے گا، مگر اس کے برعکس ہاتھ پائوں جوڑ کر پروٹوکول کے ذریعے نظام عدل کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ مارتے ہوئے خزانے کی چابیاں تھما دی گئیں۔سوال یہ ہے کہ اب ریاست کے نظام عدل اور آئین پر کون یقین کرے گا؟جب نظام عدل آئندہ کسی کو سزا و جزا کے عمل سے گزارے گا تو کس طرح لوگ اس کی شفافیت کو تسلیم کریں گے؟ اقوام عالم کو کون یقین دلائے گا کہ جو شخص ملک کے خزانے کو لوٹنے کا مرتکب ہوا اب وہی ہمارے خزانے کا سربراہ ہے تو لہٰذا اس کی بات کو ریاست کی زبان سمجھا جائے؟وہ لوگ جو ہر پل وطن عزیز کو مشکلات سے نکالنے کیلئے پیسے بھجواتے ہیں،اب وہ کیوں کر اس ملک کو پیسہ بھیجیں گے جس کے خزانے پر ایسا فرد لا کر بٹھایا گیا ہے جو خزانے میں جھاڑو پھیر کر چلا گیا تھا۔ جب سے وزیر اعظم ہائوس سے مبینہ آڈیو زلیک ہوئی ہیں ،ایک اور سوال جو میرے ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ کیا دنیا اب ہم پر یہ بھروسہ کر پائے گی کہ ان لوگوں کے ساتھ جو گفتگو ہو گی وہ محفوظ رہ پائے گی؟منظر عام پر آنیوالی گفتگو سے یہی بات واضح ہوئی ہے کہ سب لیڈروں کو اپنے ذاتی کاروبار کی فکر ہے۔ملک سیلاب میں ڈوبے یا آفات کا سامنا کرے انہیں اپنے کاروباری مفادات عزیز ہیں۔ان آڈیو لیکس نے جہاں سیاستدانوں کے تشخص کو نقصان پہنچایا ہے وہاں ریاست کے سکیورٹی اداروں کو بھی مشکوک کر دیا ہے۔ جس کا خمیازہ بطور ریاست ہمیں بد اعتمادی کی شکل میں بھگتنا پڑے گا۔سوچنے والی بات ہے کہ اللہ کریم نے اپنے نیک صالح اور راست باز بندوں کی جوصفات بیان کی ہیں، کیا ان میں سے ایک خوبی بھی ہمارے اندر پائی جاتی ہے؟جب بطور ریاست وعدہ خلافی کرے ،اپنے بنائے ہوئے آئین کے متصادم چلے ، ٹرانس جینڈر ایکٹ پاس کروا کرقہر خداوندی کو دعوت دے تو ایسی ریاست کو کسی بیرونی سازش کی کیاضرورت ہے؟یاد رکھو آپ جتنے مرضی طاقتور ہو، اگر وعدے کا پاس کرنے والے نہیں تو پھر آپ کی دنیا اور آخرت میں کوئی حیثیت نہیں۔اب عدلیہ کا بھی امتحان ہے کہ خزانہ ایسے لوگوں کے حوالے کر دیا جائے گا جو اسی عدلیہ کے بار بار بلانے پر واپس نہ آئے؟ قرآن واضح پیغام دیتا ہے کہ امانتیں ایمان والوں کے سپرد کرو، بد عہد لوگوں کو ذمہ داریوں پر مت بٹھائو۔قوم کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کی تمام حدیں پار ہو چکیں۔جو قوم بد عہدیوں اور بد عنوانیوں کا شکار ہو جاتی ہے نظام قدرت اس کا نشان مٹا دیتی ہے۔اگر زمینی حقائق کو سامنا رکھا جائے تو پاکستان میں چور بازاری سے لے کر ذخیرہ اندوزی تک ،شرفا ء کی پگڑیاں اچھالنے سے لے کر لٹیروں کی حکمرانی تک سب تماشے پوری شدت سے جاری ہیں۔ایسے میں عوام کو خود ساختہ مہنگائی کے طوفان کے سامنے ہاتھ پائوں باندھ کر چھوڑ دیا گیا ہے، تو نتیجہ یقیناً بھیانک ہی نکلے گا۔ابھی وقت ہے نئی ہونے والی غلطیوں سے اجتناب کریں مجرموں کو قانون کے دائرے میں لائیں اور نظام انصاف کو قائم کریں، قوم سے جو وعدے کئے گئے انہیں پورا کریں ورنہ اب کے بار جو بھونچال آئے گا وہ کسی سے نہیں سنبھالا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button