ColumnImtiaz Aasi

جیلوں میں کرپشن کی روداد .. امتیاز عاصی

امتیاز عاصی

انسانی حقوق کی وزارت اور غیر سرکاری تنظیموں کے باوجود جیلوں میں قیدیوں پر تشدد کی شکایات روزمرہ کا معمول بن گیا ہے۔حکومتی سطح پر قیدیوں پر تشدد کے واقعات سے مسلسل صرف نظر سے اعلیٰ عدلیہ کا ایسے واقعات کا نوٹس لینا ضروری ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں انسانی حقوق کے ادارے اپنے فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔متاثرہ افراد اعلیٰ عدلیہ کی طرف اسی صورت میں دیکھتے ہیں جب کسی فورم پر ان کی کہیں شنوائی نہ ہو۔
انگریز سرکار نے جیلیں قیدیوں کوباحفاظت رکھنے کیلئے بنائی تھیں نہ کہ ان پر تشدد روا رکھنے کی خاطر جیلوں کا قیام عمل میں لایا گیا ۔قیدی کسی غیر قانونی حرکت کے مرتکب ہوں تو انہیں سزا دینے کیلئے جیلوں میں قصوری بلاک بنانے کا کیا مقصد ہے؟ایک حوالاتی پر تشدد کی شکایت پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب اطہر من اللہ کو عدالتی کام چھوڑ کر اپنے دیگر جج صاحبان کے ساتھ سنٹرل جیل راولپنڈی کا دورہ کرنا پڑا۔عام طور پر اس طرح کے دوروں کے مواقع پر قیدیوں اور حوالاتیوں کو جیل حکام کی طرف سے کسی قسم کی شکایت کرنے سے منع کر دیا جاتا ہے۔اس دورے کے دوران چیف جسٹس پر جیلوں کے بہت سے راز منکشف ہوئے۔ ایک حوالاتی نے حلف پر بتایا ،اسے ایک بیرک سے دوسری بیرک میں گنتی ڈلوانے کیلئے پندرہ ہزار روپے نذرانہ دینا پڑا۔یوں تو قیدیوں اور حوالاتیوں نے پہلی بار جیل حکام کے خلاف شکایات کے ڈھیر لگا دیئے ۔چیف جسٹس کے دورے کے بعد آئی جی جیل خانہ جات ،ڈی آئی جی اور جیل کے افسران سر جوڑ کر بیٹھ گئے جس کے بعد دس ہیڈ وارڈرز اور سترہ وارڈرز کو ملازمت سے معطل کرنے کے بعد ریجن کی دوسری جیلوں میں ٹرانسفر کر دیا گیا۔عجیب تماشا ہے، ٹرانسفر آرڈرز دیکھ کر حیرت ہوئی بعض ہیڈ وارڈر اور وارڈر دو عشروں سے وقفے وقفے سے اڈیالہ جیل میں تعینات رہے۔ درحقیقت جیلوں کے افسران اور نچلے درجے کے ملازمین کے تبادلوں کیلئے کوئی پالیسی نہیں۔جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے، سنٹرل جیل راولپنڈی کے موجودہ سپرنٹنڈنٹ اعجاز اصغر،جو دوسری مرتبہ یہاں تعینات ہوئے
ہیں گزشتہ پندرہ سالوں سے ماسوائے لاہور اور راولپنڈی کے کسی اور جیل میں تعینات نہیں رہے، جو اس امر کا غماز ہے کہ محکمہ جیل خانہ جات میں افسران اور ملازمین کے تبادلوں کیلئے کوئی واضح پالیسی نہیں ہے۔
یہ بات درست ہے کہ سیاسی ادوار میں تبادلوں کیلئے بہت دبائو ہوتا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک ہی افسر کو بار بار کسی ایک جیل میں لگایا جائے۔ہم جناب چیف جسٹس کے علم میں یہ بات بھی لانا چاہتے ہیں کہ پنجاب کی جیلوں میں سب سے زیادہ سب اچھا سنٹرل جیل راولپنڈی یا کیمپ جیل لاہور میں ہوتا ہے۔ سنٹرل جیل راولپنڈی پورا سال ٹھیکے پر ہوتی ہے، آخر ملازمین نے ٹھیکے کی رقم پورا کرنا ہوتی ہے اس آمدن کا پورا پورا حصہ مبینہ طور پر اوپر تک جاتا ہے۔جناب چیف جسٹس کے دورے سے چند روز پہلے کا واقعہ ہے ایک مانیٹرنگ ٹیم نے اسی جیل میں تلاشی لینے والے ایک ہیڈ وارڈر کی جامہ تلاشی لی تو اس کی جیب سے پچاس ہزار روپے برآمدہوئے جس کے بعد معاملہ لین دین کے بعد رفع دفع ہوگیا۔تعجب ہے آئی جی جیل خانہ جات نے کبھی ڈسٹرکٹ جیل چکوال میں ہونے
والی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی طرف توجہ دینے کی زحمت نہیں کی۔ جہاں حوالاتیوں کو چوبیس گھنٹے بیرکس میں بند رکھا جاتا ہے۔ہمیں تو اس بات کی حیرت ہے کہ موت کی سزا پانے والے قیدیوں کو چوبیس گھنٹوں میں دو گھنٹوں کیلئے چہل قدمی کیلئے کھولا جاتا ہے۔ چکوال کی ضلعی جیل میں حوالاتی چوبیس گھنٹے بند رہتے ہیں۔محکمہ جیل خانہ جات کے اعلیٰ حکام نے کبھی اس طرف توجہ دینے کی کوشش کی؟انسانی حقوق کی وزارت اور این جی اوز کدھر ہیں۔ انہیں چکوال جیل میںحوالاتیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا علم نہیں ہے؟ہیڈ وارڈر ز اور وارڈرز کی سطح کے ملازمین کے اپنے ریجن میں تبادلوں کا اختیار ریجن کے ڈی آئی جی کو ہوتا ہے۔ سفارشی ملازمین آئی جی آفس سے احکامات لے کر من پسند جیلوں میں تعینات ہو جاتے ہیں۔جناب چیف جسٹس کو حیرت ہو گی قریباً تمام جیلیں سال بھرٹھیکے پر ہوتی ہے۔ ہیڈ وارڈرز سطح کے ملازمین جیل کے چکر کا ٹھیکہ لے لیتے ہیں۔ جیل کے موجودہ سپرنٹنڈنٹ نے چارچ سنبھالتے ہی اپنی ملازمت کا زیادہ عرصہ سنٹرل جیل راولپنڈی گذارنے والے ایک ملازم جو اب اسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر ترقی پا چکا ہے، ڈسٹرکٹ جیل اٹک سے خصوصی طور پر اڈیالہ جیل ٹرانسفر کرا کر اسے چکرمیں لگایا جو تحقیق طلب ہے۔ سنٹرل جیل راولپنڈی میں ایک زمانے میں ٹھیکے کی رقم 25 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔لنگر خانوں اور فیکٹری میں کم از کم دو ہزار سے زیادہ قیدیوں کی گنتی ہوتی ہے۔ مشقت کرنےوالے صرف چار پانچ سو قیدی ہوتے ہیں،بقیہ قیدی پانچ سے چھ ہزار روپے ماہانہ ’’سب اچھا‘‘ دے کر مشقت سے جان بخشی کرا لیتے ہیں۔لنگر خانے سے سامان بچا کر واپس سٹور پر چلا جاتا ہے۔ بعدازاں وہی سامان جیل سے باہر دکانوں پر فروخت کرکے رقم اوپر چلی جاتی ہے۔ہمیں یقین ہے آج کل سنٹرل جیل راولپنڈی کے چکر کا ٹھیکہ پندرہ لاکھ سے کم نہیں ہوگا تو کیا ساری رقم سپرنٹنڈنٹ جیل کے پاس چلی جاتی ہے؟حیرت ہے جیل میں ہونے والی کرپشن سے کوئی سپرنٹنڈنٹ لاعلم کیسے رہ سکتا ہے لہٰذا کرپشن کا ذمہ دار کسی ایک کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا ۔حوالاتی کی والدہ کی شکایت ابھی زیر سماعت ہے ۔لہٰذا اس معاملے پر ابھی زیادہ تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔امید تو یہی ہے ۔جیلوں میں اصلاح احوال صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب سیکرٹری داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات کی سطح پر راست باز افسران کا تقرر ہواور جیلوں کے سپرنٹنڈنٹس کے تبادلوں کیلئے باقاعدہ میرٹ پر مبنی پالیسی بنائی جائے اور جیلوں میں ایماندار سپرنٹنڈنٹس کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے ورنہ کرپشن روکنا کسی کے بس کی بات نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button